کراچی کے تھانے ریڑھی والوں کے پیسوں پر چلتے ہیں، سپریم کورٹ

ویب ڈیسک  بدھ 15 نومبر 2017
ایس ایچ او تک تجاوزات کے پیسے پر پل رہے ہوتے ہیں، جسٹس گلزار احمد کے ریمارکس۔ فوٹو : فائل

ایس ایچ او تک تجاوزات کے پیسے پر پل رہے ہوتے ہیں، جسٹس گلزار احمد کے ریمارکس۔ فوٹو : فائل

 کراچی: کراچی میں پارکوں سے تجاوزات ہٹانے کے کیس میں سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ہیں کہ تھانے ریڑھی والوں کے چندوں اور پیسوں پر چلتے ہیں جب کہ ایس ایچ او تجاوزات کے پیسے پر پل رہے ہوتے ہیں۔

سپریم کورٹ رجسٹری میں پارکوں سے تجاوزات ہٹانے کا معاملے پر درخواست کی سماعت ہوئی جس میں جسٹس سجاد علی  شاہ نے ریمارکس دیے کہ صدر اور اطراف کا علاقہ تجاوزات سے بھرا پڑا ہے ، آپ ایک ریڑھی ہٹا کر دکھا دیں، تھانے ریڑھی والوں کے چندوں اور پیسوں پر چلتے ہیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : کراچی کےشہریوں کیلیے سانس لینے کی جگہ بھی نہیں چھوڑی گئی

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ پورے شہر کا حال دیکھیں کے ایم سی کی ملی بھگت سے سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر تجاوزات قائم ہیں، ایس ایچ او تک تجاوزات کے پیسے پر پل رہے ہوتے ہیں جب کہ کے ایم سی نے تو پارک بھی کرائے پر دے دیے اور فٹ پاتھوں پر جنریٹر لگوا دیے، جسٹس گلزار احمد نے کے ایم سی افسر سے سوال کیا کہ یہ پیسہ سرکار کے پاس جاتا ہے یا اپنی جیبوں میں ڈال لیتے ہیں۔ عدالت نے پارکوں سے تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔