تصوف کیا ہے ؟

سعد اللہ جان برق  جمعرات 2 نومبر 2017
barq@email.com

[email protected]

زوج یا ازواج کا ذکر تو کئی مقامات پر آیا ہے لیکن سورۂ یاسین کی آیت 36میں اس کا مکمل اور واضح طور پر ذکر آیا ہے،اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ۔

’’وہ ذات پاک ہے جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں سب کے جوڑے بنائے‘‘

اس کا مفہوم یہ ہے کہ پاک ہے وہ ذات جس نے سب کچھ جوڑوں یعنی ازواج میں پیدا کیا ہے چاہے وہ زمین سے اگتی یا پیدا ہوتی ہوں یا خود تمہارے نفس کے اندر ہے یا جو تمہارے علم میں نہیں ہے ۔

الفاظ ہیں ’’ خلق الازواج کلّہا‘‘ اور کلّہا میں وہ سب کچھ آجاتا ہے جو خالق اعظم کا پیدا کیا ہوا ہے یعنی پوری کائنات میں جو کچھ ہے وہ ’’ کلّہا‘‘ جوڑوں میں ہے کوئی مثبت ایسا نہیں ہے جس کا کسی منفی سے جوڑا نہ بنتا ہو ۔

اب تھوڑا سا سائنس اور طبعیات کی روشنی میں بھی دیکھتے ہیں جو قرآن کی تصدیق کرتا ہے۔ اس وقت کائنات کی پیدائش کا طبعیاتی نظریہ بگ بینگ کا ہے اس کے مطابق اس بے حدوبے کراں کائنات کے عمق میں کوئی بیس یا سولہ ارب سال پہلے ایک ذرہ انتہائی زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹا تھا اس ذرے یا ایٹم میں یہ کائنات مرتکز تھی جو پھیلنا شروع ہوئی اور ابھی تک پھیل رہی ہے، اندازہ ہے کہ یہ کائنات آدھی عمر گزار چکی ہے اور اتنی ہی مدت یعنی بیس ارب سال تک اور یہ پھیلتی چلی جائے گی لیکن آخرکار ایک مقام ایسا آ جائے گا کہ پھیلنا ختم ہو جائے گا اور پھر سکڑنے کا عمل شروع ہو جائے گا سکڑتے سکڑتے یہ سب کچھ ایک مرتبہ پھر اس ذرے یا ایٹم میں مرتکز ہو جائے گا اور اوٹکاز کی آخری حد پر پہنچ کر پھر ایک دھماکے سے پھٹ جائے گا اور ایک نئی کائنات وجود میں آنا شروع ہو جائے گی۔

اب طبعیات والے یہ نہیں بتا سکتے ہیں کہ ہماری اس موجودہ کائنات سے پہلے کتنے ذرے پھٹے ہیں کائناتیں بنی اور مٹی ہیں اور نہ یہ بتایا جا سکتا ہے کہ یہ سلسلہ آگے کہاں تک جائے گا، کتنی کائناتیں وجود میں آئیں گی اور مٹیں گی گو ابتدا بھی نامعلوم اور انتہا بھی نا معلوم اور انسان یعنی جزو کے لیے یہ ممکن بھی نہیں کہ کل کا احاطہ کر سکے۔ ایک شعر یاد آرہا ہے شاید کچھ وضاحت ہو سکے

ہر تخیل سے ماورا ہے تو،

ہر تن میں ہے مگر موجود

ترا ادراک  نا ممکن ہے عقل محدود تو ہے لامحدود نہیں لیکن اس سے جو بات ہمارے سمجھنے کے لائق ہے وہ یہ ہے کہ کائنات کی پیدائش، افزائش اور پھر فنا بھی اسی منفی مثبت پر ہے ذرہ اٹھتا ہے پھیلتا ہے یہ ’’ انتشار ‘‘ ہے پھر سمٹتا ہے یکجا ہوتا ہے یہ اتکاز ہے گویا کائنات کی بنیاد بھی ’’ انتشار ‘‘ اور اتکاز ‘‘ کے زوج پر ہے ایک منفی ہے ایک پھیلاتا ہے دوسرا سمیٹتا ہے ایک پیدا کرتا ہے دوسرا فنا کرتا ہے۔ یہ کائنات کی سب سے بڑی اور بنیادی زوج ہے جو ہر ہر شے میں جاری و ساری انسان حیوان شجر حجر سب پیداہوتے ہیں، مختلف مراحل سے گزرتے اور ختم ہو جاتے ہیں ۔

یہاں اس بات کی بھی وضاحت ہو جائے کہ کائنات میں ’’ فنا‘‘ نامی چیز کوئی نہیں وہی سب کچھ ہے جو اس ذرے کے اندر ہے لیکن شکلیں حالتیں حیثیتں بدلتا ہے۔ کوئی بھی چیز فنا نہیں ہوتی انسان مرجاتا ہے لیکن اس کے عناصر مٹی میں موجود ہوتے ہیں ۔

اب ایک اور بہت بڑے زوج کا کچھ ذکر بھی ہونا چاہیے کیونکہ یہ زوج بھی اس کائنات میں تخلیق کی بنیاد ہے اور یہ زوج مادے اور توانائی کی زوج ہے یہ دونوں مادہ اور توانائی اکیلے اکیلے کچھ بھی نہیں ہیں جیسے سائنسی زبان میں میٹر اور انرجی یا نامیاتی اور انرجی کہتے ہیں ،ایک دوسرے کے بغیر یہ دونوں بیکار محض ہیں۔ مادہ تو ہمارے سامنے ہے کہ بے جان ہے ہل بھی نہیں سکتا لیکن توانائی اور انرجی بھی مادے کی مدد کے بغیر بیکار ہوتی ہے۔ اس کے لیے ہم بجلی کی مثال لیتے ہیں، بجلی ایک بے پناہ طاقت کی حامل انرجی ہے لیکن مادی تار یا کسی موصل یا آلے کے بغیر کچھ بھی نہیں ہے، اگر مادی تار کی مدد میسر نہ ہو تو اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتی اور پھر جب یہ کسی مادی آلے یا مشین میں جاتی ہے تو وہاں بھی مادی مشین اور آلے کی محتاج ہوتی ہے اکیلے اکیلے کچھ نہیں کر سکتی ۔

اسی طرح یہ جو ریڈیو ٹی وی موبائل وائرلیس وغیرہ کی شعاعیں ہیں بھلے ہی فضا میں آوارہ پھریں لیکن جب تک ان کو ریسیو کرنے کے لیے کوئی مادی آلہ نہیں ملتا بیکار محض ہوتی ہیں بلکہ توانائی کی حرکت اور سفر بھی کسی مادی آلے کے بغیر ممکن نہیں ہوتی ۔

بجلی کے دو تار ساتھ ساتھ چل رہے ہیں دونوں مادی ہیں ان میں بھی منفی و مثبت ہوتے ہیں، یہ دونوں اکیلے اکیلے کچھ بھی نہیں کر سکتے جب یہ مادے آلے میں معروف اور مقررہ اصولوں کے تحت یکجا ہوتے ہیں تب کسی کام کے ہو جاتے ہیں، اگر دونوں کو براہ راست ملا دیا جائے توتباہی پھیلتی ہے اور یہ بھی قرآن نے بتایا ہے کہ جب جوڑے ٹوٹتے ہیں تو تباہی پھیلتی ہے، مثال ایٹم کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ ایٹم میں بھی نیوٹران اور پروٹان کا جوڑا ہوتا ہے جو معروف طریقے پر الیکڑون پیدا کرتا ہے اور ایٹم کو برقرار رکھتا ہے لیکن یہ ایٹمی سائنس دان ایٹم کے اندر کا زوج غلط اور غیر معروف طریقے پر توڑ دیتے ہیں جس کا نتیجہ بے پناہ تباہ کاری کی صورت میں نکلتا ہے ۔

ایٹم بم کوئی بم نہیں بلکہ چند آلات کے ذریعے جہاں تباہی پھیلانا ہو وہاں ایٹم کا اندرونی زوج توڑ دیا جاتا ہے اور قرآن کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ جب جوڑے ٹوٹتے ہیں تو تباہی نازل ہوتی ہے۔ یہ دنیا میں اس وقت جو تباہی پھیل رہی ہے یہ بھی خیر و شر کا جوڑا ٹوٹنے کا نتیجہ ہے ۔

(جاری ہے )

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔