ن لیگ کا لندن اجلاس

ایڈیٹوریل  بدھ 1 نومبر 2017
ہر سیاست دان دوسرے کی کردار کشی سے دن کا آغاز اور کسی کی سیاسی تدفین پر شام کر دیتا ہے۔فوٹو: فائل

ہر سیاست دان دوسرے کی کردار کشی سے دن کا آغاز اور کسی کی سیاسی تدفین پر شام کر دیتا ہے۔فوٹو: فائل

مسلم لیگ (ن)کی قیادت نے پیر کو لندن میں منعقدہ اہم اجلاس میں مائنس نواز فارمولا کو مسترد کرتے ہو ئے واضح کیا ہے کہ نواز شریف ہی پارٹی کے صدر رہیں گے، مائنس نواز فارمولے کے خلاف مزاحمت کی جائے گی جب کہ ملک میں کوئی ماورائے آئین اقدام قبول نہیں ہوگا، پارٹی صدر نوازشریف احتساب عدالت میں پیش ہونگے جب کہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ (ن) لیگ میں نہ تو کوئی تقسیم ہے اور نہ کوئی مائنس نواز فارمولا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر و سابق وزیر اعظم نوازشریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیرخارجہ خواجہ آصف، اسحاق ڈار اور نوازشریف کے دونوں صاحبزادے حسن اور حسین نواز نے شرکت کی۔

بلاشبہ لندن اجلاس کے حوالے سے ملکی سیاست میں افواہوں کا ایک طلسم ہوشربا کھلا اور طرح طرح کی کہانیاں، تجزیے، اور پیشگوئیاں گردش میں آگئیں، ایک اضطرابی کیفیت میڈیا کے پر شور ٹاکس کی وجہ سے بھی پیدا ہوئی ہے، اندازوں کا گھناؤنا چکر چل رہا ہے، بعض سیاستدانوں نے عدالتی سماعتوں پر بھی تبصروں کی ناخوشگوار روایت ڈالی ہوئی ہے، ہر لحظہ یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کل نہ معلوم کیا فیصلہ آجائے۔

ادھراپوزیشن جماعتوں کا کہنا تھا کہ لندن میں ن لیگی رہنماؤں کا اجتماع مناسب نہیں تھا، ملکی سیاست سے متعلق ایشوز ملک کے اندر ہی ڈسکس ہونے چاہئیں، مگر دیکھا جائے تو داخلی سیاسی مکالمہ اور روادارانہ جمہوری ڈائیلاگ کی اسپیس کس نے کم کی، اس میں خود سیاستدان مورد الزام ٹھہرائے جا سکتے ہیں، اصل مسئلہ دلائل کے فقدان کا ہے، میڈیا دنگل کے باعث سیاسی بلوغت سکڑتی جا رہی ہے، لب و لہجے درشت،اشتعال انگیزی کی انتہا تک پہنچے ہوئے ہیں، ہر سیاست دان دوسرے کی کردار کشی سے دن کا آغاز اور کسی کی سیاسی تدفین پر شام کر دیتا ہے، یہ جمہوری رویہ اور ریاستی اداروں کی تقدیس کا عملی مظاہر تو نہیں، جمہوریت اظہار رائے اور حسن اختلاف کی آئینہ داری سے عبارت ہے۔

بہر حال لندن اجلاس کے حوالہ سے اس استدلال کا سبب بھی لندن پلانوں کی وہی گھسی پٹی سیاہ تاریخ ہے کیونکہ ہمارے کئی ملکی فیصلے نام نہاد ’’لندن پلان‘‘ کا شاخسانہ رہے، تاہم ن لیگ رہنماؤں کے اجلاس کا خوش آیند پہلو اس اعتبار سے صائب پیغام کے ساتھ سامنے آیا ہے کہ اس میں ملکی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کوئی جارحانہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا، خبریں آ رہی ہیں، تاہم ذرایع کے مطابق اجلاس کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان نے ہیتھرو ایئرپورٹ پر وطن واپس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف احتساب عدالت کے سامنے پیش ہوں گے، این اے 120 میں کوئی نیا الیکشن نہیں ہوگا، عام انتخابات جولائی 2018میں ہوں گے۔

ن لیگ کی جانب سے ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز پائی کا مثبت اور ملکی اداروں سے عدم تصادم کا عندیہ بھی موجود ہے، باقی جو کچھ ہے وہ کسی بھی سیاسی پارٹی کے سروائیول کا مسئلہ ہے۔ بلاشبہ ن لیگ کو ایک اعصاب شکن قانونی مسافت کا سامنا ہے، شریف خاندان کو ایک قانونی جنگ لڑنی ہے اور وہ بھی قانونی استدلال، شہادتوں، گواہوں، دستایزات اور غیر معمولی دلائل کی بنیاد پر، چنانچہ نواز شریف اور ن لیگی قیادت کے لیے صائب مشورہ یہی ہو سکتا ہے کہ اگر ٹرائل کو وہ فئیر نہیں سمجھتے تو اس کا ازالہ بھی عدالتی اور قانونی راستوں سے ممکن ہے، سیاستدان عدالتی معاملات کا جواب عدالت میں دیں، الزام تراشی، دھونس، دھمکی، دھاندلی کی سیاست کسی کے مفاد میں ہر گز نہیں ہو گی۔

لہٰذا سیاسی رہنماؤں کو خطے کے حالات کو ملکی سیاسی، عدالتی، معاشی اور تزوایراتی تناظر سے الگ نہیں رکھنا چاہیے، ہر سیاسی جماعت ملکی سالمیت، عوام کی فلاح و بہبود اور قومی شیرازہ بندی کی ذمے دار ہے، سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں، اس لیے چپو ایک دوسرے کے سر پر مارنے سے بہتر یہ ہے کہ جمہوری سفینہ کو ساحل مراد پر لانے کی کوشش کی جائے، بے سمت سیاسی ناخدائی سے اجتناب وقت کا اولین تقاضہ ہے جب کہ بیشتر غلط سیاسی فیصلوں سے افضل ترین حکمت عملی سیاسی مکالمہ ہے۔ یہ امید افزا پیش رفت ہو گی کہ ن لیگ کے اندر کی سیاسی کشمکش سے متعلق قیاس آرائیوں کا جواب بھی مناسب انداز میں دیا جائے، یا متبادل ترجیحات کا باب بھی اوپن ہو، عدلیہ سے محاذ آرائی کا باب بند ہونا چاہیے۔

یہ مہم جوئی خود کشی کے مترادف ہے، ادراک کیجیے کہ ریلیف بھی عدالت ہی دے گی۔ ماورائے آئین اقدامات کا جہاں تک تعلق ہے تو سیاستدانوں سمیت ملک کے تمام فہمیدہ حلقے آزاد عدلیہ کے حالیہ کردار، جمہوری عمل کی غیر مشروط حمایت اور اداروں کے تحفظ کے لیے اس کی  پیش قدمی کا گہرا ادراک رکھتے ہیں، عدلیہ جمہوریت، شفاف حکمرانی، آزادی اظہار اور سیاسی رواداری کی پشتی بان ہے، ادھر دہشتگردی اور بیرونی عوامل اور دشمن قوتوں سے نمٹنے میں عسکری قیادت سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنی ہے، سیاست دان ہوش کے ناخن لیں، آسمان سر پر اٹھانے سے عوام کے دن نہیں بدلیں گے، حقیقت یہ ہے کہ سیاسی درجہ حرارت کم کر کے ملکی بحران کا کوئی ٹھوس حل نکالا جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔