انقلابی

نصرت جاوید  جمعرات 28 فروری 2013
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

کراچی کے بعد اب لاہور میں بھی ایک ادبی میلہ سجایاگیا۔ایک بار پھر اُردو سے زیادہ انگریزی اخبارات میں اس کا بھرپور تذکرہ ہوا۔میں نے البتہ اس مخصوص سیشن کی روداد کو بڑے اشتیاق سے پڑھا جس میں طارق علی نے شرکت کی تھی۔1970ء کے آغاز میں جب میں کالج جانے کی تیاری کرتے ہوئے خود کو انقلابی بنانے کی جلدی میں بھی تھا تو ان صاحب کا بہت ذکر ہوتا تھا۔ہمارے اخبارات میں انھیں لندن میں مقیم پاکستانی طالب علم رہ نما کے طور پر متعارف کروایا جاتا تھا۔اپنی تصویروں میں وہ کافی ہیرو مارکہ نظر آیا کرتے تھے۔

ان کی شخصیت کے بارے میں مزید جاننا چاہا تو مجھے اس زمانے کے چند کٹر انقلابیوں نے بتایا کہ موصوف تو ٹراٹسکی کے پیروکارہیں ۔مجھے اس شخص کے بارے میں کوئی علم نہ تھا۔پنجاب پبلک لائبریری کے ایک دو پھیرے لگانے کے بعد پتہ چلا کہ ٹراٹسکی روسی انقلاب لانے والے کرداروں میں لینن کے بعد سب سے زیادہ اہم سمجھاجاتا تھا۔1917ء کے بعد دونوں کی راہیں ایک دوسرے سے جدا ہوگئیں ۔لینن کا خیال تھا کہ روس میں انقلاب لانے کے بعد اسے اپنے دشمن ممالک خاص طور پر جرمنی کے ساتھ صلح کرنے کے بعد اپنے ملک کی خوشحالی پر توجہ مرکوز کردینا چاہیے۔

ٹراٹسکی کا خیال تھا کہ ایسا کرتے ہوئے لینن سوشلسٹ انقلاب نہیں بلکہ روسی ریاست اور اس کی اشرافیہ کو مضبوط بنائے گا۔ اپنی ریاست کو مضبوط بنانے کے چکر میں اُلجھ کر روس دنیا بھر میں پھیلے ان انقلابیوں کی بھی کوئی مدد نہیں کر پائے گا جو اپنے اپنے حکمرانوں اور استحصالی نظام کے پروردہ لوگوں سے نجات حاصل کرنے کو تیار بیٹھے ہیں ۔’’دنیا بھر کے مزدورو ایک ہو جائو‘‘ کا نعرہ لگانے والا انقلابیوں کا ویسے بھی کوئی وطن نہیں ہوتا۔ان کا معاملہ تو نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر تک کسی مقصد کے لیے ایک ہوجانے والوں کی طرح ہوتا ہے۔

سوشلسٹ انقلاب کو کسی ایک ملک تک محدود رکھنے کے بجائے ٹراٹسکی’’مستقل انقلاب‘‘ کا حامی تھا۔اس کا خیال تھا کہ انقلابیوں کو اپنی نسل اور وطن کی قید سے آزاد ہوکر دنیا کے ہر اس خطے میں پہنچ کر ان لوگوں کی عملی مدد کرنا چاہیے جو استحصالی طبقات کے خلاف جنگ کے فیصلہ کن مراحل میںداخل ہوتے دکھائی دیں۔ بہرحال پھر لینن مرگیا۔اس کی جگہ اسٹالن آیا تو ٹراٹسکی ملک بدر ہوکر میکسیکو چلا گیا ۔وہاں سے کے جی بی کے ایجنٹوں کے ذریعے ’’غدار کی موت ’’ماردیا گیا۔

جب میں ٹراٹسکی کے بارے میں اپنی بساط بھر تحقیق کر چکا توایک دن اخباروں میں خبر آئی کہ طارق علی پاکستان تشریف لارہے ہیں۔مجھے یقین ہوگیا کہ پاکستان میں انقلاب آنے کو تیار بیٹھا ہے ۔اسی لیے تو کئی سالوں سے لندن میں بیٹھا ٹراٹسکی کا پیروکار پاکستان آرہا ہے ۔موصوف 1970ء میں لاہور اترے تو میرے شہر کے کٹر انقلابیوں نے انھیں کوئی خاص لفٹ نہ کروائی۔یہ خبر ضرور ملی کہ راولپنڈی میں ٹراٹسکی کے ایک اور پیروکار ہوا کرتے ہیں ۔گارڈن کالج راولپنڈی کے طالب علم بتائے جاتے تھے ۔نام ان کا راجہ انور تھا۔

ہمیں بتایا گیا کہ وہ طارق علی کے لیے پرجوش حمایتی اکٹھے کرنے میں مصروف ہیں ۔اس کے بعد کیا ہوا مجھے ہرگز پتہ نہیں ۔ہاں 1980ء کی دہائی میں سنجیدگی سے پاکستان کی سیاست پر تحقیق کرتے ہوئے مجھے اتنا ضرور پتہ چلا کہ طارق علی کے پرزور اصرار پر ان کے ماموں سردار شوکت حیات خان نے جو سرسکندر حیات خان آف واہ کے جانشین تھے اپنی کونسل مسلم لیگ کے منشور میں زرعی اصلاحات کے لیے ٹھوس وعدے کرڈالے تھے ۔اس مسلم لیگ کے سربراہ میاں ممتاز دولتانہ 1970ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوجانے کے باوجود بھٹو صاحب کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے لندن ہمارے سفیر بن کر چلے گئے ۔سردار شوکت حیات خان قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف بنے مگر پھر اپوزیشن چھوڑ کر اس وقت کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔

طارق علی اس دوران کیا کرتے رہے؟ مجھے خبر نہ ہوئی۔ہاں ان کی تصاویر ہمارے اخبارات میں ضیاء الحق کا مارشل لاء لگنے کے بعد تواتر کے ساتھ چھپنا شروع ہوگئیں۔موصوف اکثر ان تصویروں میں مرتضیٰ بھٹو اور شاہ نواز کے درمیان کھڑے لندن کے ہائیڈ پارک میں یا وہاں پر پاکستانی سفارتخانے کے باہر بھٹو کی رہائی اور بعدازاں ان کی پھانسی کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں کافی نمایاں نظر آتے ۔محترمہ بے نظیر بھٹو 1982ء میں لندن پہنچیں تو یہ ان سے بھی کافی ملتے رہے ۔مگر کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ طارق علی کے انقلابی معیار پر پورا نہ اُتر پائیں اور یہ ان سے مایوس ہوکر اپنا کام کرتے رہے جو زیادہ تر لکھنے لکھانے یا ڈاکومینٹری فلمیں بنانے کا تھا۔طارق علی نے اسپین میں مسلم اقتدار کے حوالے سے ایک ناول بھی لکھا ہے۔میں نے اسے کئی سال پہلے خریدا تھا۔

جب بھی پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں چند ابتدائی صفحات سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔ہوسکتا ہے بڑا دھانسو ناول ہو لیکن میری ادبی اور علمی بساط سے بالاتر۔ لاہور کے ادبی میلے میں شاید وہ ایسی ہی ادبی تخلیقات لکھنے کی وجہ سے بلائے گئے ہوں گے ۔مگر ان کے سیشن کی انگریزی اخبارات کے لیے رپورٹنگ کرنے والوں نے ہرگز نہیں بتایا کہ طارق علی نے اپنی تقریر میں کونسے ادبی نکات اٹھائے ۔ان کے ایک فقرے کا البتہ بہت چرچا ہوا جس کے ذریعے اپنی جوانی کے زمانے میں ٹراٹسکی کے پیروکار سمجھے جانے والے اس انقلابی نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان کے عوام نے پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کو بہت بھگت لیا۔اب عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کو موقعہ ملنا چاہیے ۔مجھے امید ہے کہ طارق علی خود کو تحریک انصاف کے لیے محض نیک تمنائوں کے اظہار تک محدود نہیں رکھیں گے۔

’’تبدیلی کا نشان‘‘ بنی یہ جماعت آج کل تھنک ٹینکوں کے ذریعے پاکستان کو درپیش متعدد مسائل کے بارے میں اسٹڈی رپورٹس تیار کر رہی ہے ۔طارق علی کو بھی ایسا ہی ایک تھنک ٹینک بنا کر طالبان سے بات چیت کرنے کے بعد انھیں پاکستان کی ریاست اور عوام کے ساتھ ملاکر امریکی سامراج کو شکست دینے کا راستہ بنانا چاہیے۔ طالبان کے عقائد سے قطع نظر وہ امریکا اور اس کے حواریوں کے خلاف وطن اور نسل کی حدود سے بالاتر ہوکر ان دنوں پاکستان سے لے کر یمن اور پھر مالی تک جہد مسلسل کے ذریعے عالمی انقلاب ہی تو لانا چاہ رہے ہیں ۔انھیں طارق علی جیسا دنیا بھر میں مشہور اور آکسفورڈ کی شستہ انگریزی میں لکھنے اور بولنے والا ترجمان مل جائے تو فضاء مزید انقلابی ہوجائے گی ۔تخت اُلٹنا اور تاج اُچھلنا شروع ہوجائیں گے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔