ڈرون حملے میں جماعت الاحرار کے سربراہ عمر خالد خراسانی کی موت کی تصدیق

ویب ڈیسک  جمعـء 20 اکتوبر 2017
عمر خالد خراسانی نے 2014 میں ٹی ٹی پی سے علیحدہ ہوکر جماعت الاحرار کے نام سے علیحدہ تنظیم بنائی تھی۔ فوٹو : فائل

عمر خالد خراسانی نے 2014 میں ٹی ٹی پی سے علیحدہ ہوکر جماعت الاحرار کے نام سے علیحدہ تنظیم بنائی تھی۔ فوٹو : فائل

کابل: کالعدم تنظیم جماعت الاحرار نے گزشتہ دنوں ہونے والے امریکی ڈرون حملے میں اپنے سربراہ عمر خالد خراسانی کی موت کی تصدیق کردی۔

دہشت گردی تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے انحراف کے بعد قائم ہونے والی تنظیم جماعت الاحرار کے ترجمان اسد منصور نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ تنظیم کے سربراہ عمر خالد خراسانی حالیہ دنوں میں افغانستان میں ہونے والے ڈرون حملوں میں بری طرح زخمی ہوگئے تھے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اب چل بسے ہیں۔

قبل ازیں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ پیر کے روز افغان صوبے پکتیا میں ہونے والے امریکی فضائی اور ڈرون حملے میں عمر خالد خراسانی بھی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں تاہم اب جماعت الاحرار کی جانب سے ان کی موت کی تصدیق کردی گئی ہے۔ اسد منصور نے یہ بھی بتایا کہ جلد ہی تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کرنے کے لیے مشاورتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوگا۔

عمر خالد خراسانی کا تعلق بنیادی طور پر مہمند ایجنسی سے تھا جو 2014 میں کالعدم ٹی ٹی پی کے امیر حکیم اللہ محسود کی موت کے بعد تنظیم سے علیحدہ ہوگئے تھے اور جماعت الاحرار کے نام سے اپنی تنظیم قائم کرلی تھی۔ حالیہ برسوں میں پاکستان میں ہونے والے متعدد خود کش دھماکوں کی ذمہ داری جماعت الاحرار کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے جبکہ یہ تنظیم مبینہ طور پر داعش کے ساتھ بھی تعاون کررہی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔