قابل رحم قوم

مقتدا منصور  پير 23 اکتوبر 2017
muqtidakhan@hotmail.com

[email protected]

جدید عربی زبان کے قادرالکلام شاعر خلیل جبران کی شاعری فکر و حکمت کے نئے دریچے کھولتی ہے۔ اس کے ہر مجموعہ نے عالمی سطح پر قبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے، لیکن جو دائمی شہرت اس کے مجموعہ ’’النبی‘‘ کو حاصل ہوئی، وہ شاید ہی اب تک کسی ادبی تحریر کو ملی ہو۔

اس مجموعہ کا دنیا کی تقریباً ڈیڑھ سو کے قریب زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ اسی دوران اس کی ایک اور معرکۃ الآرا نظم Pitty the Nation منظرعام پر آئی، جس کا اردو ترجمہ ’’قابل رحم ہے وہ قوم‘‘ کیا گیا ہے۔ اس نظم نے بھی عالمی سطح پر متوشش شہریوں کے ذہنوں میں کھلبلی مچادی اور مقبولیت کی نئی داستان رقم کی۔ گو کہ جبران قیام پاکستان سے بہت پہلے 1931ء میں نیویارک میں محض 48 برس  کی عمر میں انتقال کرگیا تھا، مگر اس نظم کو پڑھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے یہ پاکستان کی سیاسی، سماجی، معاشی اور انتظامی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تخلیق کی گئی ہے۔ آئیے پہلے نظم پڑھتے ہیں، پھر آگے بات کرتے ہیں۔

قابل رحم ہے وہ قوم، جس کے پاس عقیدے تو بہت ہوں، مگر دل یقین سے خالی ہو۔

قابل رحم ہے وہ قوم، جو مانگے کی روٹی کھاتی ہو اور دوسروں کی کشید کردہ شراب سے لطف اندوز ہوتی ہو۔

قابل رحم ہے وہ قوم، جو باتیں بنانے والوں کو اپنا سب کچھ سمجھ لیتی ہو۔

قابل رحم ہے وہ قوم، جو بظاہر عالم خواب میں بھی ہوس اور لالچ سے نفرت کرتی ہو۔

مگر عالم بیداری میں مفاد پرستی کو اپنا شعار بنالیتی ہو۔

قابل رحم ہے وہ قوم، جو جنازوں کے جلوس کے سوا کہیں اور اپنی آواز بلند نہیں کرتی۔

اور ماضی کی یادوں کے سوا اس کے پاس فخر کرنے کا کوئی سامان موجود نہ ہو۔

وہ اس وقت تک احتجاج نہیں کرتی، جب تک اس کی اپنی گردن عین تلوار کے نیچے نہیں آجاتی۔

قابل رحم ہے وہ قوم، جس کے نام نہاد سیاستدان لومڑیوں کی طرح مکار اور دھوکے باز ہوں۔

اور جس کے دانشور شعبدہ باز اور مداری ہوں۔

قابل رحم ہے وہ قوم، جو نئے حکمرانوں کو ڈھول بجاکر خوش آمدید کہتی ہو۔

اور اقتدار سے محروم ہونے پر ان پر آوازیں کستی ہو۔

جس کے اہل علم و دانش وقت کی گردش میں گونگے اور بہرے بن کر رہ گئے ہوں۔

جبران نے اپنی نظم میں جس قوم یا معاشرے کا تذکرہ کیا ہے، وہ کم از کم 88 برس قبل رہا ہوگا، کیونکہ 86 برس تو اس کے انتقال کو ہوگئے۔ لیکن نظم پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا ہوتا ہے، جیسے وہ ہمارے اپنے گھر کا منظر پیش کررہا ہو۔ نظم کا ایک ایک مصرعہ ہر اس شخص کے سینے میں نشتر کی طرح چبھتا ہے، جو دردمندانہ دل رکھتا ہے۔ بے حسوں پر تو خیر اس سے زیادہ چبھتا اور تلخ کلام بھی اثر نہیں کرتا۔ کیونکہ ان کی مثال اس چکنے گھڑے جیسی ہے، جس پر پانی نہیں ٹھہرتا۔

آج وطن عزیز کی سیاسی، سماجی اور انتظامی صورتحال پر نظر ڈالیں، تو خلیل جبران کا ہر مصرعہ بلکہ ہر لفظ ہمیں آئینہ دکھاتا نظر آتا ہے۔ آئین و قانون کی باتیں سبھی کرتے ہیں، مگر اس پر عملدرآمد سے دامن بچاتے ہیں۔ سیاستدان اگر عزم وبصیرت سے عاری ہیں، تو ریاستی ادارے بے نتھے بیل بنے ہوئے ہیں۔ یوں اپنی اپنی اناؤں کے خول میں بند حکمران اشرافیہ ایک دوسرے کے ساتھ دست وگریبان ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عوام کو سیاستدانوں پر اعتماد رہا ہے اور نہ ہی عدلیہ سمیت کسی دوسرے ریاستی ادارے پر اعتبار کرنے پر آمادہ ہیں۔

حکمرانوں کے اس غیر ذمے دارانہ طرز عمل کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ پورا معاشرہ مذہبی شدت پسندی اور متشدد فرقہ واریت کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ نسلی و لسانی تفاخر نفرتوں کو فروغ دے رہا ہے۔ اچھے برے کی تمیز، برداشت اور رواداری جیسی صفات قصہ پارینہ ہوچکی ہیں۔ ہر شخص بزعم خود صحیح اور دوسروں کو غلط سمجھتے ہوئے، ان کی تذلیل پر آمادہ رہتا ہے۔ لہٰذا نفرتوں اور متشدد رویوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جسے جہاں موقع مل رہا ہے، طاقت کے بے جا استعمال سے گریز نہیں کررہا۔ عقیدہ سیاسی و سماجی مفادات کے حصول کا ذریعہ بن چکا ہے۔

اس صورتحال نے پورے معاشرے کو زد پذیر (Fragile) بنا کر رکھ دیا ہے۔ مگر کسی کو اس بات کی پرواہ نہیں کہ عوام کن مشکلات و مصائب میں گھرے ہوئے ہیں۔ اور دنیا ہمارے بارے میں کیا رائے رکھتی ہے۔ نہ ہی ملک کو ان مسائل و مصائب سے نکالنے پر توجہ دی جارہی ہے، جو بحرانی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں۔

کس قدر حیرت کی بات ہے کہ جس ملک میں انواع و اقسام کی اجناس پیدا ہوتی ہوں، اس ملک کے ساڑھے پانچ کروڑ بچے خوراک کی قلت کا شکار ہوں۔ 63 فیصد بچے ہر سال اسکولوں میں داخلے سے محروم رہ جاتے ہوں۔ 80 فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہ ہو۔ عام شہریوں کی طبی سہولتوں تک رسائی نہ ہو۔ حاملہ عورتیں سڑکوں اور رکشاؤں میں بچنے جننے پر مجبور ہوں۔ 35 فیصد بچے اپنی پہلی سالگرہ منانے سے قبل اس لیے دنیا سے رخصت ہوجاتے ہوں، کیونکہ ان کے والدین کے پاس انھیں مناسب غذا اور ادویات دینے کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔

کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ وہ ملک جو دنیا کے چند بہترین کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہو، عالمی سطح پر اس کی نہیں بلکہ بنگلہ دیش، ویت نام اور تائیوان کے گارمنٹس کو قبولیت حاصل ہو۔ جب کہ یہ ممالک کپاس بھی پیدا نہیں کرتے۔ وہ ملک جس کے پہاڑوں کے سینوں میں اعلیٰ درجہ کی معدنیات چھپی ہوں، وہ ملک عالمی اور قومی مالیاتی اداروں کے قرضوں میں جکڑا ہوا ہو۔

وہ ملک جس نے اپنے قیام کے دس برسوں کے اندر حیرت انگیز طور پر صنعتی ترقی کا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہو اور صنعتی شرح نمو 1965ء تک ترقی پذیر ممالک میں سب سے زیادہ ہو، اس کی صنعتیں اس درجہ روبہ زوال ہوجائیں کہ تجارتی خسارہ آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ کیا کبھی کسی نے اس پہلو پر غور کرنے کی زحمت گوارا کی صنعتی ترقی کا پہیہ رک جانے کا سبب کیا ہے اور کون اس کا ذمے دار ہے؟ وہ ملک جس کی کرنسی کی قدر پڑوسی ملک بھارت کی کرنسی سے زیادہ تھی، کیوں کر اس کا نصف رہ گئی؟

شاید ہم بے حسی کے اندھیرے غار میں اوندھے پڑے ہیں اور باہر نکلنے سے ڈرتے ہیں۔ شاید اندھیرے ہمیں اس قدر مرغوب ہوگئے ہیں کہ ہمیں روشنیوں سے ڈر لگنے لگا ہے۔ شاید ہم تہذیبی نرگسیت اور ماضی کی یادوں کے سحر میں ایسے گرفتار ہوچکے ہیں کہ ایک ایسے بیانیہ پر اصرار کررہے ہیں، جو ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ ہمیں یہ بھی اندازہ نہیں سرد جنگ ختم ہوگئی، اس لیے اس کی تزویراتی حکمت عملی بھی قصہ پارینہ ہوئی۔ شاید ہمیں یہ بھی اندازہ نہیں کہ دنیا میں اب دو قطبیت کی جگہ کثیر القطبیت نے لے لی۔ کیونکہ ہم آج بھی ’’زمیں جنبد، نہ جنبد گل محمد‘‘ کے مصداق اپنی پرانی روش پر اڑے ہوئے ہیں۔

اگر ہم جدید دنیا کے ساتھ قدم ملاکر چل نہیں سکتے تو کم از کم مخالف سمت چلنے کی تو کوشش نہ کریں۔ اگر ہم ہمہ دینیت کی راہ اختیار نہیں کرسکتے، تو مذہبی اقلیتوں سے جینے کا حق چھیننے کی تو کوشش نہ کریں۔ مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بقول خلیل جبران ہم وہ قابل رحم قوم ہیں، جو باربار ٹھوکریں کھانے کے باوجود عقل و دانش اور فہم وفراست کی راہ اپنانے پر آمادہ نہیں ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔