وائکنگ جب مسلمانوں کے اتحادی بنے

سید عاصم محمود  اتوار 12 نومبر 2017
دنیائے مغرب میں یہ خیال عام ہے کہ وائکنگ بڑے جنگجو، دلیر اور لڑاکے تھے۔ فوٹو: فائل

دنیائے مغرب میں یہ خیال عام ہے کہ وائکنگ بڑے جنگجو، دلیر اور لڑاکے تھے۔ فوٹو: فائل

یہ مئی2017ء کی بات ہے۔امریکا کے شہر اوریگن میں جرمی کرسچن نامی ایک سفید فام امریکی ریل میں بیٹھا اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔اس کے سامنے دو سولہ سترہ سال کی سہیلیاں بیٹھی تھیں ۔ان میں سے ایک با حجاب مسلمان تھی اور دوسری سیاہ فام عیسائی! اچانک جرمی کرسچن نے دونوں لڑکیوں پر نفرت انگیز جملوں کی بھرمار کر دی۔ جب دیگر مسافروں نے غصیلے جرمی کو روکنا چاہا تو اس نے چاقو نکالا‘ دو مسافر مار ڈالے اور تیسرے کو زخمی کر دیا۔یہ ’’کارنامہ‘‘انجام دینے کے بعد جرمی نے زور سے ’’ہیل ون لینڈ‘‘(hail vinland)کا نعرہ لگایا اور فاتحانہ انداز میں دیگر ڈرے سہمے ہمسفروں کو دیکھنے لگا۔ریل جیسے ہی اگلے اسٹیشن پر رکی،وہ اتر کر فرار ہو گیا۔تاہم پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔اب اس پر مقدمہ چل رہا ہے۔

جرمی کرسچن امریکا اور یورپ میں  پائے جانے والے ایک نسل پرست اور قوم پرست سفید فام گروہ ’’وائٹ سپری ماشسٹ‘‘(white supremacist) سے تعلق رکھتا ہے۔ اس گروہ کے ارکان نظریہ ’’وائٹ سپریمیسی‘‘(White supremacy) پر یقین رکھتے ہیں۔ اس نظریے کی رو سے سفید فام نسل دنیا کی تمام نسلوں سے برتر و فائق ہے۔ لہٰذا اسے ہی دنیا پر حکمرانی کرنے کا حق حاصل ہے۔ جرمی کرسچن جیسے انتہا پسند وائٹ سپری ماشسٹ سیاہ فاموں اور گندمی نسل کے انسانوں سے نفرت کرتے اور انہیں بے دھڑک نقصان پہنچا دیتے ہیں۔ امریکا، جرمنی، ڈنمارک، فرانس وغیرہ میں ایسے لوگ خاصی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ماضی میں امریکا میں ان وائٹ سپری ماشسٹوں کا بہت زور تھا۔ اسی لیے وہ سیاہ فاموں سے جانوروں جیسا ذلالت بھرا اور ظالمانہ سلوک کرتے تھے۔ بیسویں صدی میں مارٹن لوتھر کنگ اور دیگر سیاہ فام لیڈروں نے حقوق انسانی کی تحریک چلائی، تو وائٹ سپری ماشسٹوں کا زور کم ہوا۔ تاہم وہ امریکی و یورپی معاشروں سے ختم نہیں ہوسکا۔

امریکا کے صدر، ڈونالڈ ٹرمپ بھی کسی حد تک نظریہ وائٹ سپریمیسی پر یقین رکھتے ہیں۔ اسی لیے انتخابی مہم کے دوران وہ مسلمانوں، میکسیکین باشندوں اور مہاجرین پر گرجتے برستے رہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکی سفید فام امریکیوں کی اکثریت نے انھیں ووٹ دیئے اور اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا دیا۔ حکمرانی کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ لہٰذا صدر ٹرمپ اب کھل کر نظریہ وائٹ سپرامیسی کی ترویج و اشاعت نہیں کرسکتے۔ تاہم ڈھکے چھپے الفاظ میں وہ وائٹ سپری ماشسٹوں کی حمایت ضرور کرتے رہتے ہیں۔ڈونالڈ ٹرمپ کی جیت کے بعد امریکا میں وائٹ سپری ماشسٹوں کے حوصلے بلند ہوگئے۔ وہ پہلے سے کہیں زیادہ تعداد میں مسلمانوں، سیاہ فاموں اور دیگر غیر سفید فاموں پر زبانی کلامی یا جسمانی حملے کرنے لگے۔ امریکی میڈیا کے مطابق پچھلے ایک برس میں ایسے حملوں میں ’’ڈیڑھ سو فیصد‘‘ تک اضافہ ہوچکا۔ مزید براں مختلف امریکی شہروں میں وائٹ سپری ماشسٹوں کی نت نئی تنظیمیں جنم لے رہی ہیں۔

آج امریکی معاشرے میں وائٹ سپری ماشسٹوں کا احیاء ایک بڑا مسئلہ بن چکا۔ وجہ یہی کہ ان کی وجہ سے امریکی معاشرے میں مختلف انسانی نسلوں کے مابین نفرت اور تصادم کے جذبات پنپنے لگے ہیں اور محبت، باہمی احترام اور رواداری کی اقدار کمزور پڑتی جارہی ہیں۔اسی لیے وائٹ سپری ماشسٹوں کے مخالف امریکی جابجا ان کے خلاف مظاہرے کرنے لگے ہیں۔ ایک مظاہرے میں ایک وائٹ سپری ماشسٹ نے مظاہرین پر کار چڑھا دی تھی۔دراصل یہ لوگ امریکی خانہ جنگی میں صدر ابراہام لنکن کے کنفڈریٹ مخالفین کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں۔ اسی لیے سفید سپر میسی کے مخالفوں نے امریکا میں یہ تحریک چلا دی کہ جہاں جہاں کنفڈریٹ جرنیلوں کے مجسّمے نصب ہیں‘ وہ گرا دیئے جائیں۔ اس بات پر دونوں گروہوں کے درمیان تصادم جاری ہے۔

کم ہی لوگ واقف ہیں کہ امریکا اور یورپ کے وائٹ سپری ماشسٹ اپنے آپ کو وائکنگوں(Viking) کی اولاد بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وائکنگ سفید فاموں کی خالص ترین نسل ہے۔آج سبھی سفید فام انہی کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔اسی لیے سب وائٹ سپری ماشسٹ وائکنگوں کو اپنا ہیرو اور رول ماڈل قرار دیتے ہیں۔ وائکنگ سیکنڈے نیو یا یا شمالی یورپ (ناروے، ڈنمارک، سویڈن، فن لینڈ) کے باشندے تھے۔ اس خطے کے باسی عرف عام میں نورسمین (Norsemen) کہلاتے ہیں۔ ان نورسیمنوں میں سے جو لوگ جنگجو اور دیگر ملکوں پر دھاوا بولنے والے بن گئے، انہیں وائکنگ کہا گیا۔ گویا یہ زمانہ قدیم کے سورما اور لڑاکے تھے۔

وائکنگ آٹھویں صدی سے لے کر گیارہویں صدی عیسوی تک سرگرم رہے اور انہوں نے اندلس یعنی مسلم اسپین کو چھوڑ کر پورے یورپ کو اپنے حملوں کا نشانہ بنائے رکھا۔ یہ ماہر جہازراں تھے اور مضبوط کشتیاں بنانے میں طاق۔ اس ہنر نے بھی انہیں ایک بڑی جنگی قوت بنانے میں اہم کرادار ادا کیا۔1000ء میں وائکنگ مہم جو اپنے قائد‘ لیف ارکسن کی زیر قیادت بحری جہازوں پر سفر کرتے شمالی امریکا پہنچ گئے۔ گویا انہوں نے کرسٹوفر کولمبس سے پانچ سو سال قبل ہی شمالی امریکا دریافت کرلیا۔ ان وائکنگوں نے شمالی امریکا میں بستی یا بستیاں بھی بسائیں جو مختلف وجوہ کی بنا پر کچھ عرصے بعد نابود ہو گئیں۔ وائکنگوں نے شمالی امریکا کو ’’ون لینڈ‘‘(vinland) کا نام دیا تھا۔اب وائکنگ تہذیب‘ ثقافت اور روایات کے دیوانے امریکی وائٹ سپری ماشسٹ اپنے وطن کو ون لینڈ بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہاں سیاہ فام اور گندمی نسل کے لوگوں کو اپنا غلام اور مطیع بنا کر رکھا جا سکے۔ اور یہ منزل پانے کے لیے وہ امریکا میں سیاہ فاموں ‘ ایشیائی باشندوں اور اپنے مخالف سفید فاموں سے طویل جنگ لڑنے کی خاطر تیار ہیں۔ اسی لیے جرمی کرسچن نے اپنا ’’کارنامہ‘‘ دکھا کر ’’ہیل ون لینڈ‘‘ کا نعرہ لگایا تھا۔

تاریخ کی ستم ظریفی
دلچسپ بات یہ کہ زمانہ قدیم میں وائٹ سپری ماشسٹوں کے ہیرو…وائکنگوں اور مسلمانوں کے مابین خوشگوار تعلقات تھے۔ ا نہوںنے ابتدا میں مسلم علاقوں پر حملے ضرور کیے لیکن یہ محدود نوعیت کے تھے۔جلد ہی جب وائکنگوں اور مسلمانوںکے تجارتی تعلقات قائم ہوئے تو ایک دوسرے پر حملے کرنے کا سلسلہ تقریباً ختم ہو کر رہ گیا۔وائکنگوں اور مسلمانوں کا میل ملاپ بڑھنے کی دو بڑی وجوہ ہیں۔

اول یہ کہ وائکنگ نام کے عیسائی تھے۔ ان کا بنیادی پیشہ لوٹ مار کرنا تھا۔ لہٰذا وہ وقتاً فوقتاً کسی بھی یورپی ملک پر یلغار کرتے اور وہاں کے باشندوں کا مال و اسباب لوٹ کر چلتے بنتے۔ شارلیمان یورپ کا مشہور شہنشاہ گزار ہے۔ وہ ساری عمر وائکنگوں سے نبرد آزما رہا۔ یورپی مورخین لکھتے ہیں کہ جب وہ بوڑھا ہوگیا، تو اکثر یہ سوچ کر رو پڑتا کہ میری موت کے بعد میرے جانشینوں سے وائکنگ نجانے کیسا ظالمانہ سلوک کریں گے۔

دوسری وجہ یہ کہ وائکنگوں کو لوٹ مار سے جو مال و اسباب ہاتھ آتا، وہ اکثر گوداموں میں پڑا سڑتا رہتا۔ جب وائکنگوں نے اندلس اور وسطی ایشیا پر حملے کیے، تو پہلی بار ان کا واسطہ مسلمانوں سے پڑا۔ اس زمانے میں عالم اسلام معاشی، معاشرتی، تہذیبی اور ثقافتی لحاظ سے عروج پر تھا۔ اندلس سے لے کر ہندوستان تک بالعموم مسلمان ترقی یافتہ اور خوشحال زندگیاں بسر کررہے تھے۔ ان کے پاس وافر رقم موجود تھی۔ ویسے بھی اسلامی کرنسی…درہم و دینار تب بین الاقوامی کرنسی کی حیثیت رکھتی تھی۔ ان عوامل کے باعث عالم اسلام ایک بہت بڑی تجارتی منڈی کی شکل اختیار کرگیا تھا… ایسی منڈی جہاں دنیا کے کونے کونے سے ہر نسل و مذہب کے لوگ آکر اپنا مال بیچتے تھے۔

وائکنگوں کو بھی جلد ہی احساس ہوگیا کہ وہ یورپی ممالک میں لوٹ مار سے اکٹھا کیا گیا اپنا مال اچھے داموں اسلامی منڈی میں فروخت کرسکتے ہیں۔ پھر وہ مال کے بدلے مال کی خرید و فروخت کے اصول پر بھی یقین رکھتے جس کا اسلامی ممالک میں چلن تھا۔چناں چہ انھوں نے اسلامی علاقوں پر حملے کرنا ترک کیے اور مسلمانوں سے تجارت شروع کردی۔

عالم اسلام کے سبھی ممتاز سیاحوں اور سفرنامے لکھنے والے لکھاریوں مثلاً محمد ادریسی، ابن خرادبہ، الطر طوشی، المسعودی، المقدسی، ابن رستہ، ابن حوقل، ابن فضلان وغیرہ نے ان کا ذکر عموماً اچھے الفاظ میں کیا ہے۔ انہوں نے ہی وائکنگوں کو رس (Rus) کا نام دیا تھا۔(روس کا نام اسی لفظ سے نکلا) ۔بعض اسلامی مصنفوں نے انہیں ’’صقالبہ‘‘ کہہ کر بھی پکارا۔

امریکا کے مشہور تاریخ داں، پروفیسر ایس نونان نے اپنی کتاب ’’دی اسلامک ورلڈ، رشیا اینڈ دی وائکنگز‘‘ (he Islamic World, Russia and the Vikings) میں لکھا ہے:’’ نویں صدی عیسوی تک درہم و دینار دنیا کی مطلوب ترین کرنسی بن چکے تھے۔ وائکنگ انھیں حاصل کرنے کی خاطر بے تاب رہتے۔ وہ اپنا مال اسلامی منڈیوں میں بیچتے اور اسلامی سکے حاصل کرلیتے۔ انہی کے باعث وائکنگ دور طویل عرصہ تک جاری رہا اور انھوں نے عروج پایا۔ دسویں صدی سے لے کر بارہویں صدی عیسوی تک اسلامی سکے وائکنگوں کے علاقوں میں سب سے قیمتی کرنسی بنے رہے۔‘‘ اس بیان سے عیاں ہے کہ وائکنگ اپنا مال و اسباب اسلامی شہروں میں بیچ کر اسلامی سکے پاتے اور پھراس مسلم کرنسی سے اپنے اخراجات پورے کرتے تھے۔ اسلامی منڈیوں میں وائکنگوں کی لائی کھالوں، چمڑے، مچھلی، شہد اور دیگر اشیا کی بہت مانگ تھی۔

کم از کم تین سو سال کے طویل میل ملاپ کی وجہ سے وائکنگوں اور مسلمانوں کے مابین قریبی تعلقات قائم ہوگئے۔ وائکنگ کرائے کے فوجی بھی تھے۔ یہی وجہ ہے، خصوصاً اندلس میں کئی حکمرانوں نے وائکنگوں کو اپنی افواج میں بھرتی کیا اور یہ وائکنگ مسلمانوں کی جانب سے ہسپانوی عیسائی فوج کے خلاف لڑے۔یہ بھی یقینی ہے کہ بہت سے وائکنگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ اس وقت دنیا میں اسلام کا طوطی بول رہا تھا۔ ممکن ہے کہ کچھ وائکنگ مادی فوائد پانے کی خاطر مسلمان ہوں لیکن یقینا کئی وائکنگوں نے دین الٰہی کی حقانیت اور مسلمانوں کے اعلیٰ کردار سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا ہوگا۔

یہی وجہ ہے، آج بھی وائکنگوں کی بستیوں کے کھنڈرات اور آثار قدیمہ سے درہم اور ایسی اشیا برآمد ہوتی رہتی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ، کلمہ طیبہ اور دیگر اسلامی الفاظ کندہ ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ وائکنگوں کی قبروں سے برآمد شدہ کفنوں پر اسلامی الفاظ لکھے ملے ہیں۔ یہ اس امر کا بین ثبوت ہے کہ بعض وائکنگوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ امریکا اور یورپ کے وائٹ سپری ماشسٹوں پر تو یہ اطلاع بجلی بن کر گرتی کہ ماضی میں مسلمان اور وائکنگ ایک دوسرے کے دوست تھے اور انہیں یہ بات تو کسی صورت گوارا نہیں کہ بعض وائکنگوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔

یہ حقیقت ان کے نزدیک برتر و اعلیٰ وائکنگ نسل کو داغ دار کر ڈالتی ہے۔ اسی لیے وہ ایسی تمام باتوں کو جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دیتے ہیں۔ مگر مغربی مورخین انہیں سچ تسلیم کرچکے۔دنیائے مغرب میں یہ خیال عام ہے کہ وائکنگ بڑے جنگجو، دلیر اور لڑاکے تھے۔ یہ تصّور وائٹ سپری ماشسٹوں کو بہت مرغوب ہے کیونکہ وہ بھی جنگ جوئی اور لڑائی مار کٹائی کے ذریعے اپنے اپنے معاشروں میں اپنی حاکمیت چاہتے اور غیر سفید فاموں کو شکست دینا چاہتے ہیں۔ اسی لیے وہ خود کو وائکنگ نسل کا وارث و جانشین قرار دیتے ہیں۔ وہ کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے کہ وائکنگوں کو اسلام کا ہمدرد کہا جائے مگر وہ تاریخ کو کیسے جھٹلائیں گے؟

اینڈریو مر برطانیہ کا مشہور ٹی وی میزبان ہے۔ اس نے 2012ء میں ایک ٹی وی پروگرام ’’اینڈریو مرز ہسٹری آف دی ورلڈ (Andrew Marr’s History of the World) کی میزبانی کی تھی۔ یہ آٹھ اقساط پر مشتمل پروگرام تھا۔ چوتھی قسط میں اس نے ناظرین کو بتایا:’’دسویں صدی میں ایک ایسا موقع آیا کہ تمام وائکنگ مسلمان ہوتے ہوتے رہ گئے۔ اس زمانے میں اولیگ (Oleg) رس (وائکنگوں) کا لیڈر تھا۔ ایک دن اسے خیال آیا کہ کوئی مذہب اختیار کرلینا چاہیے۔ چناں چہ اس نے یہودیت، رومن کیتھولک، اسلام اور یونانی آرتھوڈوکس عیسائیت کے عالموں کو دعوت دی کہ وہ اس کے دربار میں آئیں اور اپنے اپنے مذہب کی خصوصیات بیان کریں۔شہزادہ اولیگ عادی شراب نوش تھا۔ جب اسے پتا چلا کہ اسلام قبول کرلینے کے بعد اسے شراب کو خیرباد کہنا پڑے گا، تو اس نے یہ مذہب قبول کرنے سے انکار کردیا۔ آخر میں اسے یونانی آرتھوڈوکس عیسائیت پسند آئی، چناںچہ شہزادے نے اپنے علاقے میں اسی مذہب کو رائج کردیا۔‘‘

اینڈریو مار نے مزید بتایا کہ اگر شہزادہ اولیگ شراب کا رسیا نہ ہوتا، تو وہ یقینا اسلام قبول کرلیتا۔ وجہ یہ کہ وہ اسلام میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا جو تب دنیا کا تیزی سے پھیلتا مذہب بن چکا تھا۔ گویا شراب خانہ خراب آڑے آگئی ورنہ ممکن تھا کہ وائکنگوں کی بڑی تعداد اپنے لیڈر کی دیکھا دیکھی مسلمان ہوجاتی اور آج مشرقی یورپ بھی اسلام کی برکات سے مستفید ہورہا ہوتا۔ اس صورت میں نفرت و جنگ کے ہرکارے، وائٹ سپری ماشسٹوں کو اپنے نظریات و افکار کی ترویج کے لیے کسی اور سفید فام نسل کو اپنا ہیرو اور رول ماڈل بنانا پڑتا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔