وہ کسی اور کو خوش کر رہے ہیں

سیدہ شہلا رضا  جمعرات 9 نومبر 2017

نوازشریف کہتے ہیں کہ وہ مجھے اس لیے گالیاں دے رہے ہیں کہ وہ کسی اورکو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے اس بیان سے دو روز قبل مریم نواز نے بھی اس طرح کا بیان دے چکی ہیں، لیکن دونوں نے یہ بتانے سے گریزکیا کہ کسے خوش کرنا مقصود ہے۔

میں اس بحث سے گریز کرتے ہوئے کہ باپ بیٹی کا اشارہ کس جانب ہے صرف اتنا عرض کرنا چاہتی ہوں کہ جن لفظوں کو آج گالی کہا جارہا ہے اس سے کہیں بڑھ کر خود موصوف کہتے رہے ہیں۔ جب انھوں نے بینظیر کو سیکیورٹی رسک قرار دیا تھا۔ اس وقت وہ کس کی خوشنودی چاہتے تھے۔کسی بھی ذات کے لیے سیکیورٹی رسک جیسا لفظ استعمال کرنا یقینا گالی سے بڑھ کر ہے۔ صرف یہی نہیں اس وقت شہباز شریف، زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے اور پیٹ پھاڑنے کی باتیں کرتے تھے تو وہ کس کی آنکھ کا تارا بننے کی کوشش تھی۔ بات آگے بڑھاؤں تو نوازشریف کا ایک لے پالک اس قدرگھٹیا ہوگیا تھا کہ اس نے کہاکہ جب تک بچوں کو ننگے پیر فٹ پاتھ پر نہیں چلاؤںگا سکون سے نہیں بیٹھوںگا،کیا یہ گالی سے بڑھ کر نہیں ہے؟

میری قطعی یہ نیت تھی کہ کسی ایسی شخصیت کو زیر بحث لایاجائے جو اب اس دنیا میں نہیں لیکن بات جب خوشنودی حاصل کرنے کی ہے تو وہ کیسے موضوع نہیں بنیںگے جو نئے ماڈل کی بی ایم ڈبلیو (BMW) دے کر اپنے صاحبزادوں کے لیے خوشودگی حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے تھے۔ یہ راز تب طشت از بام ہوا جب کسی نے بی ایم ڈبلیو (BMW) کا تحفہ وصول کرنے سے انکار کردیا لیکن کیا وہ پہلا شخص تھا جسکی خوشنودگی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

اس مختصر تحریر میں وہ باتیں دہرانا نہیں چاہوںگی جو اس سے پہلے کچھ احباب کہہ چکے ہیں۔ مثلاً کالاکوٹ اور ٹائی پہن کر کورٹ میں پیش ہوکر کسے خوش کرنا چاہتے تھے یا عدلیہ بحالی کے نام پر کس کی آشیرباد حاصل کرنے کے لیے نکالا گیا تھا۔ میں اس تحریر میں نہ خواجہ آصف کی پٹیشن پر بات کروںگی نہ ہی ن لیگ اور افتخار چوہدری کے گٹھ جوڑ کا ذکر کروںگی یہ کسی کے ایما پر اور کسے خوش کرنے کے لیے یہ ڈرامے کیے گئے۔ میں تو اس کا بھی ذکر نہیں کروںگی کہ کسے خوش کرنے کے لیے جونیجو کی برطرفی کے بعد کسے خوش کرنے کے لیے فدا احمد خان جیسے سینئر مسلم لیگی کے ساتھ وہ برتاؤ کیا گیا کہ وہ سیاست سے ہی تائب ہوگئے۔

اگرچہ میں سمجھتی ہوں کہ مجھے اس کا ذکر ضرور کرنا چاہیے کہ کسے خوش کرنے کے لیے وزارت خارجہ کی مخالفت کے باوجود آپ اس وزیراعظم کی حلف برداری میں شریک ہونے پہنچ گئے جس کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔ صرف یہی نہیں کہ آپ نے اپنے ساتھ نہ کسی منتخب کو ساتھ لے جانا قبول کیا نہ وزارت خارجہ کا کوئی افسر مشورے کے لیے ساتھ لیا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ رہی ہو کہ آپ خود کو عقل کل سمجھتے تھے۔ آپ نے قابل سمجھا تو اپنے صاحبزادے کو جسے آپ ساتھ لے گئے تھے لیکن چاہنے کے باوجود میں اس کا ذکر نہیں کروںگی۔

نہ ہی اس بات کو دہراؤںگی کہ کسے خوش کرنے کے لیے آپ نے حریت کانفرنس کے وفد سے ملنے سے انکار کیا اور چند اداکاروں اور چند بزنس پارٹنرز سے ملاقات کرکے واپس آگئے۔ جن طاقتوں کو خوش کرنے آپ نے یہ عمل کیا انھی طاقتوں کو خوش کرنے کے لیے آپ نے اس قاتل وزیراعظم کو اس طرح اپنی ذاتی تقریب میں مدعو کیا جس میں آپ انتہائی قربت کا دعویٰ کرنے والے وزیر تک مدعو نہیں تھے۔ مجھ میں ہمت ہوتی تو میں یہ بھی تحریر کرتی کہ انھی طاقتوں کو خوش کرنے کے لیے آپ نے اس بھارتی جاسوس کا نام تک لینا گوارا نہیں کیا جس کے خلاف ہمارے اداروں کے پاس ٹھوس ثبوت تھے۔

شہنشاہ معظم اور شہزادی صاحبہ بات حد ادب سے گزر کر کسی اور مقام تک پہنچ جائے گی اس لیے گریز کروںگی کہ آپ سے یہ سوال کروںکہ آپ وہی ہیں نا جو پاکستان کے وزیراعظم تھے جب آپ کے کارندوں نے جامعہ کراچی کی ایک ایم ایس سی فائنل کی طالبہ کو گرفتار کرکے اس پر سنگین جرائم کی ایک ایف آئی آر کاٹی تھیں جن میں اسلحہ سپلائی، پولیس پر فائرنگ اور ڈبل مرڈر کیس شامل تھے۔

بات یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ آپ کے نامزد کردہ لوگوں نے بڑی مچھلیاں پکڑلینے کے دعوے بھی کیے۔ 27دن سی آئی اے اور ساڑھے چار ماہ جیل میں رکھا یہاں تک کہ ضمانت کی بارہ درخواستیں بھی مسترد کروائیں۔ صد شکر کہ وہ طالبہ آپ ہی کے دور میں انھی الزام سے کورٹ کے ذریعے بری ہوئی۔ اس نے تو آپ سے کبھی یہ سوال نہیں کیا کہ آپ نے کس کو خوش کرنے کے لیے یہ سب کچھ کیا لیکن آپ خود تو جانتے ہوںگے کہ آپ نے کسے خوش کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا تھا۔

آپ سے کوئی سوال نہ کرنے کے باوجود یہ سوال تو بنتے ہیں کہ کسے خوش کرنے کے لیے آپ نے اسامہ بن لادن سے ملاقاتیں کیں اور آج بھی آپ کے تعلقات ان جماعتوں سے ہیں جنھیں دہشتگرد قرار دیا جاچکا ہے اور آپ کے قریبی ساتھی ان دہشتگردوں کے ساتھ جلوسوں میں نظر آتے ہیں۔ یہ سوال بھی بنتا ہے کہ کس کے اشارے پر آپ کی پولیس نے فائرنگ کرکے چودہ معصوم لوگوں کو قتل اور 90 افراد کو نہایت بے رحمی سے زخمی کیا بلکہ اس کی تحقیقات کو سرد خانے میں ڈال دیا۔

یہ سوال البتہ نہیں بنتا کہ آپ نے اپنے سگے بھائی کے پُرسے کے لیے آنے سے روک کر آپ نے کسے خوش کرنا چاہا۔ جب کہ آپ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ رویہ اسلامی تہذیب اور ہماری روایات کے سراسر منافی تھا لیکن آپ کا ہر دو باتوں سے کیا تعلق۔

ایک مشورہ ہے جو میں عرض کرنا چاہتی ہوں اگرچہ آپ کے نزدیک یہ گستاخی ہوگی۔آپ کی خدمت میں مریم صاحبہ کی خدمت میں اور متوقع ولی عہد کی خدمت میں کہ اپنی زبان سے زہر اُگلنے سے پہلے چاہے یہ مصرعہ نہ پڑھیں کہ دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ لیکن ایک بار آئینہ ضرور دیکھ لیا کریں۔ کیونکہ آئینہ سچ دکھاتا ہے اگرکوئی سچ دیکھنا چاہے۔

( مضمون نگار سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ہیں)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔