ایک شخص کے جانے سے بات نہیں بنے گی، آوے کا آوا ہی بگڑا ہے، شمشاد احمد خان

غلام محی الدین / رانا نسیم / شہباز ملک  اتوار 5 نومبر 2017
سینئر تجزیہ کا ر اقوام متحدہ میں سابق مستقل پاکستانی مندوب و سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد خان سے مکالمہ

سینئر تجزیہ کا ر اقوام متحدہ میں سابق مستقل پاکستانی مندوب و سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد خان سے مکالمہ

خارجہ پالیسی ان اصولوں کا مجموعہ ہے، جن پر عمل پیرا ہوکر کوئی آزاد مملکت دوسرے ممالک سے تعلقات قائم کرتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک ریاست اپنے مخصوص حالات میں اپنے قومی مفادات و مقاصد کے حصول کے لیے دوسری ریاستوں سے تعلقات قائم کرنے کے لیے جو طرز عمل اور رویہ اختیار کرتی ہے، اسے خارجہ پالیسی کہا جاتا ہے۔

کوئی ریاست جو خارجہ پالیسی طے کرتی ہے، اس کے اظہار اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے اہلیت رکھنے والے لوگوں کو یہ ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں، جو وزارت خارجہ کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ ان افراد کے انتخاب کا عمل نہایت مشکل اور شفاف ہوتا ہے، کیوں کہ ان ہی لوگوں نے دنیا بھر میں اپنے ملک کی خارجہ پالیسی کو نہ صرف متعارف کرانا ہے بلکہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ بھی کرنا ہوتا ہے۔ وطن عزیز کی خارجہ پالیسیوں کی بات کی جائے تو اس شعبہ میں چند ایک نام ایسے ہیں جن کی خدمات کو یہ ملک اور قوم بھلا نہیں سکتی۔

ایسے ہی لوگوں میں ایک نام شمشاد احمد خان کا ہے، جنہوں نے وطن عزیز کے مشکل دور میں سیکرٹری خارجہ کے فرائض سرانجام دیئے، اُس دور میں بھارت کے جواب میں ہم نے ایٹمی دھماکے کئے، واجپائی پاکستان آئے اور نوازشریف کے ساتھ اعلان لاہورپردستخط کئے۔کارگل آپریشن ہوا ،اور پھر اس سلسلے میں نواز کلنٹن ملاقات، سی ٹی بی ٹی پردستخط کے لیے عالمی دنیا نے دباؤ ڈالا اور جنرل مشرف نے مارشل لاء لگایا۔ بعدازاں امریکہ نے جب افغانستان پر حملہ کیا تو اس وقت بھی وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی طرف سے مستقل مندوب کی ذمہ داری نبھا رہے تھے۔

37 برس وزارت خارجہ میں خدمات سرانجام دینے والے شمشاد احمد خان نے1941ء میں مالیرکوٹلہ میں اپنے ننھیال کے ہاں آنکھ کھولی۔ خاندان کا تعلق ریاست پٹیالہ کے گاؤں کھیڑاگجو سے تھا۔ چھ ماہ کی عمرمیں والد، چودھری عنایت علی خان کا سایہ سرسے اٹھ گیا۔ والدہ جعفراں بیگم جنھیں وہ بوجان کہتے، بڑی پرعزم خاتون تھیں۔ دسمبر1947ء میں ان کاخاندان صعوبتیں برداشت کرتا پاکستان پہنچا۔ شمشاد احمد خان نے ماڈل ٹاؤن سکول سے میٹرک کیا۔گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے آنرز اور ایم اے سیاسیات کے امتحانات امتیازی حیثیت میں پاس کئے۔

دوبرس مادرعلمی میں پڑھایا، پھرسی ایس ایس کرکے 1965ء میں فارن سروس سے منسلک ہوگئے۔ سب سے پہلے ایران میں تقرر ہوا، کچھ عرصہ ادھررہے ،اس کے بعدسینیگال تبادلہ ہو گیا۔ یہ وہی وقت ہے جب مشرقی پاکستان میں بحران نے سر اٹھایا، جس سے پاکستانی سفارت خانہ بھی متاثرہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ پیرس اور واشنگٹن میں سفارتی ذمہ داریاں انجام دیں۔ اقوام متحدہ میں نائب مندوب اور نیویارک میں قونصل جنرل رہے۔ 1987ء میں جنوبی کوریا اور 1990ء میں ایران میں سفیر رہے۔ وزارت خارجہ میں جنوبی ایشیاء امورکے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے کام کیا۔

1992ء سے 1996ء تک ایکو(اکنامک کارپوریشن آرگنائزیشن) کے جنرل سیکرٹری رہے۔ 1996ء میں وطن واپس پہنچ کرکچھ عرصہ سپیشل سیکرٹری رہے، جس کے بعد چین میں سفیر کے طور پر تقرر ہو گیا، لیکن حکومت بدلنے سے ذمہ داریاں بھی بدل گئیں اور 1997ء میں انہیں قابلیت، صلاحیت اور تجربے کی بنیاد پر سیکرٹری خارجہ کے اہم ترین عہدے پر فائز کر دیا گیا۔ 2000ء میں سیکرٹری خارجہ کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کے بعد ڈھائی برس اقوام متحدہ میں مستقل مندوب رہے۔ وہ دو کتابوں (ڈریمز اَن فُل فِلڈ، پاکستان اینڈ ورلڈ افیئرز) کے مصنف بھی ہیں۔ ’’ایکسپریس‘‘ نے سینئر تجزیہ کار، اقوام متحدہ میں سابق مستقل پاکستانی مندوب و سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان سے ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا، جو نذر قارئین ہے۔

ایکسپریس: بالخصوص پاکستان کی بات کی جائے تو خارجہ پالیسی ہمیشہ عوامی امنگوں کی ترجمان نہیں ہوتی‘ خارجہ پالیسی کی تشکیل میں قومی غیرت و حمیت کا کتنا عمل دخل ہوتا ہے؟

شمشاد احمد خان: ریاست اور عوام کے جذبات واحساسات اور سوچ میں فرق ہونا تو نہیں چاہیے۔ جو عزت و وقار ہوتا ہے وہ شہریوں سے کہیں زیادہ ریاست کا ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ ریاست کی عزت ہو گی تو دنیا آپ کی عزت کرے گی، اگر ریاست کی عزت نہیں ہو گی تو دنیا آپ کو ٹھوکریں مارے گی۔ یہ ایک بنیادی بات ہے۔ جس طرح محلے میں کوئی شخص اگر اپنی عزت کا خود خیال رکھتا ہے تو محلے والے بھی اس کی عزت کریں گے۔ جب وہ خود اپنی عزت کا خیال نہیں کرتا‘ کبھی باہر لڑتا ہے، کبھی اپنے گھر والوں سے لڑتا ہے تو محلے والے بھی آپ کی عزت نہیں کریں گے۔ریاست کے تمام شہریوں کی زندگیوں کو بہتر بنانا ریاست کا فرض ہوتا ہے۔ ریاست کی عزت شہریوں نے کرنی ہے اور ریاست نے اپنے شہریوں کا خیال رکھنا ہے اور انہیںسہولتیں بہم پہنچانی ہیں۔

ہمیں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ خارجہ پالیسی ہوتی کیا ہے۔ آپ نے عام شہریوں کی بات کئی تو عام شہریوں کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ خارجہ پالیسی اصل میں ہوتی کیا ہے۔ وہ یہ سوچتے ہیں کہ جس طرح ہماری تجارتی پالیسی ہوتی ہے۔ درآمدی پالیسی ہوتی ہے۔ اسٹیٹ بنک کی سالانہ پالیسی ہوتی ہے۔ اسی طرح کی کوئی پالیسی ہے۔ یا ان کے ذہنوں میں یہ تاثر ہوتا ہے کہ جس طرح آئین کا مسودہ ہے۔ اس طرح کا کوئی مسودہ ہوتاہے جس میں چند صفحات یا نکات ہوتے ہیں جو ہماری خارجہ پالیسی ہوتی ہے۔ حقیقت میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

خارجہ پالیسی کو اگر عام لفظوں میں کسی کو بتانا ہو تو میں یہ کہا کرتا ہوں کہ خارجہ پالیسی قوموں کا وہ چہرہ ہوتی ہے جو وہ بیرونی دنیا میں اپنے بارے میں اچھا تاثر پیدا کرنے کے لئے دکھانا چاہتی ہیں۔ اچھا ہنستا مسکراتا ‘ کھیلتا، صحت مند چہرہ لیکن درحقیقت خارجہ پالیسی حاصل جمع ہوتی ہے ان قومی مفادات کا جن کے تحفظ کی خاطر ریاست نے اپنی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔ اپنی سالمیت کو یقینی بنانا ہے ‘ اپنی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

اپنے سیاسی اور اقتصادی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ بس یہی خارجہ پالیسی ہوتی ہے۔اگر کوئی ریاست یہ مقصد پورے کر رہی ہے تو اس کی خارجہ پالیسی ہوتی ہے، اس کی عزت ہوتی ہے۔ اگر کوئی خارجہ پالیسی ان میں سے کوئی مقصد پورا نہیں کر رہی تو اس کی خارجہ پالیسی نہیں ہوتی۔ خاص طور پر جب عزت کی بات ہوتی ہے تو سب سے زیادہ اہم اقتصادی استحکام ہوتا ہے۔ ریاست اپنے پاؤں پر کھڑی نہ ہو تو اسے اپنی بقا کے لئے دنیا کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ ایسی حالت میں کوئی خارجہ پالیسی نہیں ہوتی۔ تو یہ ایک بنیادی سا اصول ہے اور یہ سوچنا کہ ہم جس طرح آئین کا ایک آرٹیکل نکال کر Chahge کر دیتے ہیں، جارجہ پالیسی میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں لائی جا سکتی کہ آپ ایک صفحہ نکال دیں گے تو آپ کی خارجہ پالیسی بدل جائے گی۔ آپ کوئی Point نکال لیں گے تو آپ کی خارجہ پالیسی بدل جائے گی۔

اصل چیز یہ ہے کہ خارجہ پالیسی جس چیز پر فوکس ہے وہ قومی مفادات ہیں اور قوموں کے قومی مفادات کبھی نہیں بدلتے، سارا پھیر بدل اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ہوتا ہے۔ ہر ریاست کے قومی مفادات اپنے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں مثلاً ہندوستان کی سب سے بڑی خواہش خطے میں اپنی بالا دستی قائم کرنا ہے۔ پاکستان جب وجود میں آیا تھا تووہ بذات خود دنیا کا ایک عجوبہ تھا۔ دنیا میں آج تک ایسی کوئی ریاست کبھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔ قائداعظم نے کہا تھا کہ یہ بیسویں صدی کا معجزہ ہے۔ پاکستان اتنے ناممکنات کے باوجود وجود میں آگیا تھا، لیکن یہ ایسے جڑواں بچوں جیسا تھا جن کے دھڑا لگ ہوتے ہیں کہیں سے تھوڑا بہت وہ جڑے ہوتے ہیں۔

صرف دل اور دماغ کا تھوڑا سا Connectionتھا جسم الگ تھے۔دل اور دماغ کا یہ تعلق دباؤ برداشت نہ کر سکا۔ انڈیا اپنی پالیسی چل رہا تھا۔ وہ اپنے قومی مفادات پر عمل کر رہا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اس وقت ہم سے چوک ہوئی ہم نے اپنے قومی مفادات پر عمل نہیں کیا۔

ایکسپریس: پاکستان نے اپنی تاریخ میں 4 مارشل لاء دیکھے ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس میں فوجی قیادت کی اقتدار میں آنے کی خواہش اور ہماری سول حکومتوں کی نااہلی کا کیا توازن رہا۔

شمشاد احمد خان:  پاکستان کی تاریخ کے حوالے سے یہ سب زیادہ اہم سوال ہے۔دیکھیں، ہمارے سامنے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی مثال موجود ہے۔ اس سانحے کا ذمہ دار بھٹو تھا۔ ہم اس وقت سروس میں تھے، ہم ہر چیز دیکھ رہے تھے۔ مجیب کو اکثریت ملی تھی، اگر ہم اس کا احترام کرتے تو صوبائی خود مختاری کے اصول کے تحت ہم اکٹھے رہ سکتے تھے۔ لیکن بھٹو نے ایسے حالات پیدا کیے کہ فوج کو اس معاملے میں آنا پڑا۔ پاکستان نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ بنگال میں لڑائی ہوسکتی ہے۔ جب لڑائی کروائی گئی تو فوج کو لڑنا پڑگیا اور اس کا برا نتیجہ نکلا۔

یہ جو سانحہ ہوا یہ اس وقت کی سیاسی قیادت کی غلط سوچ اور حکمت عملی کی وجہ سے ہوا۔ ایک بحران جو سیاسی تھا اسے سیاسی طور پر حل نہ کرکے اس شخص نے اسے فوجی حل کی طرف دھکیلا جس سے یہ سانحہ رونما ہوگیا۔

بھٹو ایک انتہائی قابل لیڈر تھا اور میں اس لحاظ سے اس کی بڑی عزت کرتا ہوں۔ ایسا انسان دنیا میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتا۔ ایسی گہری سوچ والا لیکن جب ذاتی مفادات مقدم ہوجاتے ہیں تو پھر اسی طرح ہوتا ہے۔مجھے ذاتی طور پر انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ بھٹو الیکشن جیت رہا تھا لیکن خواہ مخواہ دھاندلی کرواکر بحران پیدا کیا جس سے فوج کو اقتدار میں آنے کا موقع مل گیا۔ فوج کو مال روڈ پر احتجاجی جلوس پر فائرنگ کا حکم ملا تھا جس پر تمام فوجیوں نے انکارکردیا۔ ایسی صورتحال میں فوج کے سربراہ کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا۔ تو ضیاء الحق برسراقتدار آگیا حالانکہ وہ بھٹو کے اعتماد والا آدمی تھا۔ اس کے جانے کے بعد دوبارہ جمہوریت کی طرف سفر شروع کیا۔

لیکن اب اس شخص کو دیکھیں جس کا نام نواز شریف ہے انہیں عادت ہے کہ فوج کے ساتھ تصادم کرتے رہنا ہے۔ پہلے دو جرنیلوں کو تم نے نکالا ہے اب تم مشرف کو برخاست کررہے ہو تو کبھی نہ کبھی تو تم پکڑے ہی جاؤ گے تو بالآخر وہ پکڑا گیا۔ اس کی نااہلی کی وجہ سے فوج کو مجبوراً آنا پڑا۔ اس دور کے بعد دوبارہ جمہوری نظام ملک میں چل پڑا اور یہ بہت مثبت بات ہے۔ 2008ء کے بعد کے ان 9 سالوں کا قصہ سب کے سامنے ہے۔ اتنا انہوں نے اشتعال دلایا ہے اس کے باوجود فوج نے کہا کہ ہمیں مداخلت نہیں کرنی اور فوج کے اس رویے کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ اب فوجی انقلابات کا زمانہ نہیں رہا۔ دوسری بات یہ کہ اب ہماری فوج ایک پڑھی لکھی فوج ہے۔ فوجی ہم سے زیادہ علمی استعداد رکھتے ہیں۔ ان کے اپنے تعلیمی ادارے اور یونیورسٹیاں ہیں۔ پہلے تو جرنیل ایف اے پاس ہوتا تھا۔ آج کا جرنیل پی ایچ ڈی لیول کا ہوتا ہے۔

تو یہ سیاستدان ان کے مقابل وہ علمی اور ذہنی قابلیت نہیں رکھتے۔ ان میں جو بی اے پاس ہیں ان میں سے بھی کئی کی ڈگریاں جعلی ہوتی ہیں۔ اکثر کے ذہنوں میں تخریبی سوچیں ہیں یا پھر یہ سازش کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ملک کے مفادات کے لیے فکر اور سوچ ان میں نظر نہیں آتی۔ فوج نے ان کے ہاتھ پکڑ کر ان سے اچھے کام کروانے کی کوشش کی چاہے جنرل کیانی تھا یا اس کے بعد راحیل شریف تھا یا پھر اب موجود آرمی چیف ہیں۔ ان سے نیشنل ایکشن پلان بنوایا، جس میں سے کچھ چیزیں فوج نے اپنے پاس رکھیں۔ فوج نے خود وہ پوائنٹس اپنے پاس رکھے جو غیر مقبول تھے۔ جیسے دہشت گردوں کو پھانسیاں دینے جیسے کام فوج نے اپنے پاس رکھا۔ ہماری عدالتیں بھی پھانسیاں نہیں دیتی تھیں۔

تو ایسے مشکل کام فوج نے خود لے لیے۔ باقی جو سترہ نقاط ہیں وہ اگر آپ پڑھ لیں تو معلوم ہوگا کہ وہ کوئی خاص منصوبہ نہیں بلکہ ان کاموں کی فہرست ہے جو دنیا کی کسی بھی ریاست میں موجود حکومت کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں حکمران وہ بھی پوری نہیں کر رہے۔ تو اگر ہماری حکومتیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرتیں تو فوج کے آنے کا تو سوال پیدا نہیں ہوتا تھا۔ پاکستان جس وقت بنا اس وقت ہندوستان اور پاکستان دونوں کو ایک ہی قسم کا طرز حکومت ورثے میں ملا تھا۔ پارلیمانی، جمہوری طرز حکومت۔ لیکن بھارت نے تو 1950ء میں اپنا آئین بنا لیا۔ انہوں نے اپنا نظام وضع کر لیا۔ ہمارے پہلے9 سال سیاسی ہیرا پھیری میں گزرے۔ ہم ایک دوسرے کی ٹانگیں کھنیچ رہے تھے۔ سیاسی استحکام نہیں تھا۔ اقتصادی حالت کمزور تھی۔

ہم کبھی امریکہ کی طرف مدد کے لئے دیکھتے تھے کبھی کسی دوسرے ملک کی طرف۔ ہر روز حکومتیں بدلتی تھیں۔اس سے ایک خلا پیدا ہو گیا۔ ایک Physicsکا اُصول ہوتا ہے کہ جہاں بھی کہیں طاقت کا خلا پیدا ہو جائے تو اردگرد جو بھی Organizedطا قت ہو گی وہ کھینچی چلی آتی ہے۔ تو اس وقت یہی ہوا کیونکہ سیاست دانوں نے سیاست کو مذاق بنا لیا تھا۔ اُس وقت کے سیاست دان وہ تھے جوانگریزوں کی پیداوار تھے۔ پہلے پاکستان کی مخالفت کیا کرتے تھے۔ وہ تو قائداعظم کی ہمت تھی ان کا حوصلہ تھا، تسلسل تھا ان کی کوششیوں میں کہ ا نہوںنے ایک معجزہ پیدا کر دیا۔ آخری وقت قائد اؑعظم پریشان رہنے لگے تھے کہ ان لوگوں کے ہاتھ اقتدار دے کر جاؤں گا۔

ایکسپریس: ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کیا میاں نوازشریف کا اپنا فیصلہ تھا یا انہیں اس کے لیے مجبور کر دیا گیا تھا؟

شمشاد احمد خان: پاکستان کو ایٹمی دھماکے نہ کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے امریکی صدر کلنٹن نے اس عرصہ میں چار یا پانچ مرتبہ فون کیا‘ میں نے وزیر اعظم کے ساتھ ایک بندہ لگایا ہوا تھا جس کا نام تھا طارق فاطمی ۔ ہمارا کام ہی یہ ہوتا ہے کیونکہ ان چیزوں کو manageکیا جاتا ہے۔ جب کوئی بھی ٹیلی فون کالز ہوتی ہیں۔ اس سطح کی کوئی بھی گفتگو ہوتی ہے۔

چاہے وہ میٹنگ ہو یا ٹیلی فون کال ہو تو ہم اس بات کا اندازہ لگاتے ہیں کہ دوسری جانب سے کیسے گفتگو شروع ہو گی۔ متوقع باتوں کے جوابات تحریری شکل میں لکھے جاتے ہیں۔ تو طارق فاطمی ان کے ساتھ بیٹھ جاتا تھا۔ وہ سوال سنتا تھااور پھر وزیراعظم کو جواب بتا دیتا تھا۔ اس بات چیت کے دوران ہم نے کلنٹن سے کوئی ایسی بات نہیں کی کہ ہم دھماکے کریں گے یا نہیں کریں گے۔ ڈپلومیسی میں جارحانہ رویہ اختیار نہیں کیا جاتا بلکہ ہر بات ہنستے مسکراتے ‘ اچھے ماحول میں‘ بڑے آرام کے ساتھ کی جاتی ہے۔ تو کلنٹن سے ہماری گفتگو میں کوئی وعدہ یا یقین دھانی نہیں ہوتی تھی۔

یہ معاملہ 17دن تک چلتا رہا۔ اس دوران میں پھر چین گیا اور اپنے چینی دوستوں کو بتا دیا کہ ہم ایٹمی دھماکے کرنے لگے ہیں۔ یہ اس لئے نہیں تھا کہ ہم نے ان سے کوئی اجازت لینی تھی۔ مقصد یہ تھا کہ ایک دوست کے ناطے وہ صورتحال کے لئے تیار ہو جائیں۔ انہوں نے بھی ہم سے کہا کہ آپ نے بہت ا چھا کیا جو ہمیں بتا دیا کیونکہ دھماکے کرنے کے بعد آپ پر بہت دباؤ آئے گا۔ تو ہم نے ان سے کہا کہ اس د باؤ کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں آپ کی مدد کی ضرورت ہو گی۔ یوں ہم نے یہ سب کچھ کیا‘ ہم نے دراصل میاں صاحب کو پکڑ کے رکھا۔ ورنہ کلنٹن نے تو یہ کہہ رکھا تھا کہ دھماکے نہ کرنے کی صورت میں امریکہ پاکستان کو پانچ ا رب ڈالر دے گا۔ مجھے اپنے لوگوں کے منہ سے رالیں ٹپکتی نظر آتی تھیں، ان تمام چیزوں کے باوجود ہم نے انہیںگرنے نہیں دیا۔ آخر میں اس کا لب لباب یہ ہے کہ چاہے ان کی مرضی تھی یا نہیں تھی‘ مگر اس بات کا کریڈٹ تاریخ میں انہی کو جائے گا کیونکہ حتمی فیصلہ وزیراعظم ہی نے کیا تھا۔

ایکسپریس: آج کل ٹیکنوکریٹس حکومت کی باتیں ہو رہی ہیں، آپ کے خیال میں کیا اس کا کوئی سنجیدہ امکان موجود ہے؟

شمشاد احمد خان:  فوج کے آنے کا کوئی امکان یا پلان نہیں ہے۔ آپ نے جو سوال پوچھا وہ ہم بھی سن رہے ہیں کہ اگر تو ہمارا معاملہ معمول کے مطابق ہوتا اورہم ایک عام ریاست کی طرح ہوتے۔ لوگوں کے مسائل حل ہورہے ہوتے۔ اقتصادی بحران نہ ہوتا، اتنے قرضے نہ لیے ہوتے جتنے انہوں نے لے لیے اور پھر یہ قرضے لے کر سارا پیسہ یا دبئی میں انویسٹ کیا ہے وہاں اپنے برج بنائے ہیں یا پھر لندن میں جائیدادیں بنالی ہیں، ہزاروں جائیدادیں بنا لی ہیں تو ملک کو مقروض کردیا انہوں نے۔ فوج کے پاس تو ایسی کوئی گیدڑ سنگھی نہیں ہے کہ وہ آکر ان مسائل کو حل کردے۔ کسی کے پاس ایسی جادوئی چھڑی نہیں جس سے مسائل حل ہوجائیں۔ سپریم کورٹ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ قوانین کے اطلاق کو یقینی بنائے، اس نے ریاست کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ آئین کے تقدس کا خیال رکھنا ہے۔

کرپشن کے معاملات سامنے آئے تو عدالتوں نے فیصلے کرنے شروع کردیئے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ یہ سب ایک منطقی نتیجے کی طرف جاتا ہے یا نہیں کیونکہ صرف ایک آدمی کے جانے سے تو بات نہیں بنے گی۔ یہ تو سارا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ اس سارے بگاڑ کا خاتمہ ضروری ہے اور یہ سب قانونی طریقے سے ہونا ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ سب کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیں۔

فوج اب بڑے مہذب انداز سے، بڑے جمہوری طریقے سے قانونی طریقے سے کہتی ہے کہ جو عدالت فیصلہ کرے گی ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔ فوج کا رویہ اب ایسا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدلیہ کیا فیصلے کرتی ہے۔ باقی سب سنی سنائی باتیں ہیں اور میں سنی سنائی باتوں پر تبصرہ نہیں کیا کرتا۔ ٹینکو کریٹ حکومت کا ابھی نہ سر ہے نہ پیر تومیں اس پر کیا کہوں۔ اگر اس بارے میں کوئی واضح چیز سامنے آجاتی ہے تو پھر اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر تبصرہ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ ہے کہ پچھلے دس سال سے، جب سے میں ریٹائر ہوا ہوں میں یہ کہتا پھرتا ہوں کہ ہمارا باہر کا کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں، ہمیں خارجہ پالیسی کے حوالے سے مسائل درپیش نہیں ہیں۔ ہمارے سارے کے سارے مسئلے اندرونی ہیں اور ہمارے بیرونی مسائل بھی ہمارے اندرونی مسئلوں ہی کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ ہماری سب سے بڑی ضرورت اپنے اندرونی معاملات کو درست کرنا ہے۔ داخلی استحکام کی ضرورت ہے۔ معاشی اور سیاسی استحکام پر ساری توجہ مرکوز کرنی ہے۔

ایکسپریس: ’’صفائی‘‘ سے متعلق خواجہ آصف اور چوہدری نثار کے بیان میں سے آپ کس کو درست سمجھتے ہیں اور کن بنیادوں پر؟

شمشاد احمد خان: مجھے نہیں پتہ کس نے کیا کہا ہے؟ میں کوئی تحریک چلانے والا نہیں، لیکن اگر اللہ تعالی مجھے توفیق دے تو میری تحریک ایک فقرے پر مشتمل ہو گی’’ سیاست میں خاندانی وراثت نہ منظور‘‘ یہ جمہوریت میں برائیوں کی جڑ ہے، جہاں خاندانی سیاست آ گئی وہ جمہوریت نہیں بلکہ بادشاہت ہے، میں تو سب سے پہلے قانون کے ذریعے موروثی اقتدار کو ختم کر دوں گا۔ آج یہ جو نسل در نسل حکمران بن رہے ہیں، ان کو کس نے یہ حق دیا۔ کون سی جمہوریت ہے جو اس طرح کا حق حکمرانی دیتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ انہیں سمجھ نہیں ہے، مریم ہو، حمزہ ہو یا بلاول، انہوں نے سوچ لیا ہے کہ حکمرانی ہمارا پیدائشی حق ہے۔

ایکسپریس: کیا آپ نہیں سمجھتے کہ آزاد کشمیر میں ہمارے اقدامات، وہاں اپنی سیاسی جماعتوں کو متعارف کروانے اور ایک باقاعدہ حکومت قائم کر دینے سے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں آئینی اقدامات کی سہولت فراہم ہوئی؟ اگر stand still agreement کی روح کے مطابق آزاد کشمیر کو جوں کا توں رہنے دیا جاتا اور اسے صرف آزادی کے بیس کیمپ کی حیثیت حاصل رہتی تو بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں قدم جمانے کا موقع نہ ملتا؟

شمشاد احمد خان: میں بالکل آپ سے متفق ہوں اور میں تو ہمیشہ یہی بات کرتا رہا ہوں کہ یہ ہمارا کام نہیں کہ ہم وہاں اپنی سیاسی پارٹیوں کے ونگ بنائیں۔ تو ان سیاست دانوں نے اپنے مفادات کے لئے ملک کو تقسیم کرکے اپنی اپنی بادشاہتیں قائم کر رکھی ہیں اور لوٹ مار کر رہے ہیں۔ ایک نے سندھ کو اپنا اکھاڑا بنایا ہوا ہے تو دوسرے نے پنجاب کو۔ تو آپ نے جو کشمیر کی بات کی ہے، وہ بالکل درست ہے۔ یہ ہونا ہی نہیں چاہیے کہ وہاں کا وزیراعظم پاکستان کے سیاسی مسائل پر تبصرہ کر رہا ہو۔

ایکسپریس: فارن آفس جب کسی بھی معاملہ پر مکمل تحقیق کے بعد فیڈ بیک دیتا ہے یا ایک رپورٹ بنا کر حکومت کو بھجواتا ہے تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے؟ کیا حکومت اسے مسترد بھی کر دیتی ہے؟

شمشاد احمد خان: جی! اکثر مسترد کر دیتے ہیں۔ بعض دفعہ تو ایسے احکامات دیتے ہیں کہ اگر وہ ہم نہ روکیں تو یہ ملک جو 70 سال گزار چکا ہے، سات سال بھی نہ رہتا۔ آپ شکر کریں کہ بیوروکریسی میں ایسے لوگ ابھی تک ہیں جو اس ملک کا دفاع کرتے ہیں۔ اگرچہ میں یہ بھی مانتا ہوں اور لیکچر بھی دیتا ہوں کہ بیوروکریسی میں 80 فیصد افسران کرپٹ ہیں، لیکن جو 20 فیصد دیانت دار ہیں، اگر نہ ہوتے تو یہ ملک 7 سال بھی نہ گزار پاتا۔

ایکسپریس: اس حوالے سے ہمارے قارئین کے ساتھ کوئی واقعہ شیئر کریں۔

شمشاد احمد خان: جب میں سیکرٹری خارجہ تھا تو اس وقت وزیراعظم کے گھر میں گریڈ 19 کا ایک افسر تھا، جو ان کی بیگم کا ملازم بنا ہوا تھا، ان کے بیگ اٹھاتا تھا، تو ایک دن نواز شریف صاحب نے مجھے کہا کہ اسے سفیر بنا کر بھیجنا ہے، میں نے معذرت کر لی کیوں کہ وہ اس کا اہل نہیں تھا، یہ میرا کام ہے اور میں بہتر جانتا ہوں کہ سفارت کاری کے لئے کس میں کتنی اہلیت ہے۔ بعد میں وزیراعظم نے لکھ کر احکامات جاری کر دیئے تو پھر قانون کے مطابق مجھے سرنڈر کرنا پڑا، کیوں کہ پھر میرے پاس دو ہی آپشن تھے کہ احکامات مانوں یا استعفی دے دوں، لیکن اگر ہم 20 فیصد بھی مستعفی ہونے لگے تو پھر ان کے لئے تو میدان بالکل خالی ہو جائے گا۔

اس بندے کو سفیر بنا کر ابوظہبی بھجوا دیا گیا، لیکن دو ہفتے بعد ہی مشرف والا معاملہ ہو گیا تو وہ صاحب فارغ ہو گئے۔ اسی طرح ایک اور واقعہ میں آپ سے شیئر کرتا ہوں کہ میں ساؤتھ کوریا میں سفیر تعینات تھا، تو ایک روز میں وہاں کے وزیرکامرس کے ساتھ گالف کھیل رہا تھا کہ اس دوران باتوں باتوں میں اس کے منہ سے نکلا کہ اس بار ہمارے ہاں مرچوں کی فصل اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ اس کا کیا کریں؟ جب اس نے یہ کہا تو مجھے فوراً ایک پاکستانی اخبار میں شائع ہونے والی وہ چھوٹی سی خبر یاد آگئی جس کے مطابق بیماری کی وجہ سے اُس برس پاکستان میں مرچوں کی فصل تباہ ہو گئی تھی، تو میں نے اسے ہنس کر کہا کہ ’’آپ کچھ ہمیں کیوں نہیں دے دیتے؟‘‘ تو اس نے جواب دیا ’’ آپ یہ سنجیدگی سے کہہ رہے ہیں؟‘‘ تومیں نے کہا بالکل، پھر وہ بولا ’’جاؤ جتنے مرضی جہاز لے آؤ میں بھر دوں گا۔‘‘

میں نے فوری طور پر اپنے سیکرٹری کامرس کو تار بھجوایا لیکن دو ہفتے تک کوئی جواب نہیں آیا، بعدازاں میں نے مخصوص تار بھجوایا، جو وزیراعظم، آرمی چیف سمیت تمام سربراہان ادارہ جات کو جاتا ہے، تو اس کے جواب میں رات کو بارہ بجے ہی مجھے فون آ گیا کہ ہم ایک جہاز بھجوا رہے ہیں، جہاز آگیا، جس پر میں نے اڑھائی ہزار ٹن مرچ لوڈ کروا کر اسے پاکستان بھجوا دیا۔ وقت گزرا… 90ء میں میرا ایران تبادلہ ہو گیا تو قانون کے مطابق وزیر اعظم سے ملنے کے لئے میں اسلام آباد رکا تو (ہنستے ہوئے) ان سے میرا تعارف بطور چلی سفیر (مرچوں والا سفیر) کروایا گیا۔ جب میٹنگ ختم ہوگئی تو ایک سیکرٹری نے مجھے کہا ’’شمشاد صاحب آپ نے تو یہاں ہل چل مچا دی تھی،جو خبر آپ نے دیکھی تھی، ایسی خبریں تو ہم لگواتے رہتے ہیں‘‘ وہ خبر ٹریڈنگ کارپوریشن والوں نے خود چلوائی تھی تا کہ فصل باہر سے منگوائی جا سکے کیوں کہ زرداری صاحب اس وقت وزیراعظم ہاؤس پر پنجے گاڑے ہوئے تھے۔

اس نے مجھے بتایا کہ تم نے تو ساری حکمت عملی پر پانی پھیر دیا، لیکن جب وہ جہاز آیا تو اس کے لئے سرٹیفکیٹ بنوائے گئے اور کہا گیا کہ یہ مرچ پاکستان کے لئے موزوں نہیں، حالاں کہ کوریا کی مرچ دنیا بھر میں بہترین ہے۔ بعدازاں پیسے کمانے کے لئے اس مرچ کو سری لنکا کو ایکسپورٹ کر دیا گیا۔ تو یہ ایک دو مثالیں ہیں، میری تو پوری زندگی انہیں معاملات میں گزری ہے، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر ہمارے حکمران نیک نیتی سے کام کرتے تو یہاں مارشل لاء نہ لگتے اور ملک بہت زیادہ ترقی کر چکا ہوتا۔ لوکیشن کے اعتبار سے ہمارے ملک کو امتیازی حیثیت حاصل ہے، ہم اپنی اس لوکیشن کی وجہ سے امریکا، چین، روس، گلف، یورپ غرض ہر ملک کے لئے بہت اہم ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم اس لوکیشن کو استعمال نہیں کر سکے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی لوکیشن کو اثاثہ بنائیں۔

ایکسپریس: آپ نے لوکیشن کی بات کی تو اس ضمن ہم آپ سے یہ پوچھنا چاہیں گے کہ بلاشبہ سی پیک ایک بڑا پراجیکٹ ہے، لیکن چند دانش وروں کا خیال ہے کہ یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی دوسری شکل ہے۔

شمشاد احمد خان: دیکھیں! پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم دانشور، میں بھی ایک دانش ور ہوں، اپنے آپ کو توپ سمجھتے ہیں، لیکن ہم اپنی ناک کی لمبائی سے زیادہ سوچ نہیں سکتے، اور پھر ہر چیز پر یہ کہتے ہیں کہ یہ ہمیں نقصان پہنچا رہی ہے، ہر چیز میں ہم امریکا، بھارت وغیرہ کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور اب چین کے پیچھے لگ گئے ہیں، یعنی ہمیں ہر وقت ایک ہدف چاہیے، ارے بھائی! تم کون سی توپ ہو؟ کبھی سوچو تو سہی کہ ہم نے خود اپنے

ساتھ کیا کر لیا ہے۔ میں وثوق سے کہہ رہا ہوں کہ ہمارا مسئلہ امریکا ہے نہ انڈیا، ہم اپنا مسئلہ خود ہیں، سچی بات پوچھیں تو بھارت کی 46ء کی سوچ کو ہم خود عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔ اس کی حالیہ مثال ڈان لیکس ہے۔ ہمارا دشمن ہمارے دروازے پر دستک نہیں دے رہا، وہ باہر نہیں، ہمارے اندر ہے اور وہ دشمن انسان نہیں بلکہ ایک سوچ ہے، یہ سوچ آپ کو پرنٹ میڈیا کے کالموں میں نظر آئے گی، خبروں میں نظر آئے گی، الیکٹرانک میڈیا پر نظر آئے گی، پارلیمنٹ کے فلور پر چادر لپیٹے نظر آئے گی، پارلیمنٹ کے فلور پر پگڑی باندھ کر تقریر کرتے ہوئے نظر آئے گی اور یہی سوچ آپ کو کشمیر کمیٹی کی صدارت کرتے ہوئے بھی نظر آئے گی۔ لہذا ہم نے خود اپنے آپ کو تماشا بنا دیا ہے۔

یہ جو ڈان لیکس تھا، اس ضمن میں، میں نے ایک کالم لکھا تھا، جس میں، میں نے کہا کہ مودی تو دعوی کرتا رہ گیا کہ میں نے پاکستان کے اندر سرجیکل سٹرائیک کی ہے، حالاں کہ ایسا نہیں ہوا لیکن ڈان لیکس کے ذریعے ہم نے اس کا مقصد خود پورا کر دیا، اس کے ذریعے فوج کو جو ٹیکہ لگانا تھا، وہ لگایا گیا، فوج کے امیج کو خراب کیا گیا۔ یہ جو دانش ور سی پیک پر بات کر رہے ہیں، انہیں یہ معلوم نہیں کہ چین نے پاکستان کے لئے کوئی پراجیکٹ نہیں بنایا۔ جیسے میں نے پہلے کہا کہ چین اب اپنے خول سے نکل رہا ہے۔ امریکا نے ایشیا پیوٹ (Asia Pivot) کے ذریعے چین کے گرد گھیرا ڈالا ہے، مگر وہ مسلح ہے، جس میں انڈیا، چاپان، ویت نام امریکا کے ساتھ ہیں، ان ملکوں کو امریکا اسلحہ دے کر چین کے گرد گھیرا تنگ کر رہا ہے کہ وہ باہر نہ آ سکے، تو اب چین نے اس کا توڑ ون روڈ ون بیلٹ کی شکل میں نکالا ہے، اور یہ صرف پاکستان کے لئے نہیں تھا۔

اچھا میں آپ کو یہ بھی بتاؤں کہ یہ آئیڈیا مشرف دور میں سامنے آیا تھا، لیکن کریڈٹ آج لیا جا رہا ہے، 2003ء یا 2004ء میں یہ معاہدہ ہوا تھا، جس میں یہ تمام چیزیں شامل تھیں، مجھے پتہ ہے کیوں کہ اس وقت میں خود ان تمام معاملات میں شامل تھا۔ اب چین نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب اس نے اپنے خول سے باہر جانا ہے، ڈیڑھ دو سال قبل اس نے سپین تک ٹرین چلا کر دنیا کو دکھا دیا، اس ٹرین میں بچوں کے لئے کھلونے تھے، جو وہاں مفت تقسیم کئے گئے، کیوں کہ اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہم آپ سے تعلق بنانا چاہتے ہیں۔

امریکا آپ کے ساتھ اسلحہ کے ذریعے ڈیل کرتا ہے، ہم آپ کے ساتھ پیار محبت کے ذریعے تعلق بنانا چاہتے ہیں۔ تو ہم اس روڈ کے راستے میں ہیں، چین نے ہمیں پہلے بھی قراقرم ہائی وے بنا کر دی ہوئی ہے، تو چین نے یہ کہا کہ آپ کے راستے کے ذریعے اپنی تجارت کرنا چاہتا ہوں، اس نے 2006ء میں ہمیں گواردرپورٹ بھی بنا کر چابی ہمارے ہی سپرد کر دی، لیکن یہاں ہماری نااہلی دیکھیں کہ ہم اسے کئی سال تک فعال ہی نہ کر سکے۔ تو سی پیک ایک اچھا ایجنڈا ہے، جس کی تکمیل پر چین کا ڈیڑھ سو بلین ڈالر لگے گا۔ یہ بالکل اسی طرح ہیں جس طرح دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا نے مارشل پلان بنایا تھا، جس کے ذریعے باقاعدہ شرائط کے ساتھ یورپ کی ری کنسٹرکشن کی گئی تھی۔ تو ایک طرح سے چین کا یہ مارشل پلان ہے، جو اس پورے خطے کے لئے بہتر ہے، یہ سڑک یورپ کے ذریعے افریقہ تک جائے گی۔

پاکستان تو بڑا خوش قسمت ہے کہ وہ اس پراجیکٹ کا حصہ ہے۔ لیکن ایک بات ہے کہ ہم نے اس پراجیکٹ کو مس ہینڈل کیا، میں نے دو سال قبل تقرریں کی تھیں کہ خدارا! اس کو دوسرا کالاباغ ڈیم نہ بنا دینا، اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے تو اسے سیاست دانوں اور بیوروکریسی کے شکنجوں سے الگ کرکے ایک خودمختار باڈی کے سپرد کیا جائے، لیکن ایسا نہیں ہوا تو پھر آپ دیکھ لیں کہ اورنج ٹرین کو سی پیک سے کوئی تعلق ہی نہیں، لیکن اس کو گھسیٹ لیا گیا، پنجاب والوں نے یہ کیا تو سندھ والے کہتے ہیں کہ تم نے اورنج ٹرین کی ہے تو ہماری گرین ٹرین اس میں شامل کرو، اسی طرح دوسرے صوبے ہیں۔ جس سے لوگوں کے ذہنوں میں شکوک پیدا ہو رہے ہیں، ان دونوں بھائیوں نے جو کیا ہے وہ اس فیڈریشن کے لئے زہر قاتل ہے۔

ایکسپریس: روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری حقیقی ہے یا پاکستان یہ سب مغرب کی خصوصی توجہ حاصل کرنے کے لئے کر رہا ہے؟ روس سے حقیقی معنوں مں قربت سے کیا ایران سے ہمارے تعلقات پر مثبت اثر پڑے گا؟

شمشاد احمد خان: نہیں! یہ مصنوعی نہیں، میرے زمانے میں ہی روس کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوششیں شروع ہو گئی تھیں، میں خود نواز شریف صاحب کو ماسکو لے کر گیا تھا۔ مقصد ہمارا یہ تھا کہ برف پگھلنی چاہیے، لیکن بوجوہ اس وقت روس ہمارے قریب نہ آ سکا، لیکن اب دنیا بدل رہی ہے۔ روس یہ جانتا ہے کہ پاکستان اس خطے کا سب سے اہم ملک ہے، جس کے بغیر سب کے لئے دردسر افغانستان کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، پاکستان کے علاوہ کوئی ملک افغانستان میں امن نہیں دے سکتا، اس بات کو امریکا بھی تسلیم کرتا ہے، روس بھی اور چین بھی۔ ہم نے تو چاروں ملکوں (امریکا، چین، افغانستان اور پاکستان) کے مابین ڈائیلاگ بھی شروع کروا دیا تھا، لیکن بھارت نے اس سبوتاژ کر دیا، مسئلہ اب سارا بھارت کا ہے، وہ امریکا کے کندھوں پر بیٹھ کر اس خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے، لیکن اس سے ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں، بڑی اقوام کو چیلنج درپیش ہوتے ہیں، جن کا انہوں نے جرات مندی کے ساتھ سامنا کرنا ہوتا ہے، لیکن اس کا حل جنگ یا سرنڈر کرنے میں نہیں بلکہ کامیاب حکمت عملی میں ہے۔

تو روس کے ساتھ پوٹینشل بڑھا ہے اور آج کل کے حالات میں یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم مل کر کام کریں۔ یہاں میں ایک اور بات بھی کرنا چاہوں گا کہ پاکستان کا اسلامی دنیا میں ایک بڑا مقام ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم وہ کردار ادا کریں، جو صدیوں تک یاد رکھا جائے اور وہ کردار یہ ہے کہ دنیا میں اسلامی ممالک کو ایک (سیاسی، اقتصادی اور فوجی) طاقت بنایا جائے، یہ جو او آئی سی ہے، سب بکواس ہے۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ اسلامی ممالک کا ایک بلاک بنے۔ دنیا میں اس وقت 57 مسلم ممالک ہیں، دنیا کا 60 فیصد خام مال اور 70فیصد توانائی کے ذرائع ہمارے پاس ہیں، لیکن دنیا کی جی ڈی پی میں ہمارا حصہ صرف 5 فیصد ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان وسائل کو اپنی اسلامی دنیا کے لئے استعمال کریں، پیسہ یہیں جمع ہو اور یہیں پر خرچ ہو۔

ایکسپریس: پاکستان کے حوالے سے ٹرمپ کی نئی پالیسی کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ کیا امریکہ اپنی ناکامیوں کا بوجھ ہم پر لاد کر بھارت کی مدد سے کوئی ایڈوانچر کرنے جا رہا ہے؟

شمشاد احمد خان: سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دیکھیں! ماضی سے سبق حاصل نہ کرنے کی طویل امریکی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب طاقت آ جاتی ہے تو پہلوان غلطیاں کرنے لگ جاتا ہے، لیکن امریکا کو پاکستان سے کوئی دشمنی نہیں، اور سچی بات پوچھیں تو ہمیں بھی اس سے کوئی دشمنی نہیں ہے، کیوں کہ ہمارے مفادات آپس میں ٹکراتے نہیں، لیکن ہم آج تک باہمی اعتماد کو فروغ نہیں دے سکے، جس کی وجہ چین کا وہ ایجنڈا ہے، جس کے تحت وہ خود کو خول سے باہر لا رہا ہے۔ دوسری طرف امریکا کو بھارت سے بہتر کوئی نہیں مل سکتا، جس کے ذریعے وہ چین کو دبا سکے، تو وہ (امریکا) پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کو اس مقصد کے لئے چننا چاہ رہا تھا، جس کے لئے بھارت پر ان کی نظر ٹھہری اور پھر انہوں نے بھارت کو کھل کر سپورٹ کیا، امریکا بھارت کو سب کچھ دے رہا ہے، لیکن اس لئے نہیں کہ وہ بھارت کو پسند کرتا ہے، بلکہ اس لئے کہ وہ چین کو پسند نہیں کرتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ چین کو کچھ پتہ نہیں، وہ داؤ لگائے گا۔کچھ بھی ہو جائے امریکا کے لئے ہماری اہمیت ختم نہیں ہو گی، میڈیا میں غلط رپورٹنگ بھی ہوتی ہے۔

ہمارے اندر خامیاں ہیں، یہ جو ہمارے وزیر خارجہ ہیں، ٹیلرسن کے آنے پر انہوں نے طویل بیان جاری کیا کہ ہم نے امریکا سے یہ بھی کہا، یہ بھی کہا۔ حالاں کہ وہ صرف پانچ گھنٹے کے دورے پر آیا تھا، وہ پانچ روز کے دورے پر بھی آ جاتا تو اتنا کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا، یہ تو بھیگی بلی ہیں۔ میں آپ کو بتاؤں کہ یہ تو وہ بریف تھا، جو ہمارے لوگوں نے انہیں بنا کر دیا تھا کہ اس کو پڑھ کر بات کرو، لیکن انہوں نے ایک لفظ تک نہیں پڑھا، تاہم بعدازاں اسی بریف کی پریس ریلیز بنا کر چلا دی گئی، بدقسمتی ہماری، ہمارے یہ حکمران ہیں، یہ پرچیاں لے کر بیٹھ جاتے ہیں، اس ضمن میں، میں آپ کو ایک واقعہ سناؤں کہ ہمارا وزیراعظم نواز شریف جواب نہ دے سکنے کے باعث بل کلنٹن سے ایک ایسی کمٹمنٹ کر بیٹھا تھا جو ہم نہیں کر سکتے تھے، شکر خدا کا یہ ہے کہ اگلے روز جب میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ گیا تو انہوں نے مجھے کہا کہ آپ کے وزیراعظم نے یہ کمٹمنٹ کی ہے تو میں نے کہا نہیں! ہم نے ایسی کوئی کمٹمنٹ نہیں کی، اچھا! اس پریشان کن صورتحال کی وجہ یہ تھی کہ عمومی طور پر میں وزیراعظم کے ساتھ بیٹھتا تھا اور پرچیاں بنا بنا کر انہیں دیتا رہتا تھا، لیکن اس روز اِن وزیروں مشیروں کی وجہ سے میری کرسی ساتویں نمبر پر تھی اور میں پرچی لکھ کر نہیں دے سکا۔ مصیبت یہ بھی ہے کہ امریکی ہمارے حکمرانوں پر اعتماد نہیں کرتے، جس کی وجہ یہ ہے کہ امریکیوں کو ان کی بات سمجھ میں آتی ہے نہ انہیں امریکیوں کی بات سمجھ میں آتی ہے۔

افغان جہاد کا فائدہ مغرب، اور نقصان ہم نے اٹھایا

پاکستان کو افغانستان میں روس کے خلاف استعمال کرنے کا فیصلہ کئی دہائیاں پہلے ہو چکا تھا

بڑی طاقتوں نے پاکستان بننے کی زیادہ شدید مخالفت اس لیے نہیں کی کہ اپنے سب سے بڑے دشمن سوویت یونین کے خلاف انہیں پاکستان کی ضرورت تھی۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کئی دہائیاں پہلے یہ حساب کتاب لگایا تھا کہ اس دشمن کو اگر ہم نے ختم کرنا ہے تو سوائے جذبہ جہاد کے یہ ختم نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے پاکستان بننے کے بعد یہاں ایسے حالات پیدا کیے کہ پہلے ہمیں معاشی طور پر محکوم رکھا، پھر عسکری امور میں اپنا دست نگر بنایا۔ پھر انہوں نے ہمارے اڈے استعمال کیے، سوویت یونین کی جاسوسی کے لیے، اس وقت مصنوعی سیارے نہیں ہوتے تھے، سب کچھ طیاروں کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ ہمارے اڈے سے امریکی جاسوس طیارہ یو۔2 اڑ کر سوویت یونین کی تصویریں لیا کرتا تھا۔ اس ساری تیاری کے بعد انہوں نے افغانستان میں جنگ شروع کی۔ افغانستان میں طاقت کا خلاء پیدا کیا۔ ظاہر شاہ کی بادشاہت کا خاتمہ کیا۔ اس سے سیاسی خلاء پیدا ہوا اور انہیں معلوم تھا کہ اس سیاسی خلاء کو پر کرنے کے لیے قریب ترین جو طاقت ہے، سوویت یونین وہ خود بخود کھنچا چلا آئے گا اور ایسا ہی ہوا۔

سوویت یونین کو تو گرم پانیوں تک رسائی چاہیے تھی اور انہوں نے سوچا کہ یہ بہت اچھا موقع ہے۔ انہوں نے ایک طرح سے ہماری مدد سے سوویت یونین کا ’’واٹرلو‘‘ پیدا کیا۔ ہمارے مدرسے اس مقصد کے لیے استعمال ہوئے۔ میں خود مدرسے کی پیداوار ہوں۔ میں نے مسجد میں قرآن شریف پڑھا اور اس کے بعد میں براہ راست پانچویں جماعت میں داخل ہوا۔ تاریخ میں ہمارے مدرسے کا کردار اسلامی اقدار سے روشناس کرانا ان کو قائم رکھنا اور ان کو فروغ دینا اور ساتھ ساتھ بچوں کی ابتدائی تعلیم کا بندوبست کرنا تھا۔ 60 کی دہائی تک یہ مقصد ہمارے مدرسے پورا کرتے رہے۔ لیکن جب افغانستان میں سیاسی خلاء پیدا کرکے سوویت یونین کو لایا گیا تو پھر سعودی پیسے اور امریکی ہتھیاروں کی مدد سے ان مدرسوں کو جہادی انکیوبیٹرز میں تبدیل کردیا گیا۔

ان مدرسوں نے بارہ، چودہ سال کے نوجوان جہادی پیدا کیے۔ ان سے جنگ لڑوائی گئی۔ ان جہادیوں نے نہ صرف سوویت یونین ٹکڑے ٹکڑے کردیا بلکہ دیوار برلن گرادی گئی۔ مشرقی یورپ آزاد ہوگیا۔ ستم ظریفی دیکھیںکہ اس جہاد کا سارے کا سارا فائدہ یورپ اور امریکہ نے اُٹھایا اور سارا ملبہ، کلاشنکوف کلچر، منشیات، تشدد اور 50 لاکھ مہاجرین کو ہماری جھولی میں ڈال دیا گیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔