پاک بھارت کرکٹ تعلقات کی بحالی کا فیصلہ حکومتوں پر ہے، وسیم اکرم

اسپورٹس ڈیسک  بدھ 15 نومبر 2017
 کھلاڑیوں یا عوام کی خواہشات سے فرق نہیں پڑتا، وسیم اکرم۔ فوٹو: فائل

 کھلاڑیوں یا عوام کی خواہشات سے فرق نہیں پڑتا، وسیم اکرم۔ فوٹو: فائل

 کراچی:  سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا ہے کہ پاک بھارت کرکٹ تعلقات کی بحالی کا تعلق کھلاڑیوں یا عوام کی خواہشات سے نہیں بلکہ حکومتوں کے فیصلے سے ہے۔

بی بی سی کو انٹرویو میں انھوں نے سابقہ موقف دہراتے ہوئے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل بہت اچھا کام کر رہی ہے لیکن وہ بھارت کو کہہ یا منا نہیں سکتی،ہو سکتا ہے کہ میں غلط ہوں لیکن یہ میری رائے ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت نے 2012 سے اب تک کوئی دو طرفہ کرکٹ سیریز نہیں کھیلی۔اس بارے میں آئی سی سی کے اقدامات کے حوالے سے سوال پر وسیم اکرم نے کہا کہ میں اس کی قابلیت پر سوال نہیں اٹھا رہا، وہ بہت اچھے کام کر رہی ہے لیکن اگر بھارتی حکومت نہیں مان رہی کہ پاکستان سے نہیں کھیلنا تو ان کا کرکٹ بورڈ بھی کچھ نہیں کر سکتا۔

کیا بھارتی ٹیم پاکستان کے ساتھ کھیلنے کی خواہشمند ہے؟اس بارے میں وسیم اکرم کا خیال ہے کہ یہ عوام یا کھلاڑیوں کے چاہنے کی بات نہیں، معاملہ دونوں حکومتوں کا ہے، کھلاڑیوں کو تو کوئی بھی ٹیم ملے وہ کھیلیں گے بات حکومتوں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست اپنی جگہ اور کھیل اپنی جگہ ہے، میں نے بھی بھارت میں 12، 13 سال کام کیا، مگر بدقسمتی سے پچھلے دو سال سے وہاں نہیں جا سکا،میرے بھارت میں بہت سارے دوست ہیں، میں وہاں جانا، بھارتی ثقافت، کھانا اور اپنے دوستوں کو مِس کرتا ہوں، مجھے بھارت میں بھی بہت پیار ملتا ہے، میرے اتنے ہی دوست وہاں ہیں جتنے یہاں ہیں، اگر ہمیں اپنے حالات بہتری کی طرف لانے ہیں تو پاکستان اور بھارت کے لوگوں کا آپس میں رابطہ بہت اہم ہے۔

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ پاک بھارت کرکٹ کا دنیا میں کوئی اورسیریز مقابلہ نہیں کر سکتی، اس کا اپنا مزہ ہے، بہت لوگ کہتے ہیں کہ ایشز سیریز کا بہت دباؤہوتا ہے لیکن جہاں ایک ارب لوگ میچ دیکھ رہے ہوں۔ اس کے دباؤ کا کسی اور سیریز سے کوئی مقابلہ ہی نہیں کر سکتے۔

سابق کپتان نے پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن میں نئی ٹیم ملتان سلطانز کو جوائن کیا ہے، وہ اس سے قبل اسلام آباد یونائیٹڈ سے منسلک تھے،اس فیصلے کے بارے میں انھوں نے کہاکہ اسلام آبادکیساتھ میرا بہت اچھا وقت گزرا، وہاں فیملی جیسا ماحول اور ٹیم مالکان بہت پروفیشنل تھے، ان سے میری دوستی بھی ہے لیکن ٹیم کو چھوڑنا ایک پروفیشنل فیصلہ تھا،کوئی بھی نیا کام مجھے بہت پُرجوش کر دیتا ہے، صفر سے نئی ٹیم کو بنانا، نئے کھلاڑی، کپتان اور مینجمنٹ چننا، یہ سب آسان نہیں تھا لیکن میں نئی چیزیں کرنا پسند کرتا ہوں، میں نے اسے چیلنج کے طور پر لیا، میرے لیے سب سے اہم پاکستان کرکٹ اور پاکستان سپر لیگ ہیں۔

ملکی کرکٹ کی بہتری میں پی ایس ایل کے کردار پر وسیم اکرم نے کہاکہ اگر پی ایس ایل نہ ہوتی تو ون ڈے میں دنیا کا سب سے بہترین بولر حسن علی نہ ملتا، سب سے دلچسپ نوجوان کرکٹر شاداب نہ ملتا، آپ کو مختلف طرز کی بولنگ کرنے والا رومان رئیس نہ ملتا۔’شرجیل خان کا پہلے پی ایس ایل کے بعد کیریئر نئے طریقے سے شروع ہوا، یہ سب پی ایس ایل کا ہی تو جادو ہے۔ آہستہ آہستہ دیکھیں اگر پی ایس ایل کے 50 فیصد میچ بھی پاکستان آ جاتے ہیں تو آپ کو اس سے اور کھلاڑی بھی ملیں گے اور نوجوان کھلاڑی اس کھیل کی طرف آئینگے۔

برطانیہ میں ہونیوالے 2019 کرکٹ ورلڈ کپ کی تیاری کے بارے میں جب وسیم اکرم سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہاکہ جس طریقے سے پاکستان کرکٹ ٹیم نے چیمپئنز ٹرافی میں پرفارم کیا اور فتح پائی اس سے لگ رہا ہے کہ یہ صحیح سمت میں جا رہی ہے،ٹیم میں کچھ تجربہ کار کھلاڑی ہیں، کپتان کی یہ بات مجھے بہت اچھی لگتی ہے کہ وہ ٹیم اور کھیل دونوں میں بہت دلچسپی لیتے ہیں اور نوجوان کھلاڑی بہت اچھا پرفارم کر رہے ہیں، یقیناً ٹیم صحیح سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔‘

وسیم اکرم نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ ورلڈ کپ 2019 کون سی ٹیم جیتے گی لیکن جب تک ہماری ٹیم تیار ہے اور 2019 آئیگا تو یہی نوجوان کھلاڑی تجربہ کار بھی ہو جائینگے اور جوش سے کھیلیں گے۔‘ پی ایس ایل 2017 کا فائنل لاہور میں ہوا، ورلڈ الیون ٹیم اور سری لنکن کرکٹ ٹیموں نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تو کیا اب واقعی انٹرنیشنل کرکٹ کی پاکستان میں واپسی ہو گئی ہے؟

اس حوالے سے وسیم اکرم نے کہاکہ ایک ایک قدم کر کے ہم کامیابی تک پہنچ رہے ہیں، نجم سیٹھی نے اعلان کیا ہے کہ پی ایس ایل 2018 کا فائنل کراچی میں ہو گا، یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے کیونکہ کراچی والے ہمیشہ سے کہتے تھے کہ ان کے ہاں میچ کیوں نہیں ہوتا، معاملات بہتری کی طرف جا رہے ہیں، جو کچھ آئی پی ایل نے بھارتی کرکٹ میں کیا ویسا ہی اثرایس ایل کا پاکستان کرکٹ پر ہو گا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔