ذیابیطس سے کیسے بچا جائے؟

ویب ڈیسک  منگل 14 نومبر 2017
پاکستان میں 70 لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس یا شوگرکے مرض کا شکارہیں: فوٹو: فائل

پاکستان میں 70 لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس یا شوگرکے مرض کا شکارہیں: فوٹو: فائل

ذیابیطس کواگر خاموش قاتل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا یہ ایسا مرض ہے جس کے لیے احتیاتی تدابیراختیار نہ کی جائے یا اس کوکنڑول کرنے کے لیے دوا نہ لی جائے تو یہ مرض آپ کو دن بدن گھلاتا رہتا ہے۔

ذیابیطس کے اسباب اورعلاج سے آگاہی زندگی کے لئے ناگزیر ہے اورغفلت سے یہ جان لیوا بیماری مریض کو موت کے منہ میں دھکیل سکتی ہے۔

  • ذیابیطس کیا ہے؟

ذیابیطس ایک ایسا دائمی مرض ہے جس میں شوگر کی مقدارمطلوبہ حد سے بڑھ جاتی ہے اور ذیابطیس لبلبے میں پیدا ہونے والے ہارمون انسولین کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔

یہ کمی دو طرح کی ہو سکتی ہے:

  1. ذیابیطس ٹائپ  1: لبلبے سے انسولین کی پیداوار کم یا ختم ہو جاتی ہے۔
  2. ذیابیطس ٹائپ 2 : انسولین پیدا ہوتی رہتی ہے لیکن کسی وجہ سے اس کا اثرکم ہوجاتا ہے۔
  • ذیابیطس سے کیسے بچا جائے؟

غذائی پرہیزہی ذیابیطس کا واحد علاج ہے۔ ماہرین صحت کہتے ہیں کہ اس لاعلاج مرض کے لاحق ہونے کا ایک اہم سبب بے احتیاطی ہے  اگرکھانے میں توازن رکھا جائے اوراس میں پروٹین اورکاربوہائڈریٹس کی مناسب مقدارشامل ہو توذیابیطس سے بچاؤممکن ہے۔  سستی، کاہلی اوربے پرواہی سے بھرپورطرززندگی بھی اس مرض کا سبب بنتے ہیں۔

  • اگرذیابیطس ہوجائے توکیا کرنا چاہیے؟

ذیابیطس ہونے کی صورت میں بلڈ شوگرلیول کا باقاعدہ کنٹرول رکھنا چاہیے۔ ٹائپ 1 ذیابیطس انسولین کے ساتھ ساتھ غذا کی تبدیلیوں اورمشق کے ساتھ منظم کیا جاسکتا ہے۔ ٹائپ 2 ذیابیطس بغیرانسولین کی ادویات، انسولین، وزن میں کمی، یا خوراک کی تبدیلیوں کے ساتھ منظم کیا جا سکتا ہے۔ مناسب غذا اور صحت مند لائف اسٹائل کسی بھی طرح کی ذیابیطس کا علاج ہے.

  • پاکستان میں اس بیماری میں مُبتلا افراد

پاکستان میں 70 لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس یا شوگرکے مرض کا شکارہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہرسال اس مرض میں مبتلا 84000 پاکستانی موت کا شکارہوجاتے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد خواتین کی ہے اوریہ تعداد سال درسال بڑھ رہی ہے، جس کو کنٹرول کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہی ہے کہ  اپنی خوراک میں صحت مند غذا شامل کی جائے اور سُستی اورکاہلی سے بچنے کے لیے ایک ایکٹو لائف سٹائل اپنایا جائے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔