ہو سکتا ہے قوم 2018 کا الیکشن نہ دیکھ سکے، فضل الرحمن

نمائندہ ایکسپریس  بدھ 15 نومبر 2017
سیاسی قوتوں نے یکجہتی کا مظاہرہ نہ کیا تو ہو سکتا ہے کہ قوم اگلا الیکشن نہ دیکھ سکے۔ امیر جمعیت علمائے اسلام (ف)۔ فوٹو: فائل

سیاسی قوتوں نے یکجہتی کا مظاہرہ نہ کیا تو ہو سکتا ہے کہ قوم اگلا الیکشن نہ دیکھ سکے۔ امیر جمعیت علمائے اسلام (ف)۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد: امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) و چیئرمین کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ قوم 2018 کا الیکشن نہ دیکھ سکے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اگر سیاسی قوتوں نے یکجہتی کا مظاہرہ نہ کیا تو ہو سکتا ہے کہ قوم 2018 کا الیکشن نہ دیکھ سکے۔ سیاسی جماعتیں اسپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے رائے ہو گیا تو ان شقوں کو بحال کرے، جیب کتروں کی تلاش ہے ابھی رپورٹ سامنے نہیں آئی، ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کو سامنے لایا جائے۔

علاوہ ازیں امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) کا کہنا تھا کہ پورا عالم اسلام اس وقت آزمائش اور قرب کے دور سے گزر رہا ہے، جنوبی ایشیا کی صورت حال سب کیلیے لمحہ فکریہ ہے، ہم ملک میں داخلی یکجہتی سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری 70سال سے حق خودارادیت سے محروم ہیں، بھارت کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کر رہا ہے، ہمارے خطے میں امریکا بھارت کا مفاد مشترکہ ہے، امریکا چین کے نئے اقتصادی فلسفے کو فروغ دینے کی مخالفت کرنا چاہتا ہے جب کہ امریکا بھارت معاہدے خطے میں عدم استحکام کا باعث بنیں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔