سیاسی کینگروز

ظہیر اختر بیدری  جمعـء 13 اکتوبر 2017
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

ویسے تو پسماندہ ملکوں کی سیاست بھی پسماندہ ہی ہے لیکن پاکستان کی سیاست جس قدر پسماندہ ہے اس کی مثال شاید دنیا بھر میں نہیں مل سکتی۔ ہمارے انتخابات میں عوام جن جن حوالوں سے تقسیم ہوکر اپنا ووٹ استعمال کرتے ہیں اس سے ملتی جلتی صورتحال ہماری سیاست اور سیاست دانوں کی ہے۔

لسانی سیاست، قوم پرستانہ سیاست، مذہبی سیاست، فرقہ وارانہ سیاست، اشرافیائی سیاست، عوامی سیاست وغیرہ وغیرہ، اس تقسیم شدہ سیاست نے ہمارے ملک اور معاشرے پر جو مضر اثرات چھوڑے ہیں ان میں قومی سیاست دب کر رہ گئی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام کے مسائل 70 سال سے جوں کے توں ہیں، ان میں کمی تو در کنار مستقل اضافہ ہی ہورہا ہے، بائیں بازو کی سیاست کی ناکامی کا ذکر ہوتا ہے تو اس کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے لیڈران کرام نے کیڈر یعنی نوجوانوں کی کاشت نہیں کی، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر سیاسی تقریب میں 60،70 سال کے نوجوان ہی نظر آتے ہیں۔ 20،25 سال کے بوڑھے نظر نہیں آتے۔

یہی صورتحال ہماری سیاست کی ہے، سیاست پر نظر ڈالیں تو یہاں بھی ہر طرف بزرگوں کے میلے ہی لگے نظر آتے ہیں، نوجوان قیادت کا دور دور تک پتہ نہیں چلتا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی زندگی بزرگوں کا اثاثہ بن کر رہ گئی ہے۔

اہم اکیسویں صدی میں زندہ ہیں، ہماری سیاست ان بزرگوں سے بھری ہوئی ہے جو انگریزوں کے نو آبادیاتی دور کے تربیت یافتہ ہیں اور پاکستانی سیاست کو بھی ان ہی خطوط پر چلانا چاہتے ہیں، ہماری سیاست چاند دیکھنے کی لڑائی میں ملک و قوم کو الجھاکر رکھے  ہوئی ہے۔ ملک میں ایک بھی ایسا سیاستدان نہیں ہے جس کے وژن میں چاند پر جانا ہو، زندگی کے دوسرے شعبوں میں کام کرنے والوں کو 60 سال کی عمر میں ریٹائر کردیا جاتا ہے، لیکن سیاست کے شعبے میں ساٹھ سال کی عمر والے بزرگ کو نوجوان سمجھا جاتا ہے اور یہی نوجوان سیاست کی گاڑی کو کھینچ رہے ہیں، انھیں ذرا برابر احساس نہیں ہوتا کہ اب ان کو اصل نوجوانوں کے لیے جگہ خالی کرنا چاہیے۔

دوسرے جمہوری ملکوں میں سیاسی قیادت کے لیے پرائمری سے سفر شروع کرنا پڑتا ہے یعنی بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں حصہ لے کر کامیابی حاصل کرنے کے بعد ان اداروں میں عوامی خدمات کا چار یا پانچ سالہ کورس مکمل کرنے کے بعد انھیں قانون ساز اداروں کے انتخابات میں حصہ لینے کا حق ملتا ہے تا کہ وہ بلدیاتی اداروں میں عوامی خدمات کا تجربہ حاصل کرکے ملک کے قانون ساز اداروں میں جانے کے اہل ہوسکیں۔

ہماری معاشرتی زندگی پر ابھی تک قبائلی اور جاگیردارانہ نظام کی چھاپ لگی ہوئی ہے، انتخابات میں کامیابی کے لیے قبائلی رسم و رواج اور نفسیات کا استعمال ضروری سمجھا جاتا ہے اور اس نفسیات کے ساتھ جب کامیاب ہوکر ہمارے سیاسی اکابرین قانون ساز اداروں میں قدم رنجہ ہوتے ہیں تو ان کے کندھوں پر رنگین رومال یا سر پر رنگین پگڑی ضرور ہوتی ہے۔

کندھوں میں پر رومال اور سروں پر پگڑی ہونا کوئی بری بات نہیں بشرطیکہ ان کی سوچ، ان کی فکر، ان کے نظریات رومالوں اور پگڑیوں سے آزاد ہوں اور وقت کے ساتھ قدم ملاکر چلنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ اس ذہنیت، ان روایات، ان رسم و رواج سے چھٹکارا پانے کے لیے کوئی شارٹ کٹ نہیں بلکہ قبائلی اور جاگیردارانہ نظام سے چھٹکارا ضروری ہے۔ بدقسمتی سے ہماری ’’لبرل سیاسی قیادت‘‘ بھی 60،70 سالہ نوجوان قیادت سے چھٹکارا پانا ضروری نہیں سمجھتی کیونکہ زیادہ عمر کے باوجود یہ بزرگ ایک ووٹ کے مالک ہوتے ہیں اور ضرورت کے وقت یہ ضعیف ووٹ بھی بڑے کارآمد ثابت ہوتے ہیں اور کم قیمت میں دستیاب ہوتے ہیں۔

سیاسی پارٹیوں کی سربراہی ایک بہت بڑی ذمے داری ہے جس کے لیے ہر ملک میں سینئر سیاست دانوں میں سے کسی ایک کو چنا جاتا ہے اور اہلیت کو یقینی بنانے کے لیے پارٹی صدر کا انتخاب کیا جاتا ہے،  لیکن چونکہ ہم پدرم سلطان بود کے فارمولے پر چل رہے ہیں لہٰذا ہم ان ساری جھنجھٹوں میں پڑنا نہیں چاہتے بلکہ خاندان کے کسی ہوشیار بندے کے سر پر پارٹی کی سربراہی کا تاج رکھ دیتے ہیں اور اس تاج کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ جب وہ کسی اہل یا نااہل کے سر پر سوار ہوجاتا ہے تو عموماً یا کوئی آسمانی سلطانی نہ ہو تو مر کر ہی منبر سے اترتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صبح سے شام تک جمہوریت کا راگِ ویتاگ گانے والوں کو یہ علم نہیں کہ پارٹیوں کی صدارت خاندانی نہیں ہوتی بلکہ اس ذمے دارانہ عہدے پر کسی کو لانے سے پہلے خوب چھان پھٹک اور مشاورت کی جاتی ہے اور جنرل باڈی (اصلی) کی میٹنگ میں اسے کثرت رائے سے منتخب کیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی اس جمہوری فارملیٹی کو پورا تو کیا جاتا ہے لیکن اس بھولے انداز میں پورا کیا جاتا ہے کہ اسے دیکھ کر جمہوریت سرنگوں ہوجاتی ہے۔

ہمارے  ملک میں بدقسمتی سے جمہوریت عوام پر مشتمل نہیں ہے بلکہ چند خاندانوں پر مشتمل ہے، ان خاندانوں کے سربراہوں کی کوشش ہوتی ہے کہ پارٹی اور ملک کی سربراہی خاندان سے باہر نہ جائے اس کے لیے سو جتن کیے جاتے ہیں۔ کرائے کے کارکنوں کی بھیڑ جمع کرکے اسے جنرل باڈی یا جنرل کونسل کا نام دیا جاتا ہے اور اس قسم کی جنرل کونسلیں پارٹی کے صدر ہی کا انتخاب نہیں کرتیں بلکہ پارٹی کے اسٹین میں بھی ضرورت کے مطابق ترامیم کرلیتی ہیں۔ دنیا کے کسی جمہوری ملک میں ایسی شاندار جمہوریت دیکھنے کو نہیں ملتی جیسی ہمارے ملک میں 70 سال سے دیکھی جارہی ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے، جب تک عوام میں سیاسی اور سماجی شعور پیدا نہ ہو۔

ہماری اشرافیہ اب تو جنرل کونسل، جنرل باڈی کے جھنجھٹ میں پڑنے کی زحمت بھی نہیں کرنا چاہتی، ہمارے سیاسی کینگرو اپنے پیٹ کی تھیلی میں ایک نہ ایک شہزادے کو بٹھائے رکھتے ہیں اور جب ان کی ضرورت ہو، کینگرو شہزادے کو پیٹ کی تھیلی سے باہر نکال کر مسند صدارت پر فروکش تو ہوجاتا ہے لیکن وہ بڑا سٹپٹایا ہوا ہوتا ہے کہ اب کیا کرے، کیونکہ اس کے پاس تجربے اور سیاسی سوجھ بوجھ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی وہ اسٹیج پر آتا ہے تو بزرگوں کی نقل مار کر عوام اور میڈیا کو متاثر کرنا چاہتا ہے لیکن عوام اور میڈیا متاثر ہونے کے بجائے ہنس کر گزر جاتے ہیں، چونکہ ہر جلسے پر اجتماع کے موقع پر دھیاڑی دار تالیاں پیٹنے والے اور نعرے لگانے والے موجود ہوتے ہیں اور یہ کرائے کی تالیاں اور کرائے کے نعرے ولی عہدوں کو مطمئن کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔

ہمارے جمہوری شہنشاہوں، شاہوں کی شاہی اور شہنشاہی ان کی قابلیت اور صلاحیت سے قائم نہیں رہتی بلکہ اکبر کے نو رتنوں کے دم سے قائم رہتی ہے یہ نورتن ایک وزارت ایک سفارت ایک مشاورت کے بدلے جمہوری شہنشاہوں کو اپنی خدمات فراہم کردیتے ہیں  اور آڑے وقت میں میڈیا اور کانفرنسوں کے ذریعے بھرپور طریقے سے شاہوں کے گناہوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس طرح اکبر اعظم کی شہنشاہی اس کے نورتنوں کے دم قدم سے قائم تھی اسی طرح پاکستان کے اکبر اعظموں کی بادشاہت بھی ان ہی نورتنوں کے دم قدم یا وفاداری سے قائم ہے۔ اگر ان نورتنوں کو ہٹادیا جائے تو بادشاہوں کی بادشاہی دھڑم سے زمین پر آجائے گی ہمارے ملک میں جمہوری بادشاہتیں اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتیں جب تک ہماری سیاست سے سیاسی کینگروز کو باہر نہیں کیا جاتا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔