گلوبل وارمنگ اور امریکا

40 فیصد بجلی کوئلے سے پیدا ہونے کی وجہ سے گلوبل وارمنگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

40 فیصد بجلی کوئلے سے پیدا ہونے کی وجہ سے گلوبل وارمنگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔، فوٹو : فائل

دنیا میں ''گلوبل وارمنگ'' کا غلغلہ کافی عرصے سے بلند ہو رہا ہے جس کی اصل ذمے داری تو ترقی یافتہ صنعتی ملکوں پر عاید ہوتی ہے مگر اس کا نتیجہ غریب ممالک کو بھی بھگتنا پڑ رہا ہے حالانکہ عالمی حرارت کے اضافے میں ان بیچاروں کا کوئی خاص عمل دخل نہیں کیونکہ نہ تو ان کی فیکٹریاں اور ملیں ایسی زہریلی گیسوں کے اخراج کا موجب بنتی ہیں جو گلوبل وارمنگ کے اضافے میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں اور نہ ہی وہ وسیع تباہی کے ہتھیار بنانے پر قادر ہیں۔


گزشتہ روز دن جرمنی کے شہر بون میں اقوام متحدہ کے 20 اہم ممالک کا ایک اجلاس ہوا جس میں کوئلے سے چلنے والے صنعتی یونٹوں کے استعمال کے خلاف دلائل پیش کیے گئے اور کوئلے کے صنعتی استعمال پر پابندی عاید کرنے پر زور دیا گیا۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اراکین نے کوئلے کے استعمال پر پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے متضاد نکتہ نظر پیش کیا۔ متذکرہ 20 ممالک کے اجلاس کی سربراہی کینیڈا اور برطانیہ کر رہے تھے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اب بھی دنیا کی 40 فیصد بجلی کوئلے سے پیدا کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے گلوبل وارمنگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ''گرین ہاؤس گیسز'' بھی گلوبل وارمنگ میں اضافہ کی ایک بڑی وجہ ہیں اور اس حوالے سے گزشتہ عرصے میں پیرس میں ہونے والے اجلاس میں کچھ پیشرفت ہوئی تھی مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صریح خود غرضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیرس معاہدے سے نکلنے کا اعلان کر دیا جس کے بعد بات وہیں رہ گئی جہاں سے شروع ہوئی تھی۔اب ایک بار پھر امریکا گلوبل وارمنگ کے ایشو پر دیگر ممالک کے موقف سے برعکس پالیسی پر عمل پیرا ہے' یوں دیکھا جائے تو عالمی ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کی ذمے داری اصل میں امریکا پر ہی عائد ہوتی ہے۔
Load Next Story