بھارت میں ’’رس گلے‘‘ کی قانونی جنگ بنگال نے جیت لی

ویب ڈیسک  منگل 14 نومبر 2017
میں فخر محسوس کررہی ہوں کہ ریاست کو ’رس گلے‘ کی جغرافیائی پیدائش کا درجہ دیا گیا ہے، وزیراعلیٰ مغربی بنگال۔ فوٹو : فائل

میں فخر محسوس کررہی ہوں کہ ریاست کو ’رس گلے‘ کی جغرافیائی پیدائش کا درجہ دیا گیا ہے، وزیراعلیٰ مغربی بنگال۔ فوٹو : فائل

کولکتہ: بھارتی ریاستوں مغربی بنگال اور اڑیسہ کے درمیان ’رس گلے‘ کے حوالے سے 2015 سے جاری تنازع حل ہوگیا اور اس حوالے سے جاری قانونی جنگ بالآخر مغربی بنگال نے جیت لی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی 2 ریاستوں مغربی بنگال اور اڑیسہ میں ’رس گلے‘ کی ایجاد کے حوالے سے کشیدگی جاری تھی اور معاملہ جغرافیکل انڈیکیشن رجسٹری تک جاپہنچا، ’رس گلے‘ کے حوالے سے تنازع 2015 سے جاری تھا جب اڑیسہ کے ایک وزیر نے بیان میں کہا کہ ’رس گلہ‘ ریاست میں 600 سال سے موجود ہے جس پر بنگال کے وزیرخوراک نے کہا کہ اڑیسہ کا دعویٰ جھوٹ اور بے بنیاد ہے،’رس گلہ‘ خالصتاً بنگال کی ایجاد ہے اور اس دعوے پر بنگال حکومت نے عدالت جانے کا بھی فیصلہ کیا تھا۔

بالآخر تقریباً ڈیڑھ سال بعد رس گلے کی جغرافیائی پیدائش کا دعویٰ مغربی بنگال نے جیت لیا، جغرافیکل انڈیکیشن رجسٹری نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’رس گلہ‘ مغربی بنگال کی ایجاد ہے اور اس کا ریاست اڑیسہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نے ٹوئٹ میں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ میں بہت خوش ہوں اور فخر محسوس کررہی ہوں کہ ’’رس گلے‘‘ کو بنگال کی جغرافیائی علامت کا درجہ دیا گیا ہے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : ’’رس گلے‘‘ کے لئے بھارتی ریاستیں آپس میں لڑ پڑیں

واضح رہے کہ 2015 میں اڑیسہ حکومت نے سوشل میڈیا پر رس گلے کو اڑیسہ کی ایجاد کے نام سے مہم شروع کی تھی جس کے بعد یہ سوشل میڈیا پر زیربحث رہا اور بالآخر بنگال حکومت اور اڑیسہ اس حوالے سے عدالت تک جانے کا فیصلہ کربیٹھے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔