دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان کا کردار
پاکستان نے دہشت گردوں کی آمدورفت روکنے کے لیے سرحدی صورت حال بہتر بنائی
پاکستان نے دہشت گردوں کی آمدورفت روکنے کے لیے سرحدی صورت حال بہتر بنائی۔فوٹو: فائل
KARACHI:
پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل جوزف ووٹل نے ملاقات کی' جس میں افغانستان اور خطے کی سیکیورٹی صورت حال اور قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جمعرات کو ہونے والی اس ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کمانڈر جنرل جوزف ووٹل پر واضح کر دیا کہ پاکستان نے رکاوٹوں کے باوجود اپنی طرف سے بہترین اقدامات اٹھائے اور وہ اپنے مستقبل کی خاطر پاکستانی عوام کی امنگوں کے مطابق کوششیں جاری رکھے گا تاہم افغانستان کی جانب سے پاکستان کو مثبت جواب نہیں ملا' پاکستان کی مثبت کوششوں کے باوجود افغان سرزمین سے دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے۔
اس موقع پر کمانڈر جنرل جوزف ووٹل نے انسداد دہشت گردی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں اس کے کردار کو پہلی بار نہیں سراہا گیا بلکہ اس سے پیشتر بھی امریکی حکام پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کر چکے ہیں لیکن اس سب کے باوجود امریکا پاکستان کے ساتھ ڈبل گیم کھیل رہا ہے۔ ایک جانب وہ پاکستانی مثبت کردار پر اسے تھپکی دیتا تو دوسری جانب ڈومور کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکیوں پر اتر آتا ہے۔
پاکستان نے اپنے خطے میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانے اور ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو آپریشن کر کے تباہ کر دیا اب جو بھی دہشت گرد موجود ہیں وہ بے چہرہ اور بے شناخت ہیں اور ان کے ٹھکانے واضح نہیں جب کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد جدید ہتھیاروں سے مسلح اور ایک بڑے علاقے پر ان کا کنٹرول ہے جہاں سے وہ افغان اور امریکی افواج کو مسلسل نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا اپنے تمام تر وسائل' ٹیکنالوجی اور مہارت کے باوجود افغانستان میں جنگجوؤں کے سامنے بے بس ہو چکا' اپنی اس بے بسی اور ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے وہ پاکستان پر ڈومور کا دباؤ ڈالتا رہتا ہے۔
پاکستان نے دہشت گردوں کی آمدورفت روکنے کے لیے سرحدی صورت حال بہتر بنائی' جا بجا چوکیاں قائم کرنے کے علاوہ خاردار تار لگا کر دہشت گردوں کی آمد روکنے کے بھرپور انتظامات کیے جا رہے ہیں لیکن افغانستان سے آئے دن دہشت گردوں کے حملے جاری رہتے ہیں جس میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ پاکستان نے قیام امن کے لیے ہر ممکن کوشش کی مگر افغانستان کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا اور سرحد پار سے حملے روکنے میں بھی افغان حکومت ناکام ہو چکی ہے۔ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے افغان سرحد پر دہشت گردوں کے حملے اور آمدورفت کو روکنا امریکا اور افغان حکومت کی ذمے داری ہے جسے انھیں ہرصورت پورا کرنا چاہیے۔
پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل جوزف ووٹل نے ملاقات کی' جس میں افغانستان اور خطے کی سیکیورٹی صورت حال اور قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جمعرات کو ہونے والی اس ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کمانڈر جنرل جوزف ووٹل پر واضح کر دیا کہ پاکستان نے رکاوٹوں کے باوجود اپنی طرف سے بہترین اقدامات اٹھائے اور وہ اپنے مستقبل کی خاطر پاکستانی عوام کی امنگوں کے مطابق کوششیں جاری رکھے گا تاہم افغانستان کی جانب سے پاکستان کو مثبت جواب نہیں ملا' پاکستان کی مثبت کوششوں کے باوجود افغان سرزمین سے دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے۔
اس موقع پر کمانڈر جنرل جوزف ووٹل نے انسداد دہشت گردی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں اس کے کردار کو پہلی بار نہیں سراہا گیا بلکہ اس سے پیشتر بھی امریکی حکام پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کر چکے ہیں لیکن اس سب کے باوجود امریکا پاکستان کے ساتھ ڈبل گیم کھیل رہا ہے۔ ایک جانب وہ پاکستانی مثبت کردار پر اسے تھپکی دیتا تو دوسری جانب ڈومور کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکیوں پر اتر آتا ہے۔
پاکستان نے اپنے خطے میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانے اور ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو آپریشن کر کے تباہ کر دیا اب جو بھی دہشت گرد موجود ہیں وہ بے چہرہ اور بے شناخت ہیں اور ان کے ٹھکانے واضح نہیں جب کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد جدید ہتھیاروں سے مسلح اور ایک بڑے علاقے پر ان کا کنٹرول ہے جہاں سے وہ افغان اور امریکی افواج کو مسلسل نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا اپنے تمام تر وسائل' ٹیکنالوجی اور مہارت کے باوجود افغانستان میں جنگجوؤں کے سامنے بے بس ہو چکا' اپنی اس بے بسی اور ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے وہ پاکستان پر ڈومور کا دباؤ ڈالتا رہتا ہے۔
پاکستان نے دہشت گردوں کی آمدورفت روکنے کے لیے سرحدی صورت حال بہتر بنائی' جا بجا چوکیاں قائم کرنے کے علاوہ خاردار تار لگا کر دہشت گردوں کی آمد روکنے کے بھرپور انتظامات کیے جا رہے ہیں لیکن افغانستان سے آئے دن دہشت گردوں کے حملے جاری رہتے ہیں جس میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ پاکستان نے قیام امن کے لیے ہر ممکن کوشش کی مگر افغانستان کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا اور سرحد پار سے حملے روکنے میں بھی افغان حکومت ناکام ہو چکی ہے۔ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے افغان سرحد پر دہشت گردوں کے حملے اور آمدورفت کو روکنا امریکا اور افغان حکومت کی ذمے داری ہے جسے انھیں ہرصورت پورا کرنا چاہیے۔