کراچی، علمی اور ثقافتی سرگرمیوں کی بحالی

ڈاکٹر توصیف احمد خان  ہفتہ 4 نومبر 2017
tauceeph@gmail.com

[email protected]

بائیں بازو کے عظیم دانشور اسلم خواجہ نے گزشتہ 70 برسوں کے دوران ملک کے سیاسی ڈھانچے میں اثرانداز ہونے والی اہم سیاسی تحریکوں کی تاریخ کو انگریزی کی ضغیم کتاب Peoples Movements in Pakistan میں منتقل کیا۔ اس کتاب میں ہاری تحریک ، 1983ء میں جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف چلائی جانے والی تحریک بحالی جمہوریت (M.R.D) اور مزدوروں، خواتین اور صحافیوں کی تحریکوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ 600 سے زائد صفحات پر پھیلی ہوئی کتاب کی کمپوزنگ، پرنٹنگ اورکاغذ پر خطیر لاگت آئی ہے۔  پہلے منتخب وزیر اعظم کے نام پر قائم ذوالفقارعلی بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا شمار اعلیٰ تعلیم کے معیاری اداروں میں ہوتا ہے۔

زیبسٹ کا کیمپس کلفٹن میں قائم ہے۔ مجموعی طور پر زیبسٹ کا ماحول جدیدیت کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ زیبسٹ میں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان طلباء و طالبات کی اکثریت ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد امریکا اور یورپ جانے کی جستجو کرتے ہیں، باقی نوجوان ملٹی نیشنل کمپنیوں اور بینکوں اور اسی طرح کے دیگر اداروں میں ملازمتیں حاصل کرتے ہیں۔ ڈاکٹر پروفیسر ریاض شیخ زیبسٹ میں سوشل سائنس کی فیکلٹی کے ڈین ہیں جو پہلے سول سروس آف پاکستان (C.S.P) کا حصہ تھے مگر نوجوانوں میں آگہی پیدا کرنے کی جستجو دل میں رکھتے ہیں، یوں اس ملک میں حکمرانی اور اپنی آیندہ نسلوں کو ارب پتی بنانے والے کیریئرکو چھوڑ کر معلمی کا پیشہ اختیارکیا۔

ڈاکٹر ریاض شیخ ہمیشہ سے طلبہ میں سائنٹیفک اور ترقی پسند سوچ پیدا کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ انگریزی، اردو اور سندھی میں متعدد کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ انھوں نے تاریخ فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے ساتھ مل کر سوویت یونین کے سو سال ہونے پر ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا خاکہ تیار کیا۔ زیبسٹ کے انتظامی اکابرین ایک روشن خیال سوچ کی پاسداری کرتے ہیں، یوں 17 اکتوبر کے تاریخی دن سو سال قبل تاریخ کے ایک عظیم انقلاب کے اثرات اور سوویت یونین کے بکھرنے کے اسباب کا جائزہ لینے کے لیے کانفرنس منعقد ہوئی۔

ملک کی سرکاری اور غیر سرکاری یونیورسٹیوں میں اس موضوع پر یہ پہلی کانفرنس تھی۔ اس کانفرنس میں ماہرین تعلیم اور محققین نے اپنے مقالے انگریزی اور اردو زبانوں میں پیش کیے۔ طلباء اور طالبات کی اکثریت نے اس کانفرنس کے صبح 9:00 بجے سے شام 5:00 بجے تک منعقد ہونے والے پانچ سیشنوں میں بھرپور طور پر شرکت کی۔ طلبہ نے ہر سیشن کے سوالات کے حصے سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ صبح کے وقت طلبہ کی بھاری تعداد کو دیکھ کر بعض شرکاء کو حیرت تھی۔

کچھ کا خیال تھا کہ 11:00 بجے کے بعد منتظمین کے لیے مشکل حالات آئیں گے اور دوپہر کو کھانے کے وقفے کے بعد منتظمین کا امتحان شروع ہوگا مگر طلباء و طالبات شام ڈھلنے تک موجود رہے۔ آخری سیشن میں وقت کی کمی کی بناء پر سوالات کا سیشن منسوخ کردیا گیا تو طالب علموں نے چائے پر مقالہ نگاروں پر سوالات کی بھرمار کردی۔ عمومی طور پر یونیورسٹیوں میں ہونے والی ان کانفرنسوں کے موقعے پر کتابوں کے اسٹال لگائے جاتے ہیں۔ 17 ستمبر کو کئی پبلشر زنے اپنی کتابوں کے اسٹال لگائے تھے۔ اس دن خوب کتابیں فروخت ہوئیں۔ اسلم خواجہ کی مہنگی کتاب کی بہت سی جلدیں فروخت ہوئیں۔ پبلشرز شام کو خوشحالی کے سائے میں اپنے گھروں کو گئے۔

گزشتہ کئی برسوں کی طرح کراچی کے بارے میں دو روزہ کانفرنس گزشتہ ہفتے اور اتوار کو آرٹس کونسل میں منعقد ہوئی۔ ڈاکٹر اسماء ابراہیم اس کانفرنس کی روح رواں  تھیں۔ ان کا تعلق اسٹیٹ بینک سے ہے۔ انھوں نے اسٹیٹ بینک میں ایک تاریخی میوزیم بنایا ہے جس میں قیمتی سکے اور دیگر نوادرات رکھی گئی ہیں۔ معروف سماجی اور سائنسی شخصیت اور آرکیٹیکٹ عارف حسین کے تعاون سے کراچی کی پسماندگی اور ترقی کے تناظر میں اس کانفرنس کا انعقاد کیا۔

انسانی حقوق کے کارکن آئی اے رحمٰن نے اپنے کلیدی مقالے میں سندھ کی تاریخ اور سندھ سے تحریک پاکستان کی حمایت کے پس منظر، سندھ میں ہونے والی فرقہ وارانہ سیاست کے پس منظر اور سندھ کی ترقی میں غیر مسلموں کے کردار کا جائزہ لیا۔ دیگر مقالہ نگاروں نے کراچی کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تنقیدی جائزہ لیا۔ سابقہ بندر روڈ (موجودہ ایم اے جناح روڈ) کی سیاسی اہمیت خاص طور پر اس شاہراہ پر کمیونسٹ پارٹی اور مزدور تنظیموں کے دفاتر اور ان دفاتر سے وابستہ معروف شخصیتوں کا بھی ذکر ہوا۔ اس کانفرنس کے دوران زیادہ تر موضوعات خشک نوعیت کے تھے مگر نوجوان طلباء و طالبات کے علاوہ مختلف اداروں، ملٹی نیشنل کمپنیوں، بینکوں اور سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے نوجوانوں کی ایک اکثریت دو روز تک کانفرنس میں موجود رہی۔

جس وقت کراچی میںیہ کانفرنس منقعد ہورہی تھی اسی وقت کیماڑی کی بندرگاہ کے سائے میں بیچ لگژری ہوٹل میں سندھ لٹریچر فیسٹیول منعقد ہورہا تھا۔ اس فیسٹیول میں سندھ بھر سے اساتذہ، صحافی، طالب علموں، سیاسی کارکنوں، خواتین، ادیبوں، شعراء اور فنکاروں کی بھاری تعداد نے شرکت کی۔ اس دو روزہ فیسٹیول میں تعلیمی، علمی، سماجی، تاریخی اور سیاسی موضوعات پر کئی درجن مباحثہ منعقد ہوئے۔

ان مباحثوں میں سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی اور نیشنل پارٹی کے رہنما میر حاصل بزنجو سمیت صحافیوں، اساتذہ اور دیگر سماجی ماہرین نے بھرپور شرکت کی۔ میڈیا سے متعلق موضوع پر تو سننے والوں کا رش دیکھنے کے قابل تھا۔ پھر اردو اور سندھی زبانوں میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں شاعروں کی حوصلہ افزائی کرنے والے بھاری تعداد میں موجود تھے۔ موسیقی کے پروگراموں میں تو ہمیشہ کی طرح ریکارڈ رش تھا۔ لوگ دو دن تک صبح سے رات گئے تک لٹریچر فیسٹیول کے مختلف سیشنوں سے معلومات حاصل کرتے رہے اور موسیقی کے پروگراموں سے لطف اندوز ہوتے رہے،اس فیسٹیول کی ایک خاص بات کتابوں کے اسٹالز پر لوگوں کا مسلسل جمع ہونا تھا۔ان کتابوں کے اسٹالوں پر اردو، سندھی اور انگریزی زبان کی کتابیں دستیاب تھیں۔ ان میں وہ کتابیں بھی شامل تھیں جن کی تقریب اجراء فیسٹیول میں ہوئی اوروہ کتابیں بھی شامل تھیں جو گزشتہ کئی برسوں کے درمیان شایع ہوئیں۔

کتب بینی کے شوق کو عام کرنے کے لیے زندگی وقف کرنے والے عبدالوحید بلوچ نے بلوچستان سے متعلق کتابوں کا اسٹال لگایا ہوا تھا۔ اس اسٹال پر لوگوں کی سب سے زیادہ توجہ رہی۔ اسلم خواجہ کچھ وقت اس اسٹال پر رہے۔ ان کے سامنے ان کی کتاب سمیت دیگر کتابوں کی بہت سے جلدیں فروخت ہوگئیں، یوں محسوس ہوتا تھا کہ نوجوانوں، بزرگوں اور خواتین کو بہت عرصے سے تاریخی، سماجی، سیاسی، میڈیا اور خواتین اور دیگر موضوعات پر شایع ہونے والی کتابوں کی تلاش تھی۔ فیسٹیول میں شرکت کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ کتابوں کی خریداری کے پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے اور اکتوبر کے آخری پندرہ دنوں میں کراچی میں اس طرح کی علمی تقریبات میں عوام کی جوش و خروش سے شرکت اور کتابوں کی ریکارڈ خریداری کراچی کے کلچر میں ایک بہت بڑی تبدیلی کا اظہار کررہی ہے۔

جنرل ضیاء الحق نے اقتدار میں آتے ہی ہر قسم کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگادی تھی۔ ثقافتی سرگرمیوں پر بظاہر پابندیاں عائد نہیں ہوئیں مگر ثقافتی پروگراموں کی حوصلہ شکنی کی پالیسی اختیار کی گئی۔ موسیقی کے پروگراموں کی تو اجازت ہی نہیں تھی۔ ہر تقریب کی ڈپٹی کمشنر سے اجازت لازمی تھی۔ ڈپٹی کمشنر خفیہ عسکری اور سول ایجنسیوں کے این او سی کے بغیر اجازت دینے کا اختیار نہیں رکھتے تھے،  اگرکسی تقریب کی اجازت مل جاتی تو سفید کپڑوں میں ملبوس خفیہ اہلکار ہرکارروائی کو قلم بند کرتے نظر آتے تھے۔ شہر میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے، تو شہرکاایک حصہ ہفتوں تک کرفیو کی زد میں آگیا۔ کراچی ستمبر 1987ء میں لسانی تنازعات کا شکار ہوا۔ لسانی فسادات نے ہر چیزکو تہس نہس کردیا۔ پہلے کئی سال تک شہر کے مختلف علاقے کرفیو کی زد میں رہے۔

لسانی کشیدگی نے خوف کا ماحول برقرار رکھا، جب لسانی تنازعات سرد پڑے تو شہر میں فرقہ وارانہ، سیاسی، لسانی اور نامعلوم وجوہات کی بناء پر ٹارگٹ کلنگ کی لہر آئی۔ اس کے ساتھ ہی اغواء برائے تاوان کی وارداتوں نے لوگوں کو گھروں تک محدود کیا۔ اس کے بعد خودکش حملوں اور بم دھماکوں کی صورتحال نے معاملے کو مزید خراب کر دیا۔ ایک وقت تو ایسا برا آیا کہ ایک مشاعرے میں عظیم شاعر جون ایلیا جنگجو نوجوانوں کی چیرہ دستی کا شکار ہوئے مگر ایسی صورتحال میں بھی کراچی پریس کلب اور کراچی آرٹس کونسل دو ایسے ادارے تھے جنہوں نے سیاسی اور ثقافتی سرگرمیوں کو برقرار رکھا۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کے چند مہم جو اساتذہ نے آرٹس کونسل میں تعلیمی موضوعات پر کئی بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد کر کے آرٹس کونسل والوں کو ایک نیا راستہ دکھایا۔

آرٹس کونسل کے مرد آہن احمد شاہ نے عالمی اردو کانفرنسوں کا آغاز کیا اور آرٹس کونسل کے دروازے ہر نوعیت کے علمی، تعلیمی اور ثقافتی پروگراموں کے لیے کھول دیے گئے، اس طرح  کراچی شہر میں صحت مندانہ ثقافتی سرگرمیوں کی ایک نئی ریت شروع ہوئی۔ ان تقریبات سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ کراچی کے عوام محض فوڈ اسٹریٹ کی دکانوں کی رونق بڑھا کر اپنا وقت نہیں گزارتی بلکہ علمی، ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لینے کا ذوق رکھتے ہیں۔

2017ء میں اکتوبر کے آخری عشرے میں اتنی علمی تقریبات میں عوام کی بھرپور شرکت اور کتابوں کی ریکارڈ خریداری کراچی کے کلچر میں ایک صحت مند تبدیلی کی غمازی کرتی ہے۔ اس تبدیلی کو ہمیشہ کے لیے برقرار رکھنے میں عوام، حکومت اور اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔