بلدیہ عظمیٰ کی تاریخ میں پہلی بار ملازمین اور سروسز گاڑیوں کا ڈیٹا کمپیوٹرائز کردیا

اسٹاف رپورٹر  منگل 7 نومبر 2017
اس ویرفیکشن کے عمل سے لا کھوں رو پے کی بچت بھی ہو گی اورجو گاڑی چلے گی اس کو ایندھن جا ری ہوگا۔ فوٹو : ایکسپریس

اس ویرفیکشن کے عمل سے لا کھوں رو پے کی بچت بھی ہو گی اورجو گاڑی چلے گی اس کو ایندھن جا ری ہوگا۔ فوٹو : ایکسپریس

 کراچی: بلدیہ عظمیٰ کی تاریخ میں پہلی بار ملازمین اور سروسز گاڑیوں کا ڈیٹا کمپیوٹرائز کردیا جب کہ ایک ایک گاڑی کی تصویراوروڈیو محفوظ کرلی گئی ہے جس سے گاڑیوں کی جانچ پڑتال کے بعد ایندھن کی بچت ہوگی۔

مئیر کراچی کی ہدایت پرکے ایم سی میں ایم کیوایم کے پارلیما نی لیڈر اسلم آ فریدی کی سر براہی میں محکمہ وہیکل کے افسران فرید تاجک،محمد عثمان، مقصود احمد ، ظفر عالم پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جس نے ملازمین کی ایک ایک گا ڑی کی فزیکل ویر ی فکیشن کی گئی جس میں لاکھوں روپے کے ایندھن کی بچت ہوئی اور دوسرے مرحلے میں سروسز کی گاڑیوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی جن میں فائر بریگیڈ کے فائر ٹینڈرز، باؤزر، اسپرے کر نے والی گاڑیاں اوردیگر گاڑیاں تھیں۔

بلدیہ عظمیٰ کی تاریخ میں یہ پہلی بار یہ عمل کیا گیا جس سے تمام گاڑیوں کی جانچ پڑتال مکمل ہوگئی اب کسی گھوسٹ گاڑی کو ایندھن جاری نہیں ہوسکے گاصرف ایک بٹن دبا کر گاڑی کی مکمل معلومات سامنے آجائے گی ۔ کمیٹی کی ہدایت تھی کہ فزیکل ویری فکیشن کے لیے گاڑی کو چلتا ہوا آنا چاہیے اس کے بعد پوری تصدیق ہوگی اور پھر ایک سرٹیفکیٹ جاری کیا جا ئے گا جس کے بعد اس گاڑی کو ایندھن کی فراہمی مکمن ہوپائے گی ایندھن کی چوری اب ناممکن ہوجائے گی جب کہ محکمہ وہیکل کے افسران کی محنت کے بعد یہ سب کچھ ممکن ہو پایا۔

کمیٹی کے سربراہ اسلم آفریدی کا کہنا تھا کہ میئرکراچی کی ہدایت پر کے ایم سی کی گاڑیوں کی فزیکل ویرفیکشن شروع کی گئی جس میں محکمہ وہیکل نے بھرپور تعاون کیا ،افسران نے محنت کی،اور کمیٹی میں شامل افسران نے 2ماہ میں تمام گاڑیوں کی جانچ پڑتال مکمل کی ہے ،بلدیہ عظمیٰ سے کرپشن ختم کرکے رہیں گے۔

اسلم آفریدی کا کہنا تھا کہ کے ایم سی کے ملا زمین کی گاڑیاں جن کی جانچ پڑتال مکمل ہوئی۔ فٹنس پاس کرنیوالی گاڑیوں کی تعداد 566ہے اور فٹنس پاس نہ کرنے والی گاڑیوں کی تعداد 119ہے، بلدیہ عظمیٰ میں سروسز گاڑیوں کی تعداد252ہے اور اسپتال اور دیگرمقامات پر نصب جنریٹر کی تعداد 28ہے اس طرح اب بلدیہ عظمیٰ کو جو بھی ایندھن جاری کیا جائے گا اور اس کا تمام ریکارڈ ہمارے پاس محفوظ ہے، اس کے علاوہ گاڑیوں اور جنریٹر کی تصاویر اور وڈیو بھی موجود ہے اس طرح تمام ریکارڈ کمپیوٹرائز کر دیا گیا، انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمی میں یہ تاریخ رقم ہوئی اور اب یندھن کی چوری ناممکن ہوگئی اور اس ویرفیکشن کے عمل سے لا کھوں رو پے کی بچت بھی ہو گی اورجو گاڑی چلے گی اس کو ایندھن جا ری ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔