’’فرد واحد ‘‘ اور ملکی معیشت

علی احمد ڈھلوں  جمعـء 3 نومبر 2017
ali.dhillon@ymail.com

[email protected]

سیاست میں جو کچھ ہو رہا ہے، جو ہو چکا ہے اور جو ہونے جا رہا ہے، اس حوالے سے پورے ملک پر بے یقینی چھائی ہوئی ہے۔ سیاستدانوں نے عوام کو اُلجھایا ہوا ہے جب کہ بیوروکریسی اپنا روایتی سازشی کردار ادا کررہی ہے۔ وطن عزیز دنیا کا واحد ملک ہے جس کا وزیر خزانہ کرپشن کیسز میں عدالتوں کے چکر بھی کاٹ رہا ہے اور سیٹ بھی نہیں چھوڑ رہا۔ جس ملک کا وزیرخزانہ ہی مقدمات میں الجھا ہوا ہو، اس کی معیشت کیسی ہوگی ، وہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس میں کسی کا قصور بھی نہیں ہے۔

ہم ہی اس کے ذمے دار ہیں کیونکہ ہر دفعہ ہم انھی گنے چنے سیاستدانوں کو ووٹ دیتے  ہیں جو صرف اپنی اکانومی مضبوط کرتے ہیں،جب ان سیاستدانوں کی جانب سے یہ کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کا ایک سال ڈکٹیٹر شپ کے 100سال سے بہتر ہے تو یقین مانیں دل کر تا ہے ان کو کوڑے مارے جائیں، کیونکہ ان سیاستدانوں کی اپنی جماعتوں میں بھی جمہوریت نام کی چیز نہیں ہے تو ملک میں کیا خاک جمہوریت لائیں گے؟

آج میاں نواز شریف چاہتے ہیں کہ مریم نواز آگے آئے، زرداری صاحب فرماتے ہیں کہ بلاول آگے ہوں گے اور میں اُن کی پچھلی سیٹ پر بیٹھوں گا، شہباز شریف کے بعد حمزہ شہباز سیاست میں آئیں گے، مفتی محمود کے بعد مولانا فضل الرحمن، غوث بخش بزنجو کے بعد حاصل بزنجو، اے این پی میں غفار خان کے بعد ولی خان اور آج اسفند یار ولی، یہ سب کیا ہے؟ کیا یہ آمریت کی مثالیں نہیں؟ پھر آپ ہر سیاسی جماعت (ماسوائے جماعت اسلامی) کا شجرہ نصب اُٹھا کر دیکھ لیں، کہیں جمہوریت نام کی چیز نظر نہیں آئے گی ۔ آج ہماری سیاسی جماعتیں اسی وجہ سے عوام میں مقبولیت کھو رہی ہیں کہ اُن میں ’’فرد واحد‘‘ کی اُجارہ داری ہے۔ جھوٹ پر جھوٹ کی سیاست نے نہ صرف ملک کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ اپنے کردار کو بھی مشکوک بنا دیا ہے، بقول ظفرؔ اقبال

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔ

آدمی کو صاحبِ کردار ہونا چاہیے!

آج پیپلز پارٹی کو دیکھ لیں، اسے ایک خاندانی پارٹی بنا دیا گیاجس کی وجہ سے یہ تباہ ہوگئی، 1986ء میں جب بینظیر آئی تھیں تو ان کے شاندار استقبال کے بعد کئی بڑے سیاستدان ناراض ہوئے جن میں غلام مصطفیٰ جتوئی، غلام مصطفیٰ کھر،ملک معراج خالداور آفتاب شیرپاؤ جیسے سیاستدان شامل تھے، جب کہ آج بلاول کی قیادت میں سینئر لیڈر شپ قمر زمان کائرہ، خورشید شاہ، رضا ربانی، اعتزاز احسن اور دیگر رہنماؤں کو ایک بار پھر پیچھے دھکیل دیاگیا ہے، اسے آپ نان ڈیموکریٹک اسٹائل کہیں تو غلط نہیں ہوگا۔

پھر  بھٹو سے لے کر مشرف تک کوئی ڈکٹیٹر پیپلز پارٹی کو ختم نہ کر سکا مگر اس پارٹی کو آصف علی زرداری اور ان کی ٹیم نے صوبائی جماعت بنا دیا جو سندھ تک محدود ہوگئی۔ گزشتہ انتخابات میں ایک وقت میں پاکستان کی سب سے مقبول ترین پی پی پی کا سندھ کے علاوہ تمام صوبوں سے نام و نشان مٹ گیا۔  پنجاب، خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں قومی اسمبلی کی ایک نشست بھی نہ جیتی۔ لیکن سبق پھر بھی حاصل نہ کیا۔ سندھ میں حکومت ملی تو وہی وہی کرپشن، وہی اقرباپروری، حکومتی سودوںمیں وہی کمیشن ، وہی کک بیکس کے الزامات۔ الزامات کی بھی تو کوئی نہ کوئی کہانی تو ہوگی۔

آج مسلم لیگ ن کو دیکھ لیں جو’’فرد واحد‘‘ کی وجہ سے سخت بحران کا شکار ہے، اور ان کی ’’ضد‘‘ پارٹی کے سینئر رہنماؤں کو باغی کر سکتی ہے۔ جو پاکستان کی ایک بڑی جماعت کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔ وہی ہوا کہ ن لیگ میں اختلافات کھل کر سامنے آچکے ہیں اور میری اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن کے اندرونی اختلافات اور جماعت کے سینئر رہنماؤں کا مریم نواز کی قیادت میں کام نہ کرنے کا حتمی فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔ اور اسی طرح کے دوسرے اختلافات کے پیش نظر 90 اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ایسے ہیں جو مسلم لیگ ن کو چھوڑ  سکتے ہیں اور ان میں بعض اہم نام بھی شامل ہیں یہاں تک کہ بعض وزراء بھی مستعفی ہو کر نواز شریف کو سرپرائز دے سکتے ہیں۔

اور دوسری طرف بزرگ سیاسی رہنماؤں ذوالفقار کھوسہ،ریاض پیرزادہ،  میر ظفر اللہ جمالی اور پیر پگارا کے اچانک متحرک ہونے کی وجہ سے ن لیگ خاصی پریشان دکھائی دے رہی ہے۔ جب کہ نواز شریف کے آج احتساب عدالت میں پیش ہونے کو ن لیگ کے بعض حلقے ’’سیاسی انتقام‘‘ سے تشبیہ دے رہے ہوں گے۔ بندہ پوچھے کہ الزامات تو صحیح ہیں ناں، کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ آپ کے پاس 100روپیہ ہے اور ایک لاکھ روپے کا الزام لگا دیا گیا ہے۔ میرے خیال میں حساب سیدھا سادا سا ہے کہ اگر کسی نے گزشتہ 30سال میں 30ارب کمایا ہے جو ریکارڈ پر بھی آیا ہو، اس پر ٹیکس بھی دیے گئے ہوں لیکن اثاثے 300ارب سے بھی زیادہ ہیں تو پوچھنا تو پڑے گا کہ یہ معجزہ کیسے ہوا؟

مختصرا ً یہ کہ میاں نواز شریف کو چاہیے کہ وہ مزید خرابی کا باعث بننے کے بجائے اپنے آپ کو اداروں سے کلیئر کرائیں اور پھر عوام میں واپس آئیں، مجھے پورا یقین ہے کہ لوگ اُن کی عزت کریں گے، اب جب کہ تادم تحریر انھوں نے 3نومبر کو احتساب عدالت میں پیش ہونا ہے ، اور مجھے پورا یقین ہے کہ وہ پیشی کے بعد واپس آکر یہی کہیں گے کہ ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘

غرض یہ نہیں کہ کیوں نکالا، بلکہ غرض یہ ہے کہ غیرملکی قرضے 75ارب ڈالر سے بڑھ کر90ارب ڈالر تک کیسے پہنچ گئے؟ جب کہ ملکی بینکوں سے بھی حکومت نے 15ارب ڈالر قرضے حاصل کر رکھے ہیں۔ آیندہ چند ماہ میں پاکستان نے صرف سود کی مد میں عالمی مالیاتی اداروں کو اتنی ادائیگی کرنی ہے کہ بیچارہ ’’روپیہ‘‘ بری طرح لڑکھڑا جائے گا جس کے نتیجے  میں آنے والا مہنگائی کا سونامی لوگوں کی زندگیاں اجیرن کردے گا، ان سب وجوہات کی بنا پر آج ن لیگ کے حالات یہ ہیں کہ 2018ء کے الیکشن میں یہ بڑی جماعت بھی چند سیٹوں پر مشتمل ہوگی اور اس لیے ملک میں غیر یقینی صورتحال ، ڈوبتی معیشت کا ذمے دار بھی ’’فردواحد‘‘ ہی ہوگا!اس لیے فرد واحد ملک پر رحم کرے تو یہی ملک کے لیے بہتر ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔