ترقیاتی منصوبوں سے متعلق انکشافات، اراکین سندھ اسمبلی حیرت زدہ

وکیل راؤ  بدھ 15 نومبر 2017
ڈھائی ہزار میں سے صرف 168 اسکیموں کو مکمل کیا جا سکا، وقفہ سوالات میں جوابات۔ فوٹو:فائل

ڈھائی ہزار میں سے صرف 168 اسکیموں کو مکمل کیا جا سکا، وقفہ سوالات میں جوابات۔ فوٹو:فائل

 کراچی:  سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ترقیاتی منصوبوں سے متعلق انکشافات پر حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے اراکین بھی حیرت زدہ رہ گئے۔

گزشتہ روز محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران تحریری اور ضمنی جوابات میں بتایا گیا کہ 2011-12 کی ایک ہزار سے زائد اسکیمیں 5 سال بعد بھی ادھوری ہیں، 2011-12 کی 157 اسکیموں کا آغاز ہی نہ ہوسکا، کئی اسکیمیں ختم کردی گئیں جبکہ مالی سال2012-13 میں ڈھائی ہزار میں سے صرف168 اسکیمیں مکمل ہو سکیں۔

اجلاس میں 2011-12 میں محکمہ تعلیم کی 959 اسکیمیں شروع نہ ہونے کا بھی انکشاف ہوا، سکھر میں محکمہ تعلیم کی 908 اسکیمیں شروع نہ ہو سکیں، خیرپور میں 134، ٹنڈو محمد خان میں محکمہ تعلیم کے 96 منصوبے جبکہ لاڑکانہ میں 66 منصوبے شروع نہیں ہوئے، اسی طرح مٹیاری میں اسکولز و کالجز کے 59 اور دادو کے58 پروجیکٹس شروع نہ ہو سکے۔

دوسری جانب وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ہزار خان بجارانی نے کہا کہ صوبائی محکمہ خزانہ کی طرف سے ترقیاتی اسکیموں کیلیے فنڈز کا بروقت اجرا نہ ہونے کی وجہ سے ان اسکیموں کی تکمیل میں تاخیر ہو جاتی ہے، متعدد ارکان نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ5,6 سال پرانی اسکیمیں بھی اب تک مکمل نہیں ہو سکیں۔

متعدد ارکان نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ اسمبلی میں سوالوں کے جوابات 3,4 سال بعد دیے جاتے ہیں اور اس سے سوال پوچھنے کا مقصد بھی ختم ہو جاتا ہے، ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا، میر ہزار خان بجارانی کو ’’ریسکیو‘‘ کرتی رہیں اور ارکان سے کہتی رہیں کہ ان کے ضمنی سوالات غیر متعلق ہیں، انھیں تازہ سوال جمع کرانا چاہیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔