پنجاب میں اسموگ سے حد نگاہ صفر، حادثات میں 2 افراد جاں بحق

ویب ڈیسک  ہفتہ 4 نومبر 2017
پاور پلانٹس بند ہونے سے بدترین لوڈشیڈنگ شروع جبکہ ایک ہفتے تک بارش کا کوئی امکان نہیں۔ فوٹو: فائل

پاور پلانٹس بند ہونے سے بدترین لوڈشیڈنگ شروع جبکہ ایک ہفتے تک بارش کا کوئی امکان نہیں۔ فوٹو: فائل

 لاہور: پنجاب بھر میں گہری اسموگ کا راج ہے جس کے نتیجے میں متعدد پروازیں منسوخ ہوگئیں جبکہ قومی شاہراؤں کے بعض مقامات پر حد نگاہ صفر ہوگئی ہے۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق لاہورسمیت پنجاب بھرمیں دھند دھویں اور گردوغبار کے مرکب سے بننے والی اسموگ ہر گزرتے دن کے ساتھ گہری ہوتی جا رہی ہے جس کے باعث کئی مقامات پر حد نگاہ صفر ہوگئی ہے۔ شدید دھند کی وجہ سے مختلف حادثات میں 2 افراد جاں بحق اور 27 زخمی ہوگئے۔ موٹروے ایم 3 کو پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد تک  اور موٹروے ایم 2 کو پنڈی بھٹیاں، سیال موڑ سے لاہور تک کے لیے بڑی گاڑیوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

موٹر وے حکام کے مطابق  لاہورسے پتوکی اور چیچہ وطنی تک حد نگاہ صفرسے 150 میٹر، میاں چنوں سے خانیوال، ملتان اور بہاولپور تک حد نگاہ صفر سے 50 میٹر تک رہ گئی۔ رات گئے لاہور سے کوٹ مومن تک حد نگاہ 50 سے 200 میٹر تک ہے۔ جی ٹی روڈ پر بھی دھند اور اسموگ کی وجہ سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوکر سست روی کا شکار ہے۔ موٹر وے  حکام نے اپیل کی ہے کہ کہ شہری اسموگ و دھند کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اگر سفر کرنا ہو تو  گاڑیوں پر فوگ لائٹس کا لازمی استعمال کیا جائے ۔

دھند کی وجہ سے مڈھ رانجھا کے مقام پر ایم ٹو موٹر وے پر8 آٹھ گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں جس کے نتیجے میں 10 افراد زخمی ہوگئے۔ فیصل آباد میں ٹرالر اور ڈمپر میں تصادم کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے۔ فتح آباد فیصل آباد روڈ کے قریب بس الٹنے سے ایک شخص جاں بحق اور 14 زخمی ہوگئے۔

اسموگ کی وجہ سے ٹرینوں اورایئرپورٹس پر پروازوں کی آمدورفت میں تاخیر اور منسوخی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ کراچی سے ملتان، ملتان سے مدینہ اور مدینہ سے ملتان، کراچی سے فیصل آباد، فیصل آباد سے جدہ اور جدہ سے فیصل آباد کی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق  ایک ہفتے تک صوبہ بھر میں بارش کے کوئی امکانات نظر نہیں آ رہے۔

دوسری جانب فضا میں آلودگی  سے جہاں منظردھندلا گئے ہیں وہیں پنجاب میں اسموگ بجلی کی ترسیل کےلیے چیلنج بن گئی۔ این ٹی ڈی سی کا سسٹم بار بار ٹرپ ہونے کے باعث چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے چاروں یونٹ بند کردیےگئے تھے، پاورپلانٹس بند ہوتے ہی لاہور، فیصل آباد اورملتان ریجن میں بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ جنوبی پنجاب کے 13  اضلاع میں لوگوں نے ساری رات بجلی کے بغیرگزاری جب کہ لاہورمیں بھی ہر ایک گھنٹے بعد ایک گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کاسلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

وزارت پانی و بجلی نے مظفر گڑھ جام شورو میں چاروں تھرمل پاورپلانٹس سمیت  کئی دوسرے پاورپلانٹس  بھی بند کر دیئے، فرنس آئل اورڈیزل پرچلنےوالے پاورپلانٹس بندہونےسے 4 ہزار250 میگاواٹ بجلی سسٹم میں کم ہوگئی اور پانی کے کم اخراج سے بھی بجلی کی پیداوار7 ہزار کے بجائے صرف 2700 میگاواٹ رہ گئی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔