3 فیصد بلاکس پر دوبارہ مردم شماری کرائی جائے، سینیٹ کمیٹی

نمائندہ ایکسپریس  ہفتہ 11 نومبر 2017
ہمارے اورفوج کے ڈیٹامیں کوئی فرق نہیں، اپریل تک ڈیٹاکمپیوٹرائزکردیں گے،آصف باجوہ۔ فوٹو : فائل

ہمارے اورفوج کے ڈیٹامیں کوئی فرق نہیں، اپریل تک ڈیٹاکمپیوٹرائزکردیں گے،آصف باجوہ۔ فوٹو : فائل

 اسلام آباد: سینیٹ کی خصوصی کمیٹی نے ملک بھر کے 2 سے 3 فیصد بلاکس میں دوبارہ مردم شماری کرانے کا فیصلہ کر لیا۔

گزشتہ روز کمیٹی کا اجلاس سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے شماریات کے چیئرمین سینیٹر محسن عزیز، سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے چیئرمین عثمان کاکڑ اور سینیٹر تاج حیدر کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ شماریات ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو مردم شماری کے طریقہ کار اور نتائج پر بریفنگ دی۔

ادارہ شماریات کے سابق سربراہ اور موجودہ کنسلٹنٹ شماریات آصف باجوہ نے بتایاکہ پورے ملک کوایک لاکھ 68 ہزار 943 بلاکس میں تقسیم کیا گیا تھا،ایک بلاک 200-250 گھروں پر مشتمل تھا۔ حکام نے کمیٹی کو بتایاکہ 1998کی مردم شماری کے بعدملک کی آبادی19سال میں57فیصد بڑھی ہے، آبادی میں پنجاب کا تناسب 52.9، سندھ 23.1، خیبر پختونخوا 14.7، بلوچستان 5.9، فاٹا2.4اور اسلام آباد 0.97فیصد ہے، صوبہ سندھ کی شہری آبادی میں دیہات کی نسبت اضافہ ہوا ہے، لاہور میں قومی شناختی کارڈ ہولڈرز کی تعداد 5.94ملین جبکہ کراچی میں8.51ملین ہے، لاہور کے ووٹرز4.94ملین جبکہ کراچی کے 7.94ملین ہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیاکہ ہمارے نتائج اور فوج کے نتائج میں کوئی فرق نہیں ہے۔ سردار اعظم موسیٰ خیل نے کہاکہ بلوچستان کے پرسکون علاقوں کی آبادی کم اور جنگ والے علاقوں کی آبادی زیادہ دکھائی گئی ہے۔ تاج حیدر نے کہاکہ 2013میں نادرا کے مطابق 2013میں کراچی کی آبادی 2.13کروڑ تھی تاہم موجودہ مردم شماری میں 60لاکھ کم ظاہر کی گئی ہے۔

آصف باجوہ نے کہاکہ موجودہ چیئرمین نادرا نے ان معلومات کو مسترد کیا ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے اعدادوشمار کی ڈپلیکیٹ کاپی فراہم کرنے کیلیے خط لکھاہے جو ممکن نہیں، قانون کے تحت کے معلومات صیغہ راز ہے، اپریل کے آخر تک تمام ڈیٹا کمپیوٹرائز کردیں گے۔

کمیٹی نے 2013کی نادرا رپورٹ کی تصدیق کرانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہاکہ عبوری نتائج جلد شائع کیے جائیں، نادرا فیملی ٹری ری چیکنگ جیسا سسٹم متعارف اور ملک بھر کے 2 سے 3 فیصد بلاکس میں دوبارہ مردم شماری کرائی جائے  جب کہ کمیٹی نے تاج حیدر کی جانب سے کراچی کی آبادی کے حوالے سے پیش کیے گئے 2کروڑ 13لاکھ اعداد و شمار کی تصدیق کیلیے نادرا حکام سے وضاحت طلب کرلی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔