نااہل لوگ ہم پر مسلط کیوں ہیں؟

تصور خان  جمعـء 13 اکتوبر 2017
ملک پر نااہلوں کی مسلسل حکمرانی پورے معاشرے کےلیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ملک پر نااہلوں کی مسلسل حکمرانی پورے معاشرے کےلیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

عدالت سے نااہلی اور پھر ترمیمی بل کی منظوری کے بعد میاں نوازشریف پھر سےمسلم لیگ (ن) کے صدر منتخب ہو گئے ہیں اور تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں نے بھی اس بل کی حمایت کرکے خود کے نااہل ہونے کا ثبوت دے دیا۔ لیکن ہمیں سوچنا ہوگا کہ یہ نااہل لوگ ہم پر مسلط کیوں ہوئے؟ ان ہی کی نااہلی کی وجہ سے معیشت تباہ ہوچکی ہے۔ غیر ضروری کاموں پر توجہ تمام تر انسانی اور مادی توانائیوں کو برباد کر رہی ہے۔

شاید حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول ہمارے بارے میں ہی ہے کہ فرمایا چار چیزیں کسی قوم کی پسماندگی کو ظاہر کرتی ہیں: اوّل اصولوں کی پامالی؛ دوم غیر ضروری کاموں پر توجہ؛ سوم نااہل لوگوں کو اقتدار ملنا؛ اور چہارم اہلِ علم و فضل لوگوں کا دور ہونا۔ آج ہماری حالت یہی ہے کہ اقتدار کی ہوس نے تمام تر اصولوں کو پامال کردیا ہے۔

تعلیم و صحت کے شعبے کی ابتر صورتحال کے باوجود میٹرو بس اور اورنج ٹرین کے منصوبے غیرضروری کاموں کے زمرے میں نہیں آتے تو کہاں آتے ہیں؟ جعلی ڈگریاں لینے والے قوم کے کرتا دھرتا ہیں اور اہل علم و فضل لوگ نقل مکانی پر مجبور اور بیرون ملک خدمات سرانجام دے رہے ہیں کیونکہ نااہل لوگوں کو اپنے اردگرد خوشامدی چاہئیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ایک اور جگہ پر حکمرانوں کی نااہلی کے مصادیق کو اس طرح شمار کرتے ہیں: تدبیر کا نہ ہونا، (غیر ضروری منصوبوں پر) فضول پیسہ بہانا، گزشتہ حکمرانوں کے حالات سے عبرت حاصل نہ کرنا، اور ہمیشہ معافی کا طلبگار رہنا۔

یہ تدبیر کا نہ ہونا ہی باعث بنا کہ بہت سارے منصوبے ناکام ہوچکے ہیں۔ ہم نے حکمرانوں کو ہر چھ ماہ بعد لوڈشیڈنگ ختم نہ ہونے پر معافیاں مانگتے دیکھا ہے۔ اور اس سے بڑی فضول خرچی کیا ہوگی کہ توانائی کے دسیوں بنے بنائے پروجیکٹس ضائع ہوچکے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ وزیراعظم ہاؤس کا سالانہ خرچ کروڑوں روپے پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک ایک بیرون ملک دورے پر لاکھوں ڈالر خرچ ہوجاتے ہیں۔ یہ ان کی نالائقی اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں اور نالائق شخص کبھی عقلمند نہیں ہوتا۔

اب ضروری نہیں کہ عقلمند کے مقابلے میں آپ بے وقوف تصور کریں۔ ایسا نہیں کیونکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بقول عقل کے دو بڑے دشمن ہیں جو عقل کو مار دیتے ہیں اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کرلیتے ہیں: ایک نفسانی خواہشات اور دوسری شہوات۔ یہاں شہوت بھی صرف جنسی بھوک کا نام نہیں بلکہ لغوی اعتبار سے شہوت سے مراد اقتدار کی بھوک، شہرت کی بھوک، مخدوم بننے کی بھوک، لیڈر بننے کی بھوک وغیرہ بھی ہے جن کی خاطر انسان سب کچھ قربان کرنے پر تُل جاتا ہے۔ وہ اگر حاکم ہے تو صرف اپنی بھوک مٹانے کےلیے پورے معاشرے اور ملک کو داؤ پر لگا دے گا۔ اسی مناسبت سے سوال اٹھتا ہے کہ آخر کس اخلاقی جواز کی بنا پر ترمیمی بل پاس کیا گیا؟ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے کیوں اس ترمیمی بل کی حمایت کی؟ کیا اقتدار کی شہوت اور بھوک کے علاوہ بھی کوئی سبب تھا؟

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہوا ہے؟ کیا ہمارے مقدر میں اچھے اور عقلمند لیڈر نہیں؟ کہتے ہیں کہ حق اور سچ کڑوا ہوتا ہے جسے قبول کرنے اور سننے کےلیے جگر چاہیے۔ رسول اکرم ﷺ، اہلبیت اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی علیہم اجمعین کے فرامین سے ثابت ہوتا ہے کہ جب لوگ اچھائی کا پرچار نہیں کریں گے اور برائی سے ایک دوسرے کو نہیں روکیں گے اور اختلافات کا شکار رہیں گے تو نتیجہ یہی نکلے گا کہ نااہل لوگ ان پر مسلط ہوجائیں گے۔

آیاتِ قرآنی اور روایات کی شکل میں اسلامی ثقافت کا بیش بہا خزانہ ہونے کے باوجود ہم اپنی پسماندگی کی وجوہ تلاش کرنے میں ناکام رہے کیونکہ ہم نے دین کا بھی سطحی مطالعہ کیا اور اسے دنیاوی مفادات کےلیے استعمال کیا تو پھر کہاں سے پتا چلے گا کہ ہمارے معاشرے کی مشکل کیا ہے؟ ہم دہشت گردی کا شکار کیوں ہیں؟

ہماری بنیادی خرابی جہالت ہے۔ اب جہالت سے مراد بھی صرف ناخواندگی نہیں بلکہ لوگوں کے دلوں کا ایک دوسرے سے دور ہونا اور محبت، ایثار، مہربانی اور فداکاری کے بجائے کینہ، حسد، دھوکہ دہی،عدم برداشت اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد ہونا بھی مراد ہے اور یہی چیزیں ہمارے معاشرے کی تباہی کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ اچھے کاموں کا پرچار نہیں کرتے اور برے کاموں سے ایک دوسرے کو روکتے نہیں۔ آج ان ہی چیزوں کی وجہ سے ہم اس کے مستحق ٹھہرے کہ نااہل لوگ ہم پر مسلط ہوں۔ ہمارے معاشرے کی پسماندگی کے جتنے اسباب تلاش کریں گے، ان کی کڑیاں ان ہی خرابیوں سے جڑی ہوں گی۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ تم ایمان کی بنیاد پر بھائی بھائی بنے تھے، اگر آج جدا ہو تو اس کی وجہ صرف باطن کی خباثت اور خرابیاں ہیں۔ گویا وحدت اور اتحاد سے مراد صرف ایک میز یا سینیٹ یا پارلیمنٹ یا اجتماعات میں مل بیٹھنا نہیں بلکہ یہ دلوں کو ایک دوسرے کےلیے صاف کرنے کا نام بھی ہے، ایک دوسرے کی بھلائی چاہنے کا نام ہے۔ ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کا نام وحدت و اتحاد ہے۔ باقی تمام نعمتیں بھی ان ہی بنیادی چیزوں سے حاصل ہوتی ہیں۔

مثلاً وحدت اور اتحاد ہوگا تو امن ہوگا، امن ہوگا تو انسانی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آئیں گی، ذہنی ٹینشن سے چھٹکارا ملے گا اور عمریں بھی لمبی ہوں گی۔ ہمارے معاشرے کی مشکل یہ ہے کہ دین کے دعویدار بہت ہیں لیکن حقیقی معنوں میں دیندار ملنا مشکل ہوگیا ہے۔ کیونکہ دین نام ہے ایک دوسرے سے محبت کا، حلم اور برداشت کا، ہمدردی اور فداکاری کا، صداقت و ایثار کا اور ایک دوسرے کے احترام کا۔ اگر ان صفات کا حامل شخص مل جائے تو اس دیندار کو میرا سلام۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔