اسموگ زدہ پاکستان اور چین سے سبق

ذیشان چوہدری  منگل 14 نومبر 2017
اسموگ کے خلاف چین کی مہم پاکستان کےلیے قابلِ تحسین ہی نہیں بلکہ لائقِ تقلید بھی ہے۔ (فوٹو: فائل)

اسموگ کے خلاف چین کی مہم پاکستان کےلیے قابلِ تحسین ہی نہیں بلکہ لائقِ تقلید بھی ہے۔ (فوٹو: فائل)

گزشتہ سال کی طرح اس بار بھی لاہور سمیت پنجاب بھر کی فضاؤں میں دھند، دھوئیں اور گرد وغبار کے ملاپ سے بننے والی اسموگ کا راج ہے جس کی وجہ سے موٹروے، ملتان روڈ اور جی ٹی روڈ کے بعض مقامات پر حدِ نگاہ صفر ہوگئی ہے اور حادثات کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ حکومت کی جانب سے تمام سرکاری اسپتالوں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ دن بدن اسموگ میں اضافے کے پیش نظر ایمرجنسی وارڈز اور آؤٹ ڈورز اسموگ کاؤنٹرز قائم کریں اور متاثرہ مریضوں کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ روزانہ کی بنیاد پر ان کی رپورٹ تیار کریں۔ تاہم کسی بھی سرکاری اسپتال میں اس وقت تک اسموگ کاؤنٹرز کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا، حالانکہ صرف لاہور شہر کے اسپتالوں میں اسموگ سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 500 سے تجاوز کرچکی ہے۔

یہاں میں اسموگ کے تدارک کےلیے ہمسایہ ملک چین کی پالیسیوں کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ رواں سال اگست کے مہینے میں بیجنگ کی سُنگ ہوا یونیورسٹی میں ماحولیات کے موضوع پر منعقدہ عالمی کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جہاں یورپ، امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک کی قدیم اور ٹاپ یونیورسٹیز جیسے کہ ہارورڈ، کیمبرج، ایم آئی ٹی، آکسفورڈ وغیرہ سے تحقیق کاروں اور ماہرین نے شرکت کی؛ اور پوری دنیا میں جاری ماحولیاتی تبدیلیوں خصوصاً سمندری طوفانوں، صاف پانی کی کمی، زلزلوں، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے حد سے زیادہ اخراج اور اسموگ جیسے موضوعات پر تفصیلاً اپنی اپنی تحقیقات پیش کیں۔ کانفرنس میں بیجنگ کو اسموگ سے درپیش مسائل اور ان کے سدباب کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا جن میں سے کچھ نکات قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔

بیجنگ اسموگ سے شدید متاثر شہروں کی عالمی فہرست میں پہلے نمبر پر آتا ہے۔ 13-2012 کی بات ہے جب شہر میں اسموگ کی وجہ سے تقریباً ایمرجنسی ہی نافذ ہوگئی تھی۔ اسکول، کالجز بند کرنے کی نوبت آن پہنچی تھی، اسپتال مریضوں سے بھر چکے تھے، لوگوں کا گھروں سے باہر نکلنا محال ہوچکا تھا۔ ایک تحقیق کے مطابق بیجنگ کی فضا میں ایک سانس لینا تقریباً چالیس سگریٹیں پھونکنے کے برابر تھا۔ حکومت نے ہنگامی طور پر ایک کمیٹی تشکیل دی تاکہ ان وجوہ کا علم ہوسکے جن کی بناء پر شہر بھر میں اسموگ کا راج ہے۔

ماہرین نے چند دنوں میں ہی وہ اسباب تلاش کرلیے اور ان معلومات کی روشنی میں سرکار نے ہنگامی اقدامات کیے۔ سرکاری ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر عوام الناس کو آگہی دی گئی کہ کسی بھی حالت میں ماسک پہنے بغیر گھر سے باہر نہ نکلیں۔ کاریں اور موٹر سائیکلیں جو ایندھن سے چلتی ہیں، ان کا استعمال کم کرکے بجلی سے چلنے والی کاریں اور اسکوٹر متعارف کرائی جائیں۔ بہتر تو یہ ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ یعنی میٹرو ٹرین وغیرہ کا استعمال زیادہ کردیا جائے کیونکہ سڑک پر جتنی کم کاریں ہوں گی اتنی ہی کم مقدار میں فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہوگا۔

حکومت نے بیجنگ میں فیکٹریاں لگانے پر پابندی عائد کردی اور شہر کے گرد و نواح میں واقع کارخانوں کو بھی فوراً بند کروادیا جن کے دھوئیں سے شہر متاثر ہوتا تھا۔

یہاں واضح کرتا چلوں کہ بیجنگ سرسبز و شاداب شہر ہے، خصوصاً دیوار چین کے ارد گرد ہریالی ہی ہریالی ہے۔ زمانہ قدیم میں بادشاہوں کے محل ایسی جگہ بنائے جاتے تھے جہاں جھیلیں اور باغات واقع ہوتے تھے۔ آپ بیجنگ میں بے شمار ایسی جگہیں پائیں گے۔ ان سب چیزوں کے باوجود اسموگ نے شہر کو بری طرح متاثر کیا لیکن اس سب سے بڑھ کر یہ کہ وہاں کی حکومت کے بروقت اقدامات نے روز مرہ زندگی کا تسلسل ٹوٹنے نہ دیا۔ انڈسٹری سے وابستہ لوگوں نے رضاکارانہ طور پر اپنی فیکٹریاں بند کردیں اور عام شہریوں نے ہر وہ کام کرنے سے گریز کیا جس سے ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی زیادہ مقدار خارج ہو۔ چین کی 70 فیصد بجلی کی ضرورت کوئلے سے کام کرنے والے بجلی گھر پوری کرتے تھے لیکن حکومت نے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس بند کرکے وِنڈ ٹربائنز اور نیوکلیئر پلانٹس لگانے شروع کردیئے۔

موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ بیجنگ اب بھی اسموگ سے متاثر ہونے والا سب سے بڑا شہر ہے کیونکہ قدرتی عمل میں دخل اندازی کے نتیجے میں انجام سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔ اور یہ مسئلہ ایک دو دنوں میں حل نہیں ہو جاتا بلکہ اس کےلیے خاصا وقت درکار ہوتا ہے۔ لیکن وہاں کے لوگوں کے احوال ملاحظہ کیجیے، فی الوقت شہر میں نوے لاکھ سائیکلیں سڑکوں پر رواں دواں ہیں۔ حکومت نے پرائیویٹ کمپنیوں کے اشتراک سے ہر شاہراہ پر سائیکل اسٹینڈز بنادیئے ہیں جہاں سے کوئی بھی شہری سائیکل لے، اسمارٹ فون میں ایپ کی مدد سے ان لاک کرے اور جب تک چاہے استعمال کرنے کے بعد سائیکل کو دوبارہ کسی بھی اسٹینڈ پر پارک کردے۔

اس کے علاوہ بیجنگ، بجلی سے چلنے والی گاڑیاں استعمال کرنے والا سب سے بڑا شہر بننے جارہا ہے۔ شہر میں پیٹرول پمپس کے بجائے الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنز تعمیر کیے جارہے ہیں۔ ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں اور اسکوٹرز کا استعمال متروک کیا جارہا ہے تاکہ لوگ دوبارہ اپنے خوبصورت شہر میں صحت افزاء آب وہوا کے ساتھ رہ سکیں۔

اس منصوبے سے مغربی ممالک اس قدر متاثر ہوئے کہ امریکہ سمیت یورپ کے 10 ممالک نے چینی کمپنیوں سے رابطہ کرکے اپنے 100 سے زائد شہروں میں عوام کے لیے یہی سروس شروع کردی۔

لیکن پاکستان میں صورت حال ذرا مختلف ہے۔ پنجاب حکومت نے لاہور میں واقع تقریباً تمام فیکٹریوں کو عارضی طور پر بند کرنے کے نوٹسز جاری کیے، لیکن صرف شاہدرہ، محمود بوٹی اور داروغہ والا میں ہی ایسے 104 کارخانے کام کر رہے ہیں جو کاغذات میں تو سیل ہیں لیکن رات بارہ بجتے ہی وہ فضا کو آلودہ کرنا شروع کردیتے ہیں اور صبح سویرے تک اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ ملتان روڈ اور بند روڈ شہر کی دو مرکزی شاہراہیں ہیں جن پر روزانہ لاکھوں لوگ سفر کرتے ہیں۔ ان پر درخت نہ ہونے کے برابر ہیں اور یہ دونوں شاہراہیں تقریباً چار سال سے مٹی اور گرد و غبار میں اٹی ہوئی ہیں۔

ہر شہری اپنی گاڑی اور موٹر سائیکل خریدنا اور چلانا چاہتا ہے۔ ایک گھر میں تقریباً جتنے مرد ہیں اتنی ہی سواریاں بھی موجود ہیں جس سے نہ صرف آلودگی پھیلتی ہے بلکہ ٹریفک کے بھی بے شمار مسائل جنم لے رہے ہیں۔ دیگر ممالک جہاں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر بند کر رہے ہیں وہیں ہم نے ایسے پاور پلانٹس لگانا شروع کردیا ہے جو فضا کو مزید آلودہ کررہے ہیں۔ عوام بھی حکومت کے صحیح ہونے اور تبدیلی آنے کا انتظار کر رہے ہیں لیکن اپنی مدد آپ کے تحت کچھ کرنے پر آمادہ نہیں۔

شہریوں کو چاہیے کہ انفرادی طور پر اپنے ارد گرد صفائی ستھرائی کا انتظام کریں۔ ماحول کو آلودہ ہونے سے بچانے کےلیے جس حد تک ممکن ہو، کو شش کریں۔ خصوصاً کاشتکار حضرات اس موسم میں فصل کی کٹائی کے بعد زمین میں باقی رہ جانے والے تنے کو جلانے سے گریز کریں کیونکہ یہ اسموگ کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ حکومت کوبھی چاہیے کہ شہریوں کی صحت کی فکر کرتے ہوئے اس مسئلے کو حل کرنے کےلیے ہنگامی اقدامات کرے، کیونکہ اگر فوری طور پر یہ مناسب کام کرلیے جائیں تو اس مسئلے پر کسی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے، وگرنہ ماحول کو آلودہ کرنے کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو خدانخواستہ ہم قدرت کے عمل میں بگاڑ پیدا کرکے خود کو اُن مسائل کا شکار بنالیں گے جن کا تصور بھی محال ہے۔

جہاں دوسری بہت سی چیزوں میں ہم اپنے دوست ملک کی تقلید کر رہے ہیں، وہیں اس بارے میں بھی اسی سے کچھ سیکھ لیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔