تصوف کیا ہے ؟

سعد اللہ جان برق  بدھ 1 نومبر 2017
barq@email.com

[email protected]

تصوف کا موضوع  بڑا  وسیع  ہے۔ اخباری کالم کا تنگنائے اس کے لے بہت کم ہے لیکن کوئی اور ذریعہ بھی ہمارے پاس نہیں ہے،تصوف کی اصل بنیاد پر کوئی بات نہیں کرتا بلکہ جہاں تک ہم نے دیکھا سنا اور پڑھا ہے، کم لوگ ہی اصل بنیاد سے واقف ہیں۔ تصوف  ایک انتہائی ہم گیر کا ئناتی حقیقت ہے ۔ ’’ تصوف ‘‘ کو  ہم ’’ آدمیت ‘‘ کا  نام بھی دے سکتے ہیں۔ آدمیت بالمقابل ابلیسیت ۔ یہی تصوف کا اصل مفہوم ہے جسے ہم خیر اور شر کا نام بھی دے سکتے ہیں۔

تصوف کی حقیقت ماہیت اور بنیاد کے لیے ہمیں اس کائنات کی ماہیت پر غور کرنا ہوگا۔ انسان اس عظیم وبسیط کائنات کے مقابل کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ انسان ایک ’’جزو‘‘ ہے اور کسی جزو کے لیے ’’کل ‘‘ کا احاطہ کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ تھوڑا سا اندازہ انسان کی بضاعتی کا یوں لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کرہ ارض یا زمین جس پر ہم رہ رہے ہیں اس سامنے والے سورج کے خاندان کا ایک رکن ہے جس میں نویا دس سیارے اور بھی موجود ہیں ،اپنے چاندوں کے ساتھ۔

انسان ابھی تک اپنے اس گھر اس خاندان کے سیاروں تک نہیں پہنچ پایا ہے اور کائنات میں صرف یہی ایک نظام شمسی نہیں ہے بلکہ سوارب کے لگ بھگ دوسرے سورج بھی اپنے اپنے خاندانوں سمیت صرف اس سامنے والی کہکشاں میں شامل ہیں جس میں ہم موجود ہیں اور اسے دودھیا یا ملکی وے کہکشاں کہا جاتا ہے ، اس طرح کی کہکشائیں اس کائنات میں سوارب اور بھی ہیں بلکہ کوئی چار پانچ مہینے پہلے ایک امریکی سائنس دان نے کہا ہے کہ یہ کہکشائیں اور سورج اس سو ارب والی تعداد سے آٹھ گنا زیادہ بھی ہو سکتے ہیں لیکن پرانے حساب کے مطابق بھی دیکھیں تو کائنات میں سو ارب دوسری زمینیں بھی ہو سکتی ہے جن میں ہو سکتا کہ ہماری طرح ذی روح مخلوق بھی ہو۔

ایک اور حساب سے دیکھیں تو کائنات کا فاصلہ پندرہ کھرب نوری سال بتایا جا تا ہے۔ نوری سال تو ہر کسی کو معلوم ہے کہ روشنی ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل سفر کر سکتی ہے اور سال میں جتنا فاصلہ طے کرتی ہے اسے نوری سال کہتے ہیں۔ اب پندرہ کھرب نوری سال کا فاصلہ طے کرنے کے لیے انسان کے پاس کوئی ذریعہ نہیں، روشنی وہ بن نہیں سکتا اور اگر بنے گا تو راکھ ہو جائے گا ۔ او ر پھر اس کی عمر ؟ پوری انسانیت کی عمر اس وقت آٹھ دس ہزار سال سے زیادہ نہیں ہے ۔

خلاصہ یہ کہ انسان اس عظیم بسیط بے کراں و بے حد و بے کنار کائنات کے مقابل کچھ بھی نہیں ہے لیکن پھر  خود رب عظیم نے اس کے سر میں دماغ نام کا  یہ جو پاؤ بھر کا عضو فٹ کیا ہو ا ہے وہ انتہائی متجس ہے ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم بھی ہے کہ اے انسان غور کرو فکر کرو کائنات پر زمین پر سورج چاند ستاروں پر پہاڑوں پر دریاؤں پر، ہر چیز پر غور کرو، سوچو اور اپنا علم بڑھا تا کہ تم مجھے جان اور پہچان سکو۔

بہر حال کائنات سے متعلق مکمل جانکاری تو انسان کے لیے ممکن نہیں ہے لیکن پھر بھی رب جلیل کی ہدایت پر جتنا غور و فکر انسان نے اپنی بضاعت کے مطابق کیا ہے اس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کائنات کی بنیاد دو ستونوں ، دو پایوں اور دو چیزوں پر ہے اور وہ چیزیں منفی اور مثبت ہیں۔ اگر کوئی بھی چیز مثبت ہے تو اس کا منفی اور متضاد بھی یقینا ہوگا اور اگر منفی ہے تو اس کا مثبت بھی یقینا ہوگا جیسے خیر کے مقابل شر، روشی کے مقابل اندھیرا ، اوپر کے مقابل نیچے، نرم کے مقابل سخت،  بڑے کے مقابل چھوٹا، میٹھے کے مقابل کڑوا ، سفید کے مقابل سیاہ، نر کے مقابل مادہ ۔

یہ دونوں متضاد اور منفی مثبت ایک دوسرے کے مخالف ہوتے ہیں لیکن ایک دوسرے کے معاون بھی ہوتے ہیں اور پہچان بھی ہوتے ہیں۔ جب یہ دونوں اپنے معروف طریقے پر ملتے ہیں یا متصا دم ہوتے ہیں تو نئی پیدائش یعنی تیسری چیز وجود میں آتی ہے۔

اس منفی مثبت کو عربی میں تنویت کہتے ہیں، انگریزی میں ڈوئلزم ،ہندی فلسفے میں ادوتیاواد ۔اور کنگ فوتسے یا کنفیوشن کے چینی فلسفے میں ین اور ینگ کہتے ہیں، سائنسی زبان میں نیگٹیو، پازٹیوکہا جاتا ہے ۔ تصوف کو اگر ہم ’’ خیر ‘‘ کو پازٹیوکا نام دیں تو سب سے بہتر ہوگا جب کہ نیگیٹیو کو شر سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔

آدمیت اور ابلیسیت یا خیر و شر یا کائناتی مثبت اور منفی سمجھنے کے لیے ہمیں اس کائنات کی بنیاد کو سمجھنا ہوگا۔ رب عظیم کے حکم کے مطابق انسان نے اپنی بضاعت اور استعداد کے مطابق کائنات پر جتنا غور و فکر کیا ہے، اس کے مطابق پوری کائنات اس کی موجودات اور سلسلہ تخلیق و تکوین کو سمجھنا تو انسان کے لیے ممکن نہیں لیکن جتنی استعداد رب جلیل نے اس کو دے رکھی ہے اس کے مطابق اس کائنات کی بنیاد اسی منفی و مثبت پر ہے ۔اور یہ منفی و مثبت کی بنیاد سائنس و طبعیات نے تو اب کوئی تین چار سو سال قبل معلوم کی ہے لیکن قرآن عظیم الشان نے چودہ پندرہ سو سال قبل اس کا ذکر زوج یا ازواج کے نام سے کیا ہے ۔

(جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔