آخر آپ سوچنا کیوں نہیں چھوڑتے؟

نجمہ عالم  جمعـء 10 نومبر 2017
najmalam.jafri@gmail.com

[email protected]

وطن عزیز میں تعلیم کی موجودہ تباہ کن صورتحال کی بہتری کے لیے دانشوران قوم عموماً مختلف، بے ضرر تجاویز پیش کرنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں اور پھر یہ تجاویز منظر عام پر بھی آجاتی ہیں۔ تو کیا ان پر عمل بھی ہوتا ہے؟ یہ سوال ہمارے ذہن میں اس لیے آیا کہ ملک بطور خاص صوبۂ سندھ کے اور بھی کئی مسائل کے حل کی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں مگر ان پر عمل ہوتا نظر نہیں آتا معاملہ کام نہ ہونے کا نہیں بلکہ عوام کی نظر کا قصور ہے جنھیں کچھ ہوتا نظر ہی نہیں آتا۔ گزشتہ ماہ کی 28 کو ایک خبر نظر سے گزری کہ ’’تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ماہرین تعلیم اپنا کردار ادا کریں‘‘ ڈپٹی کمشنر۔

اس خبر کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ کچھ اسکول کھلے ہوئے ہیں مگر ان کے ایس ایم سی فنڈز استعمال نہیں ہو رہے وجہ یہ ہے کہ ان کے اکاؤنٹ بند پڑے ہیں۔ یہ صورتحال اس میٹنگ میں سامنے آئی جس میں ذمے داران کو ڈپٹی کمشنر کی جانب سے نظام تعلیم کو فعال کرنے کی ہدایت دی گئی تھی اسی دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ ایک این ٹی سی پاس استاد کی تمام اسناد جعلی ہیں یہ ثابت ہونے پر اس کی تنخواہ روک لی گئی ہے۔ جس کی تحقیق کی رپورٹ ایک ہفتے میں پیش کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔

اس پوری خبر کو پڑھ کر ہر ’’باشعور‘‘ اور ماضی کے سرکاری اسکول سے فارغ التحصیل شخص صورتحال کے بارے میں بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ جعلی اسناد محض اس ایک استاد کے نہیں بلکہ کئی چہیتے بلکہ سیکڑوں افراد کے پاس ہوں گی۔ اور جب یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اس استاد کی اسناد جعلی ہیں تو پھر ایک ہفتہ مزید تحقیقات پر ضایع کیوں کیا جائے؟

بات ہو رہی تھی نظام تعلیم کی بہتری کی مگر صورتحال ہوگئی معاشرتی، مگر اس معاشرتی مسئلے کی جڑکیونکہ علم و آگاہی کی کمی ہی ہے تو سرفہرست مسئلہ تعلیم کا ہی قرار دیا جائے گا۔ اس ’’چھوٹی سی تمہید‘‘ کے بعد ہم آتے ہیں اپنے دیرینہ نقطہ نظرکی سمت کہ جب تک وطن عزیز ملک خداداد میں سابقہ حکام کے مراعات یافتہ جاگیردار، وڈیرے بلکہ موجودہ صورتحال میں سامراج کے ایجنٹ موجود ہیں کیا تعلیمی ترقی اور وہ بھی ’’حقیقی‘‘ ممکن ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ سرکاری سطح پر بھی اور سیاستدانوں کے مفاد میں بھی یہ طبقہ عالیہ وطن عزیزکی سرزمین پر ناگزیر ہے۔

آپ پوچھیں گے وہ کیسے؟ جواب یہ ہے کہ ملک کی تمام (سوائے شاید دو جماعتوں کے) سیاسی جماعتیں ان کی حمایت و سرپرستی میں ’’سیاست کھیلتی ہیں‘‘ اور اس سیاسی کھیل میں جو اس طبقہ اعلیٰ کی زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے وہی تو ملک میں حکومت بنانے کا اہل قرار پاتا ہے۔ تو بتائیں ہم نے کیا غلط کہا کہ سرکاری سطح پر بھی اور سیاسی سطح پر بھی یہ طبقہ وطن عزیز میں ہونا ناگزیر ہے تو جب تک یہ ہیں تعلیمی ترقی کے بارے میں سوچنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہی رہے گا۔

رہ گئی یہ بات کہ ملک میں کبھی واقعی عوامی حکومت قائم ہوگی؟ فی الحال تو امکان نہیں۔ آزمودہ، مرد میدان سات پارٹیوں کو چھوڑیے۔ غیر آزمودہ سیاستداں عمران خان کو لیجیے جو تمام اداروں کو درست کرنے کا بھرپور عزم رکھتے ہیں، مگر ہم نے اب تک زرعی اصلاحات یا جاگیرداروں، وڈیروں وغیرہ کے خلاف ان کا کوئی بیان نہ سنا نہ پڑھا۔ وہ ایسا بیان دیں بھی کیسے ان کے دائیں بائیں تو خود جاگیردار، مخدوم اور اسی قبیل کے لوگ موجود رہتے ہیں۔

تاریخ پاکستان بلکہ تشکیل پاکستان میں طلبا کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ یہ کردار ہمارے سابق حکمرانوں نے اچھی طرح محسوس کرلیا تھا۔ مگر ذرا دیر سے، لہٰذا اپنا بستر بوریا برصغیر سے گول کرنے سے قبل اپنے چہیتے کارندوں کو اچھی طرح سمجھا دیا کہ ہم نے تمہیں اتنا کچھ بخش دیا ہے کہ تمہاری آیندہ نسلیں بلا ہاتھ پاؤں ہلائے آرام سے اس سرزمین پر راج کرتی رہیں گی، مگر یہ اسی وقت ممکن ہے جب تم اپنے مزارعوں، کسانوں اور خدمت گزاروں کی اولاد کو اپنی خدمت کرنے اور اپنی زمینوں پر کام کرنے کے علاوہ اور کچھ نہ کرنے دو۔ خاص کر علم کے دو بول ان کے کانوں میں نہ پڑنے پائیں۔

یہ ملک اسی وجہ سے ہمیں آزاد کرنا پڑا (بظاہر) کہ ایک سر پھرے جس کو لوگ سرسید کہتے ہیں نے اپنی قوم کو حصول علم کی طرف متوجہ کردیا ہم اس وقت اس کا اندازہ نہ کرسکے لہٰذا اس کے قائم کردہ تعلیمی ادارے کے طلبا نے جناح کے پیغام کو گلی گلی بلکہ گھر گھر پہنچادیا، اور لوگ بن کے رہے گا پاکستان بٹ کے رہے گا ہندوستان کا نعرہ لگاتے گلی گلی نکل آئے اور مجبوراً ہمیں ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے مگر ہمارے مفادات اب بھی اس خطے سے جڑے ہوئے ہیں، ان کی حفاظت تمہیں کرنی ہے۔

یہ تب ہی ممکن ہے کہ عوام کو حصول علم سے دور رکھو۔ اسکول، کالج، یونیورسٹیاں قائم کرو تاکہ لوگ تمہیں علم دوست سمجھ کر تم پر اعتماد کریں۔ مگر نظام اور نصاب تعلیم ایسا ہو کہ پڑھ لکھ کر ڈگریاں لے کر بھی لوگ علم سے بہرہ مند، وسیع القلب روشن خیال اور دور جدید کا ساتھ دینے کے قابل نہ ہوں۔ دوسرا اہم نقطہ یہ ہے کہ سیاست کو اپنے گھر کی لونڈی بنائے رکھنا۔ یہ کچھ اتنا مشکل نہیں جب لوگ زندگی کے جدید تقاضوں سے ناآشنا ہوں گے اور تمہارا دست شفقت ان کے سر پر ہوگا تو ہر سیاستدان تمہارے ہی اشارے پر چلے گا۔ ایوانوں میں وہ بات عوام کی اور عمل تمہارے مفاد کا ہی انجام دیں گے۔ سو ’’عزیز ہم وطنو‘‘ بظاہر کئی زرعی اصلاحات ہوئیں بے زمین کسانوں کو زمینیں ملیں مگر رہے وہ مزارعے کے مزارعے ہی کیونکہ کسانوں کے نام پر جاگیرداروں کے تمام رشتے داروں کے نام زمینیں منتقل ہوئیں قبضہ ان پر سائیں کا ہی رہا۔

سیاسی جماعتوں کے سربراہ کے اردگرد دائیں بائیں جو چہرے اخباری تصاویر یا کسی نیوز چینل میں نظر آتے ہیں آخر وہ کون ہیں کیا آپ نہیں پہچانتے؟ ایک پارٹی کے بااثر افراد نے ابھی کچھ دن پہلے ہی تو قوم کو خوشخبری سنائی ہے کہ آیندہ ملک کے صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم بلاول زرداری ہوں گے۔ تو جناب آپ اچھی طرح محسوس کرسکتے ہیں کہ جاگیرداروں کا تو جو حصہ ملک کے وسائل میں ہے سو ہے مگر سیاست کو مغلوں کی طرح خاندانی بنانا بھی ملک و قوم کے بے حد مفاد میں ہے بلکہ مغل شہنشاہ تو صرف اپنے ولی عہد کو مقرر کرتے تھے جب کہ ہمارے ’’سلطان‘‘ پوری کابینہ کو اپنے خاندان سے باہر جانے ہی نہیں دیتے۔

اب اگر آپ اپنا پیارا دیس جو بڑی جدو جہد اور بے شمار قربانیوں کے بعد آپ نے حاصل کیا ہے اس کو واقعی قائم رکھنا ہے تو یہ باریاں، لوٹ مار اور خاندانی کیبنٹ تو برداشت کرنا پڑے گی۔ اور یہ کوئی مہنگا سودا بھی نہیں ملک ہے تو سب کچھ ہے اور سب چلتا ہے۔ لہٰذا آپ یہ سوچنا آخر چھوڑ کیوں نہیں دیتے کہ تعلیمی نظام کو بہتر کرنے اور تعلیمی اصلاحات کی ضرورت ہے؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔