ڈی جی آئی ایس پی آر کو معیشت پر بیانات اور تبصروں سے گریز کرنا چاہیے،احسن اقبال

ویب ڈیسک  جمعـء 13 اکتوبر 2017
غیر ذمہ دارانہ بیانات پاکستان کی عالمی ساکھ متاثر کر سکتے ہیں، وزیر داخلہ ۔ فوٹو:فائل

غیر ذمہ دارانہ بیانات پاکستان کی عالمی ساکھ متاثر کر سکتے ہیں، وزیر داخلہ ۔ فوٹو:فائل

 واشنگٹن: وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو معیشت پر بیانات اور تبصروں سے گریز کرنا چاہیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے معیشت پر تبصروں کے حوالے سے رد عمل دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو معیشت پر بیانات اور تبصروں سے گریز کرنا چاہیے کیوں کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہے اور غیر ذمہ دارانہ بیانات پاکستان کی عالمی ساکھ متاثر کر سکتے ہیں جب کہ آئی ایم ایف پروگرام پر جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ 2013 کے مقابلے میں معیشت بہت بہتر ہے جب کہ ملک میں توانائی کے منصوبوں اور بجلی کی فراہمی سے صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری سے درآمدات پر دباوٴ پڑا ہے مگر قابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی بجٹ پر عمل ہو رہا ہے، ٹیکسوں کی وصولی میں دو گنا سے زائد اضافہ ہوا ہے جب کہ سیکیورٹی آپریشنز کے لئے بھی وسائل فراہم کئے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب دوسری جانب وزیرداخلہ احسن اقبال کے بیان کے رد عمل میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے چیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ احسن اقبال کا آئی ایس پی آر پر لفظی حملہ ناقابل معافی ہے جب کہ پاکستان کی ابتر اقتصادی صورتحال سے دنیا واقف ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ احسن اقبال کا بیان ڈان لیکس کا ایجنڈا ہے اور ان کے بیان کا مقصد مسلح افواج کو بدنام اوربیرونی طاقتوں کوخوش کرنا ہے۔

واضح رہے کہ 2 روز قبل ایف پی سی سی آئی اور آئی ایس پی آر کے اشتراک سے کراچی میں سیمینار ہوا تھا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی خطاب کیا تھا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔