بھارت کا منفرد اسکول

عبدالریحان  جمعرات 2 نومبر 2017

تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کیلئے سبسکرائب کریں

 لکھنے کے لیے ہم عموماً ایک ہی ہاتھ سے کام لیتے ہیں، چاہے دائیں سے لکھیں یا بائیں سے مگر بھارت میں ایک اسکول ایسا ہے جہاں تین سو طلبا زیرتعلیم ہیں اور سب کے سب بہ یک وقت دونوں ہاتھوں سے لکھتے ہیں۔

عالمی اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا میں صرف ایک فی صد لوگ ایسے ہیں جو دونوں ہاتھوں سے یکساں مہارت کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مگر اس اسکول میں تمام بچے اس صلاحیت سے مالامال ہیں۔ درحقیقت یہ صلاحیت ان بچوں میں قدرتی طور پر موجود نہیں تھی بلکہ انھیں دونوں ہاتھوں سے لکھنا سکھایا گیا ہے۔

مدھیہ پردیش کے دورافتادہ گاؤں بدھیلا میں کئی برس پہلے یہ اسکول وی پی شرما نے قائم کیا تھا۔ اس منفرد درس گاہ کا نام وینا واندینی اسکول ہے جہاں بچوں کو ابتدا ہی سے دونوں ہاتھوں سے لکھنے کی مشق کروائی جاتی ہے۔ وی پی شرما کو یہ منفرد اسکول قائم کرنے کا خیال بھارت کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد کو دیکھ کر آیا تھا۔ 1950ء سے 1962ء تک مسند صدارت پربراجمان رہنے والے راجندرپرساد دونوں ہاتھوں سے یکساں مہارت کے ساتھ لکھ سکتے تھے۔ وی پی شرما کہتے ہیں کہ وہ آنجہانی صدر کی اس صلاحیت سے بے حد متأثر تھے۔ پھر جب اپنے آبائی گاؤں میں اسکول کھولنے لگے تو فیصلہ کرلیا کہ ہر بچے کو دونوں ہاتھوں سے لکھنے کی تربیت دیں گے۔ اس سے قبل وہ مسلسل مشق سے خود کو دونوں ہاتھوں سے لکھنے کے قابل بنا چکے تھے۔

اسکول میں پہلی کلاس سے بچوں کو دونوں ہاتھوں سے لکھنا سکھایا جاتا ہے۔ وی پی شرما کے مطابق تیسری جماعت میں پہنچنے تک وہ دونوں ہاتھوں سے لکھنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ ساتویں اور آٹھویں جماعت کے طلبا سُبک رفتاری اور درستی کے ساتھ لکھتے ہیں۔ بعدازاں انھیں بہ یک وقت دو مختلف تحریریں لکھنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ وی پی شرما کا کہنا ہے کہ ان کے طلبا اردو سمیت کئی زبانیں جانتے ہیں۔

وینا واندنی اسکول میں ہر پیریڈ کا دورانیہ پون گھنٹے کا ہوتا ہے۔ اس میں سے پندرہ منٹ لکھنے کی مشق کے لیے وقف ہوتے ہیں۔ اس دوران اساتذہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہر بچہ اس مشق میں حصہ لے۔ وی پی شرما کہتے ہیں کہ دونوں ہاتھوں سے لکھنے کی صلاحیت طلبا کے لیے مختلف زبانیں سیکھنا آسان بنادیتی ہے۔ وہ اپنے طلبا کو ایک ہی لفظ مختلف زبانوں میں لکھنے کی بھی مشق کرواتے ہیں۔

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ بہ یک وقت دونوں ہاتھوں سے لکھنے کی صلاحیت سے قوت ارتکاز قوی ہوتی ہے ، تاہم جدید تحقیق اس تصور کی نفی کرتی ہے۔ ایک امریکی سائنسی ادارے کی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ہاتھوں سے بہ یک وقت تحریر کرنے والے بچے ریاضی سمیت کئی مضامین اور منطقی سوالات حل کرنے میں خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ شمالی فن لینڈ میں کی گئی ایک تحقیق کے نتائج میں بتایا گیا تھا کہ ان افراد کے دماغی امراض میں مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی انھیں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔