ابراہیم جویو: اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے

 اتوار 12 نومبر 2017
zahedahina@gmail.com

[email protected]

صبح سویرے یہ ’کاوش‘ اخبار کے مصطفیٰ تھے جنہوں نے ابراہیم جویوکے گزر جانے کی خبر دی۔ جویو صاحب 102 برس کے ہوگئے تھے، ان کی رخصت کا دھڑکا ہر وقت لگا رہتا تھا لیکن جب خبر ملی تو یوں محسوس ہوا جیسے وہ ناوقت چلے گئے۔ وہ ہمارے ایک ایسے دانشور اور عالم تھے جس نے تقسیم سے بہت پہلے سے خود کو لوگوں سے منوانا شروع کردیا تھا۔ انھوں نے تعلیم، ادب‘ صحافت اور سماجی شعور کو عام کرنے کے ساتھ ہی سیاست کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔

ہندوستان کے بٹوارے سے چند مہینوں پہلے وہ کتاب لکھی جس کا نام Save Sindh, Save the Continent تھا، یعنی سندھ بچاؤ، برصغیر کو بچاؤ۔ جون 1947 میں شایع ہونے والی اس کتاب میں انھوں نے صرف سندھ کا ہی نہیں پنجاب ، بنگال یو پی‘ سی پی ‘کشمیر‘ حیدر آباد دکن‘ گجرات ‘مدراس اورکرناٹک کا معاملہ اٹھایا تھا اورکہا تھا کہ ہمارا سماج جاگیرداروں اور ساہوکاروں کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے۔

ہمیں اسے اس چنگل سے نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انھوں نے کھل کر یہ بات لکھی کہ سندھ ہو یا ہندوستان، ہمارا سارا سماج جاگیرداروں، زمیں داروں، ساہوکاروں اور ان کے گماشتوں اور طفیلیوں کی گرفت میں ہے۔ عوام کی اکثریت ناداری، بیروزگاری اور کسمپرسی کا شکار ہے۔ ہمارے عوام بالادست طبقات کی چالوں کو نہیں سمجھتے اور مذہبی فرقہ پرستی کے ساتھ ساتھ لسانی اورگروہی منافرت میں گرفتار ہوکر ناداری اور نحوست کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔

جویو صاحب نے قیام پاکستان سے چند دنوں پہلے اپنا سیاسی نقطۂ نظر جس تفصیل سے بیان کیا ‘ اس کے بعد یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ انھیں سندھ کی سیاست میں کوئی اہم کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ وہ اس کے خواہش مند بھی نہ تھے۔ ان کی زندگی کا مقصد تو یہ تھا کہ سندھ اور برصغیر کے دوسرے علاقوں کے عوام کو اپنے معاشی وسائل اور ذرایع پیداوار پر مکمل اختیار ہونا چاہیے ۔

پاکستان قائم ہوا تو جویو صاحب کی تحریروں نے پاکستان اور بہ طور خاص سندھ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اپنی اس کتاب میں انھوں نے جو پیش گوئیاں کی تھیں وہ رفتہ رفتہ پوری ہوئیں۔ اس سے ان کی سیاسی بصیرت اور مستقبل بینی کی صلاحیتوں کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان ابھی وجود میں نہیں آیا تھا کہ 25جون 1947 کو جویو صاحب نے سندھ کی لیجسلیٹو اسمبلی کے معزز اراکین کے نام ایک کھلا خط لکھا۔ اس تفصیلی خط کو پڑھیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شخص جو مقامی سیاست کو سمجھ رہا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ آنے والے دنوں میں اسمبلی کی رکنیت اور وزارت یا سفارت جیسے اعلیٰ عہدے اس کے لیے کھلے ہوئے ہیں لیکن وہ اس طرف توجہ دینے کے بجائے سیاست کو عبادت جانتا ہے اور پھر انھوں نے اپنی تمام عمر اس نوعیت کے کاموں میں لگادی۔

جویوصاحب کتابوں کے رسیا تھے۔ اسی لیے وہ ہمیں تھیوسیفیکل سوسائٹی اور ڈی جے کالج کی لائبریری کے پھیرے لگاتے نظر آتے ہیں۔ دوسرے سندھی ادیبوں کی طرح انھوں نے بھی مختلف اہم کتابوں کے ترجمے کو بہت اہمیت دی۔ آزادی سے پہلے کے زمانوں میں جویو صاحب آستین چڑھا کر دنیا کی بعض اہم کتابوں کے ترجمے پر لگ گئے۔ اس زمانے میں سندھی ادیب اس نتیجے پرپہنچ چکے تھے کہ جب تک سندھی میں طبع زاد کتابیں سامنے نہیں آتیں تب تک ہر ادیب کو دوسری مقامی اور یورپی زبانوں سے ترجمے کرنے چاہئیں۔

جویو صاحب کواپنے نقطہ نظر کی بناء پر اور بہ طور خاصSave Sindh, Save the Continent جیسی اہم کتاب لکھنے کی سزا میں سندھ مدرستہ الاسلام کی ملازمت سے فارغ کردیا گیا تھا۔ وہ کئی مرتبہ مختلف ملازمتوںسے نکالے گئے لیکن سائیں جی ایم سید جب سندھی ادبی ایوارڈ کے سیکریٹری کے لیے کسی شخص کو تلاش کررہے تھے تو ان کی نظرسندھ میں صرف دو اشخاص پر ٹھہرتی تھی۔ پہلی شخصیت ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ تھے اور دوسری شخصیت محمد ابراہیم جویو کی تھی۔

پاکستان بھر کے ادیبوں، دانشوروں اور ماہرینِ تعلیم کے لیے وہ ایک نہایت اہم اور قابلِ احترام شخصیت تھے۔ سندھ کی تعلیمی اور ادبی اساس کو مستحکم کرنے میں ان کا بنیادی ہاتھ رہا۔ وہ جدید سندھ کی نشاۃ ثانیہ کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ یہ بات میرے لیے باعثِ اعزاز ہے کہ دسمبر 2013 میں جب انھیں کمال فن ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تو میں بھی اس ایوارڈ کمیٹی کے اراکین میں سے ایک تھی۔

حکومت کی طرف سے انھیں کمالِ فن کا ایوارڈ دیا گیا تو انھوں نے اس سے منسلک 5 لاکھ کی رقم سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولاجی جسے عرف عام میں SIUT کہتے ہیں، اسے عطیہ کردیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی نے ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا جس کی تمام نگرانی ڈاکٹر مرلی دھرکے سپرد تھی۔ جویو صاحب اپنی عمر اور خرابی صحت کے باوجود اس تقریب میں شریک ہوئے اور لوگ ان کی دید سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتے رہے۔

یہاں محترم مظہر جمیل کا ذکر نہ کرنا، ناانصافی ہوگی۔ انھوں نے سندھی ادب اور ادیبوں کے بارے میں نہایت وقیع کام کیا ہے۔ مظہر جمیل نے جویو صاحب کی زندگی اور ان کے علمی اور ادبی کارناموں کا لگ بھگ 800 صفحوں میں احاطہ کیا ہے۔ وہ ان سے باتوں کو ریکارڈ کرتے رہے اور یوں ہمارے اس نابغۂ روزگار کی ابتدائی زندگی بھی ہمارے سامنے آجاتی ہے۔ تعلیم اور اس کا حصول جویو صاحب کی زندگی کا مرکزی خیال تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جویو صاحب نے اسکول میں قدم رکھنے کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے اور مظہر جمیل نے ان کی اس گفتگو کو من و عن لکھ دیا ہے۔

جویو صاحب اس دن کو اپنی زندگی کا یادگار دن کہتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ میرے اسکول جانے کی تیاریاں پچھلے کئی دنوں سے کی جا رہی تھیں۔ دادی نے میرے لیے کپڑوں کا نیا جوڑا سیا تھا اور چٹا پٹی کی ٹوپی بنائی تھی۔ جس پر سلما ستارے کا جھلملاتا کام کیا گیا تھا۔ قلم، کتاب اور سلیٹ رکھنے کے لیے ایک بقچی تیار تھی اسے بھی رنگ برنگے جھلملاتے ستاروں سے سجایا گیا تھا۔ دادا نے مرحوم نانا احمد موچی سے میرے لیے جوتی کا نیا جوڑا بنوایا تھا۔ جسے میں نے پہلی مرتبہ پہنا تھا۔

اس سے قبل ہم بھی دوسرے بچوں کی طرح ننگے پاؤں گاؤں بھر میں گھومتے پھرتے تھے۔ دادا، دادی دونوں پنجگانہ نمازی تھے ۔ دادا صبح سویرے فجر کی نماز سے بھی پہلے وضو کرکے مصلے پر بیٹھ جاتے اور خشوع و خضوع سے ذکر اذکار میں مصروف ہوجاتے۔ دادا نماز سے فارغ ہوکر اپنی دھیمی دھمی سریلی آواز میں حمد ونعت کے شعرگنگناتے تھے۔ ان کی گنگناہٹ سے کبھی کبھی میری آنکھ کھل جاتی تو میں بستر میں دبکا ہوا ، ان کی آواز کے سحر میں کھوجاتا۔ دادا کی آواز میں بڑا درد ہوتا تھا۔ غرض داخلے کی صبح سے پہلے ہی میرے اسکول جانے کی دھوم دھام تھی۔

اس سے پہلے اکثر ہم اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ اسکول کے بڑے دروازے سے اندرکی طرف تانک جھانک کرتے تھے۔ وہاں بالعموم سائیں ٹیکن مل اسکول کے بڑے صحن میں نیم کے درخت کی گھنی چھاؤں میں چارپائی ڈالے بیٹھے ہوتے تھے۔ گاؤں کے بچوں میں ٹیکن مل جی کی اچھی خاصی ہیبت تھی جو بڑے لڑکوں نے شرارتاً پیدا کی تھی۔ میرے دل میں جہاں اسکول جانے کی خوشی تھی وہیں سائیں ٹیکن مل کا ان جانا سا خوف بھی بیٹھا ہوا تھا، وہ ہمارے گوٹھ کے توتھے نہیں جو ہم بچے بھی انھیں اچھی طرح پہچانتے۔

میں رات بھر اسکول اور سائیں ٹیکن مل کے ہی خواب دیکھتا رہا ۔ کبھی کہیں سے، کبھی کہیں سے۔ خدا خدا کرکے صبح ہوئی تو دادا کو حسب معمول مصلے پر بیٹھے دیکھا وہ خوش الحانی سے حمد گنگنا رہے تھے۔ آنکھ کھلتے ہی میری نظر نئے کپڑوں پر پڑی اور اسکول جانے کا خیال آیا تو میں جھٹ پٹ بستر سے اٹھ کھڑا ہوا اور جلدی جلدی اچھی طرح منہ ہاتھ دھو کر جھٹ پٹ نئے کپڑے پہن کر تیار ہوگیا۔ دادی نے حسب معمول ناشتہ کرایا۔ نئے جوتے پہنائے اور نیا بستہ گلے میں ڈال کر میرا ہاتھ پکڑا اور اس شان سے میں ان کی انگلی تھامے اسکول کی طرف روانہ ہوا۔

ہر ہر قدم پہ میرے دل میں خوشی کے احساس پر خوف اور دہشت کا احساس غالب ہوتا جاتا تھا۔ کبھی سائیں ٹیکن مل کے بارے میں لڑکوں کی باتیں یاد آتیں کہ وہ کس طرح بچوں کو سزا دینے کے یے ان کے کانوں میں لوہے کی چمٹیاں لگا دیتے ہیں۔ کبھی یہ ڈر کہ وہ نہ جانے میرے ساتھ کس طرح پیش آئیں لیکن اس کے باوجود اسکول کو اسے دیکھنے بھالنے کا شوق بھی اپنی جگہ تھا۔ اسی دھکڑ پکڑ میں ہم لوگ اسکول پہنچ گئے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس وقت تک سائیں ٹیکن مل ہی نہیں بلکہ پورے اسکول کا رعب و دبدبہ مجھ پر پوری طرح غالب آچکا تھا۔‘‘

سائیں ٹیکن مل کی ذات ان کی علمی زندگی کا وہ نقطۂ آغاز تھی جس کا اختتام اب سے دو دن پہلے حیدرآباد میں ہوا۔ انھیں رخصت کرنے کے لیے سندھ کے دور دراز علاقوں سے لوگ آئے۔ سندھ یونیورسٹی جام شورو میں علامہ آئی آئی قاضی کے پہلو میں اب وہ ابدی نیند سو رہے ہیں۔

سندھ کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ وہ شخص جو کبھی دربار اور سرکار سے وابستہ نہیں رہا، اس درویش کے دربار میں سرکار اور دربار والے آتے، مودب بیٹھتے اور اسے اپنا اعزاز جانتے تھے۔ ابراہیم جویو نہیں رہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اک دھوپ تھی جو ساتھ گئی آفتاب کے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔