قانون کی بالادستی

جب طالبان نے قبائلی علاقوں میں زور پکڑا تو ان علاقوں کے روایتی سیاسی رہنما عملاً بے اثر ہوگئے۔

tauceeph@gmail.com

دہشت گردی کے ذمے دار طالبان کی شمولیت کے بغیر مذاکرات ادھورے ہوں گے۔ طالبان عسکری قیادت امن کوششوں کی حمایت کرے گی۔ اے پی سی میں کالعدم تنظیمیں آسکتی ہیں تو پھر طالبان کو بھی بلانا چاہیے تھا۔ رحمن ملک کے یہ تمام بیانات جمعیت علمائے اسلام کے تحت ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد سامنے آئے۔ جے یو آئی کی کانفرنس عوامی نیشنل پارٹی کی کانفرنس کا ایک طرح سے تسلسل تھی۔

اے این پی کانفرنس میں طالبان کے لیے نرم گوشہ اختیار کرتے ہوئے دہشت گردی کی جگہ بدامنی کے الفاظ استعمال کیے گئے۔ اس قرارداد میں دہشت گردی سے متاثرین کا ذکر اور انھیں معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے مگر قرارداد میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ متاثرین کس کی دہشت گردی سے متاثر ہوئے ہیں۔ جے یو آئی کی اے پی سی میں قبائلی جرگہ قائم ہوا۔ یہ جرگہ شمالی اور جنوبی وزیرستان سمیت قبائلی علاقوں کے عمائدین سے مذاکرات کرے گا۔ قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے پختونخوا کے گورنر انجنیئر شوکت اﷲ اس مذاکراتی عمل میں اہم کردار ادا کریں گے اور پشاور کا گورنر ہائوس رابطہ دفتر کا فریضہ انجام دے گا۔

نائن الیون کی دہشت گردی کے بعد جب امریکا اور اتحادی فوجوں نے کابل میں ملا عمر کی حکومت کا خاتمہ کیا تو طالبان نے امریکی فوج کے خلاف مزاحمت کی۔ افغانستان اور پاکستان کے مدارس سے تعلق رکھنے والے طالبان کے ساتھ عرب، وسطی ایشیائی ممالک کے علاوہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے انتہاپسند بھی اس لڑائی میں شریک ہوگئے۔ بعض دستاویزات اور اس موضوع پر شایع ہونے والی کتابوں میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ عسکری اسٹیبلشمنٹ سے منسلک خفیہ ایجنسی کے نیٹ ورک نے طالبان کی مزاحمت کو کچلنے میں مدد کی۔ کابل کی لڑائی قبائلی علاقوں سے ہوتی ہوئی کوئٹہ اور پشاور کے راستے کراچی تک پہنچ گئی۔

جب طالبان نے قبائلی علاقوں میں زور پکڑا تو ان علاقوں کے روایتی سیاسی رہنما عملاً بے اثر ہوگئے۔ ان میں سے کچھ طالبان کے ہم نوا بن گئے اور کچھ طالبان کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ طالبان نے قبائلی علاقوں میں اپنی بالادستی قائم کی تو اپنی شریعت کو نافذ کیا۔ یوں خواتین، مسلمانوں کے دوسرے فرقے اور اقلیتی برادری کے افراد متاثر ہوئے۔ پارا چنار کے علاقے میں آباد شیعہ آبادی برسوں سے محصور رہی۔ ان کی نسل کشی کا سوال پیدا ہوگیا۔ طالبان نے اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ دنیا کی جدید تاریخ میں یہ واحد مزاحمتی جنگ ہے جس کا براہ راست نشانہ خواتین کے اسکول بنے۔ ماضی میں پاکستان میں بنگالیوں کی مزاحمتی تحریک کی عظیم داستان ہے۔

1971 میں بنگالی عوام کی اس تحریک کے دوران پاکستانی فوج پر بنگالیوں کی نسل کشی کے الزامات لگے۔ باغی تنظیم مکتی باہنی پر بہاریوں کے قتل عام کے الزامات عائد ہوئے مگر کسی فریق نے اسکولوں، مساجد اور مزاروں کو نشانہ نہیں بنایا۔ اسی طرح سری لنکا میں تامل ٹائیگرز کی مزاحمتی تحریک کے دوران سب کچھ ہوا مگر تعلیمی ادارے اور عبادت گاہیں محفوظ رہیں۔ جب طالبان اور ان کے نیٹ ورک سے منسلک تنظیموں نے پاکستان کے مختلف شہروں میں کارروائیاں کیں تو انھوں نے خصوصی طور پر پاک فضائیہ، پاک بحریہ اور بری فوج کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے علاوہ مزاروں، تعلیمی اداروں کے علاوہ اقلیتی فرقوں کے اجتماعات کو بھی نشانہ بنایا۔ اس کی سب سے بھیانک مثال کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی نسل کشی ہے۔

پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو، عوامی نیشنل پارٹی کے بشیر بلور اور دوسرے فرقوں کے اہم علما بھی اس صورتحال کا نشانہ بن گئے۔ ان دہشت گردوں نے جماعت اسلامی کے رہنما قاضی حسین احمد مرحوم اور خود مولانا فضل الرحمن کی جان لینے کی کوشش کی۔ بچوں کو پولیو کی بیماری سے بچانے کے لیے قطرے پلانے کی مہم، فیملی پلاننگ کو رائج کرنے والی ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف پر قاتلانہ حملوں کی ایک اپنی ہی تاریخ ہے۔


کچھ لوگ کہتے ہیں کہ امریکی فوج کی کارروائیوں، ڈرون حملوں اور جنرل پرویز مشرف کی لال مسجد اسلام آباد میں کارروائی اور سیکڑوں افراد کی ہلاکت کے بعد دہشت گردی کی کارروائیوں، خاص طور پر خودکش حملوں میں شدت آئی۔ عجیب اتفاق ہے کہ امریکی پالیسیوں کے خلاف شیعہ مسلک میں شدید نفرت پائی جاتی ہے۔ ان کے ہر جلسے اور جلوس میں امریکا کے خلاف نعرے درج ہوتے ہیں۔ ان کی ناراضگی امریکا کی ایران کے خلاف پالیسیوں کی بنا پر ہے مگر طالبان نے اس فرقے کو سب سے زیادہ نشانہ بنا کر کس قوت کے مفاد پورے کیے؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ طالبان کی تحریک کے حوالے سے سوات کا خصوصی طور پر ذکر ہوتا ہے۔

جب طالبان کمانڈر ملا فضل اﷲ نے سوات پر قبضہ کیا تو ان کی ہدایات پر خواتین کے لیے تعلیم کے دروازے بند کردیے گئے۔ اسپتالوں میں کام کرنے والی ڈاکٹروں اور نرسوں کی سرگرمیوں کو محدود کردیا گیا، بریلوی فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک پیر کو سرعام پھانسی دے دی گئی اور ان کی لاش کئی دنوں تک درخت سے لٹکی رہی۔ یہ حقیقت ہے کہ مذاکرات ہی تمام مسائل کا حل ہیں۔ دنیا کے بڑے تنازعات آخرکار مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوئے۔

یہی وجہ ہے کہ امریکا اور اتحادی افواج کی 2014 میں افغانستان سے واپسی کے بعد افغانستان میں ایک وسیع البنیاد حکومت قائم کرنے کے لیے کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ امریکا نے طالبان سے دوحا میں مذاکرات کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ یہ بھی خبر ہے کہ بھارتی حکومت نے وہابی مسلک کی سب سے بڑی علمی درسگاہ دیوبند کے علما سے رابطہ کیا ہے۔ دیوبند کے مدرسے کی انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی عظیم تاریخ ہے۔ اس طرح پاکستان میں بھی یہ کوششیں تیز ہوئی ہیں ۔

پاکستان میں اس وقت ملک کا نظام 1973 کے آئین کے تحت چل رہا ہے۔ اس آئین پر مذہبی اور روشن خیال سیاسی جماعتیں نہ صرف متفق ہیں بلکہ جب بھی کوئی فوجی آمر اس آئین کو معطل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو تمام جماعتیں اس آئین کی بالادستی کے لیے جدوجہد بھی کرتی ہیں۔ اب تو اس آئین کے تحت ایک جمہوری حکومت اپنے پانچ سال مکمل کررہی ہے اور نئے انتخابات کا مرحلہ شروع ہونے والا ہے۔ اس ملک پر 30 سال سے زائد حکومت کرنے والی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی جمہوری عمل کی پاسداری کی بار بار تجدید کرچکے ہیں۔

طالبان سے مذاکرات میں 1973 کے آئین کی بالادستی کو مقدم ہونا چاہیے۔ طالبان اور ان سے منسلکہ جماعتوں کو اس جمہوری نظام کو تسلیم کرنے اور اس میں شرکت کی یقین دہانی کرانی چاہیے۔ انھیں واضح کرنا چاہیے کہ 1973 کے آئین کے ڈھانچے میں وہ اپنے مطالبات پیش کریں گے اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ اس آئین سے متصادم کسی بھی مطالبے کو تسلیم کرنے کا مطلب ملک کو ایک نئے بحران میں مبتلا کرنا ہوگا۔ دہشت گردی کا مطالعہ کرنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں ان دہشت گردوں کو معافی دے دی جاتی ہے جو آئین اور قانون کی بالادستی کو قبول کرلیتے ہیں۔

جو لوگ آئین سے ماورا مطالبات منوانا چاہتے ہیں ان کو دنیا بھرمیں کہیں بھی معافی نہیں ملتی۔ یوں اگر ان مذاکرات کے ذریعے کل کے دہشت گرد آج کے قانون کے تابع شہری بن جائیں اور ان میں سے کوئی فرد آیندہ ہونے والے انتخابات میں حصہ لے کر پارلیمنٹ کا رکن بن جائے اور آئین کی بالادستی کا حلف اٹھائے تو اس ملک میں ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہوسکتا ہے۔ کوئی دوسرا راستہ تباہی کا راستہ ہوگا۔
Load Next Story