پی ایس پی میں شامل ہونیوالے 1900 سیاسی کارکنوں کی تحقیقات شروع

کاشف ہاشمی  جمعـء 13 اکتوبر 2017
متحدہ سمیت 12 سیاسی جماعتوں کے کارکن پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہوئے، اداروں نے کوائف جمع کرنے کاکام تیز کر دیا۔ فوٹو: آن لائن

متحدہ سمیت 12 سیاسی جماعتوں کے کارکن پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہوئے، اداروں نے کوائف جمع کرنے کاکام تیز کر دیا۔ فوٹو: آن لائن

 کراچی: کراچی میں آپریشن کی نئی حکمت عملی کے تحت متحدہ قومی موومنٹ و دیگر سیاسی جماعتوں کے عہدیداران وکارکنان کی سرگرمیوں کی جائزہ  لینے کے لیے اہم ادارے حرکت میں آ گئے ہیں۔

اہم سیکیورٹی اداروں نے ایم کیو ایم سمیت 12 سیاسی جماعتوں سے پاک سر زمین پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے 1900 عہدیداروں و کارکنان سمیت متحدہ قومی موومنٹ کے دیگر سیاسی جماعتوں میں شامل ہونے والے عہدیداروں اور کارکنان کی سرگرمیوں کے حوالے سے خفیہ جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔

معلوم ہواہے کہ ان عہدیداروں اور کارکنان کی روز مرہ زندگی کے معاملات ، سیاسی سرگرمیوں و دیگر امور کا جائزہ لیا جا رہاہے، اس رپورٹ کو مرتب کرنے کے بعداس بات کی نشاندہی کی جائے گی کہ مذکورہ عہدیداروں اور کارکنان جرائم اور منفی سرگرمیوں میں ملوث ہیں یا نہیں، جن افراد کے بارے میں رپورٹ منفی ہو گی انھیں قانون کے مطابق گرفتار کیا جائے گا۔

اہم ذرائع نے ایکسپریس کو بتایاکہ متحدہ قومی موومنٹ میں تقیسم کے بعد نئی سیاسی جماعت پاک سر زمین پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم تحقیقاتی اداروں نے اپنی رپورٹس مرتب کرنا شروع کر دی ہیں، الیکشن 2018 کے قریب آتے ہی تحقیقاتی ادارے دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح پی ایس پی کی سیاسی سرگرمیوں کی نگرانی بھی کر رہے ہیں، اس نگرانی کے دوران اس بات کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ ایم کیو ایم سمیت 12سیاسی جماعتوں سے پی ایس پی میں شامل ہونے والے افراد کی موجودہ سرگرمیاں کیا ہیں؟

رپورٹ میں نشاندہی کی جائے گی کہ کون سے عہدیدار یا کارکن ماضی میں کن جرائم میں ملوث رہے ہیں ، آیا کہ وہ ضمانت پرہیں یا بری ہوچکے ہیں ، حالیہ دنوں میں ان کی سرگرمیاں مثبت ہیں یا منفی ، اس لسٹ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا پہلے حصے میں ان کو شامل کیا جائے گا جو مکمل کلئیر ہوںگے۔ دوسرے حصے میں ان کو جو محدود پیمانے پر منفی سرگرمیوں میں ملوث ہیں ، تیسرے حصے میں وہ لوگ شامل ہوں گے جو ماضی کی طرح اب بھی جرائم اور منفی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

لسٹ کے مطابق مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی ، ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران اس بات کو بھی مد نظر رکھا جا رہا ہے کہ پی ایس پی میں شامل ہونے والے افراد آخر پی ایس پی میں ہی شامل کیوں ہوئے ہیں ان کی کیا مصلحت تھی یا کوئی دباؤ تھا۔ ان کارکنان میں کتنے عہدیداران و کارکنان سرکاری ملازمین ہیں اورکن عہدوں پر فائزہیں۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ایم کیو ایم ، ایم کیو ایم حقیقی ، پیپلزپارٹی ، پی ٹی آئی ، مسلم لیگ (ن) ، اے پی ایم ایل ، جماعت اسلامی ، سنی تحریک ، اے این پی ، مسلم لیگ (ق) ، پشتونخواہ ملی پارٹی اور جسقم کے کارکنان و دیگر 1900سے زائد افراد پی ایس پی میں شامل ہوئے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔