انسانوں کی جینیاتی پروگرامنگ ایٹمی ہتھیاروں سے زیادہ خطرناک ہے، پیوٹن

ویب ڈیسک  اتوار 22 اکتوبر 2017
جینیاتی انجینیرنگ ہی سے ایسا فوجی بھی پیدا کیا جاسکے گا جوسفاک وبے رحم ہوگا، روسی صدر۔ فوٹو: فائل

جینیاتی انجینیرنگ ہی سے ایسا فوجی بھی پیدا کیا جاسکے گا جوسفاک وبے رحم ہوگا، روسی صدر۔ فوٹو: فائل

سوچی: روسی صدرولادی میرپیوٹن کا کہنا ہے کہ انسانوں کی جینیاتی پروگرامنگ نیوکلیئر ہتھیاروں سے زیادہ خطرناک ہے اورغیرذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا تونئی ٹیکنالوجی نیوکلیئرہتھیاروں سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوگی۔

روسی صدر ولادی میرپیوٹن نے سوچی شہر میں نوجوانوں اورطلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانوں کی جینیاتی پروگرامنگ نیوکلیئر ہتھیاروں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوگی، جینیاتی انجینئرنگ دواسازی سمیت کئی شعبوں میں انتہائی سودمند ہے جس سےمخصوص صلاحیتوں کےحامل انسان بھی بنائےجاسکیں گے، جینیاتی انجینئرنگ ہی سے ایسا فوجی بھی بنایا جاسکے گا جو جذبات سے عاری، سفاک و بے رحم ہوگا اور تکلیف و شرمندگی محسوس نہیں کرسکے گا۔

روسی صدر کا مزید کہنا تھا کہ جینیاتی انجینیرنگ سےذہین ترین ریاضی دان اورماہرموسیقی بھی پیدا کیے جاسکیں گے، انسانیت ایسےدورمیں داخل ہورہی ہےجہاں انتہائی ذمےداری کی ضرورت ہے، نئی ٹیکنالوجی کااستعمال کرتےہوئےانسانی اقدارکاخیال رکھناانتہائی ضروری ہے جب کہ غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا تونئی ٹیکنالوجی نیوکلیئرہتھیاروں سے زیادہ تباہ کن ہوگی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔