بھارت کو سہ فریقی ٹرانزٹ ٹریڈ کا حصہ نہیں بنائیں گے، پاکستان

علیم ملک  بدھ 18 اکتوبر 2017
دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات معطل ہونے کی صورت میں دوطرفہ تجارت میں مزیدکمی کا خدشہ ہے۔ فوٹو: فائل

دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات معطل ہونے کی صورت میں دوطرفہ تجارت میں مزیدکمی کا خدشہ ہے۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد:  پاکستان نے افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ کوآرڈی نیشن اتھارٹی کا اجلاس یکطرفہ طور پر ملتوی کرنے پر افغانستان سے وضاحت طلب کر لی ہے۔

وزارت تجارت کے ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغانستان میں موجود اپنے ہائی کمشنر سے کہا ہے کہ وہ افغان حکومت سے رابطہ کرے اور ٹرانزٹ ٹریڈ کوآرڈی نیشن اتھارٹی کا اجلاس ملتوی کرنے کی وجوہ دریافت کرے۔

ذرائع نے بتایاکہ پاکستان نے افغانستان پر ایک بار پھر واضح کردیاہے کہ بھارت کو پاکستان افغانستان و ترکمانستان کے درمیان سہ فریقی ٹرانزٹ ٹریڈ کا حصہ بنانے پر اسلام آباد اتفاق نہیں کرے گا اور نہ ہی معاہدے کی رو سے بھارت اس کا حصہ بن سکتا ہے۔ بھارت معاہدے کا حصہ ہی نہیں تو وہ اتھارٹی کا رکن کیسے بن سکتا ہے۔

پاکستان کی جانب افغانستان کو باضابطہ طور پر اپنے موقف سے آگاہ کردیاگیاہے اور اب بال افغانستان کی کورٹ میں ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے متعدد مرتبہ افغان حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کا نظر ثانی شدہ مسودہ پاکستان کے ساتھ شیئر کرے جس پر اتھارٹی کے گزشتہ اجلاسوں میں اتفاق کیا گیا تھا تاہم ابھی تک افغانستان نے مسودہ فراہم نہیں کیا۔

ذرائع نے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات معطل ہونے کی صورت میں دوطرفہ تجارت میں مزیدکمی کا خدشہ ہے جبکہ مختلف وجوہ کی وجہ سے سرحدیں بند رہنے کی وجہ سے بھی دوطرفہ تجارت میں کمی آئی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔