ارکان پارلیمنٹ کا کام سڑکیں ٹھیک کرنا نہیں قانون سازی ہے، سپریم کورٹ

نمائندہ ایکسپریس  بدھ 1 نومبر 2017
قتل کے ملزم کی سزامیں کمی کی درخواست سماعت کیلیے منظور،سندھ پبلک سروس کمیشن کیس جلدسننے کی درخواست دائر۔ فوٹو: فائل

قتل کے ملزم کی سزامیں کمی کی درخواست سماعت کیلیے منظور،سندھ پبلک سروس کمیشن کیس جلدسننے کی درخواست دائر۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قانون وانصاف کمیشن کی جانب سے ملکی قوانین میں ترمیم کیلیے دی گئی سفارشات پر عملدرآمدنہ ہونے پر لیے گئے ازخود نوٹس میں کہا ہے کہ اراکین پالیمنٹ کاکام سڑکیں، گلیاں، سیوریج ٹھیک کرنا نہیں بلکہ قانون سازی ہے۔

جسٹس اعجازافضل خان اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی اورحکومت کی جانب سے رپورٹ پیش نہ کرنے پر افسوس کااظہارکیا۔ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا 8 سال کاطویل عرصہ گزرچکا ہے لیکن ترامیم کیلیے دی گئی سفارشات پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ، ترمیم پر عملدرآمد نہ ہونے پر اب کیا کہیں۔

جسٹس اعجازالا حسن نے کہاایک کے بعد ایک رپورٹ وقت گزاری کیلیے پیش کی جاتی ہے لیکن کوئی پیشرفت ظاہر نہیں ہوتی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل سہیل محمود نے موقف اپنایا کہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن کی طرف سے قوانین میں مجوزہ ترامیم متعلقہ وزارتوںکو بھجوا دی جاتی ہیں۔عدالت نے مزیدسماعت ایک ہفتے کیلیے ملتوی کردی۔

جسٹس مشیر عالم اور جسٹس دوست محمد خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سوات میں غیرت کے نام پربہو اوراس کے مبینہ آشنا کو قتل کرنے کے مقدمے میں گرفتار75سالہ ملزم باچا رحمان کی سزا میں کمی کی درخواست سماعت کیلیے منظورکرلی۔

جسٹس دوست محمد خان نے آبزرویشن دی ریکارڈکے جائزہ سے لگتا ہے کہ استغاثہ نے حقائق چھپائے ہیں۔ فاضل جج کاکہناتھا دیر اور سوات کے علاقوں میں عام طور پر قتل کرنے کے بعد خاندان کا کوئی عمر رسیدہ شخص اعتراف جرم کرلیتا ہے، اصل مجرم بچ جاتے ہیں، یہ مقدمہ اسی نوعیت کا لگتاہے۔

فاضل جج کا کہنا تھا قانون سازوں نے قانون سازی کے وقت فوجداری قانون کی شق97 اور شق100کا درست انداز میں جائزہ نہیں لیا، یہ دونوں شقیں ایک دوسرے سے متصادم ہیں ۔باچا رحمان پر2014 میں اپنی بہو شاہدہ اوراس کے آشناعثمان کو قتل کرنے کا مقدمہ بنا تھا۔

سندھ پبلک سروس کمیشن کیخلاف زیرالتوا تو ہین عدالت کیس کی جلدسماعت کیلیے درخواست دائرکردی گئی ۔درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ یہ درخواست6 نومبرکو سماعت کیلیے مقررکی جائے کیونکہ8 نومبرکو سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات ہو جائیں گے۔ درخواست گزار نے موقف اپنایاکہ سندھ پبلک سروس کمیشن نے13 مارچ 2017 کے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا اورکمیشن کے ممبران کی تعیناتیوں کا عمل ابھی تک مکمل نہیں کیا گیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔