سعد حریری کا وطن واپسی کا اعلان

لبنانی صدر نے وزیراعظم سعد حریری کا استعفیٰ ابھی منظور نہیں کیا

لبنانی صدر نے وزیراعظم سعد حریری کا استعفیٰ ابھی منظور نہیں کیا ۔فوٹو:فائل

لبنان کے وزیراعظم سعد حریری جو گزشتہ دنوں اچانک سعودی عرب چلے گئے تھے اور وہاں پہنچ کر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا جس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ ان کی جان کو خطرہ ہے وہ اب فرانس پہنچ چکے ہیں جہاں انھوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ آیندہ چند روز میں واپس اپنے وطن لبنان روانہ ہو جائیں گے اور ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے ٹھوس اقدامات کا اعلان کریں گے تاکہ ملک میں سیاسی استحکام قائم ہو سکے۔

سعد حریری نے بتایا کہ پیرس میں ان کی فرانسیسی صدر عمانوئل میکرون کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے جنہوں نے انھیں اور ان کی فیملی کو فرانس آنے کی باضابطہ دعوت دی ہے تاکہ یہ تاثر ختم کیا جا سکے کہ سعد حریری کو سعودی عرب میں یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ فرانس میں سعد حریری اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ساتھ فرانسیسی صدارتی محل ایلسی پیلس کی سیڑھیوں کے سامنے نظر آئے ہیں جہاں اخبار نویسوں کے ایک ہجوم نے ان کا گھیراؤ کر رکھا ہے اور ان سے سوالات کیے جا رہے ہیں۔

لبنانی وزیراعظم سعد حریری نے لبنانی صدر مائیکل عون کو بتایا کہ وہ بدھ کو بیروت میں ہونے والی لبنان کی آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں گے۔ لبنانی صدر مائیکل عون نے لبنان کی مدد کرنے پر فرانسیسی صدر کا شکریہ ادا کیا ہے۔ واضح رہے لبنان کی حزب اللہ نامی تنظیم اسلحے کے اعتبار سے اس قدر مضبوط ہو چکی ہے کہ لبنانی فوج بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس لیے مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی ملک میں غیرسرکاری تنظیموں کو اس حد تک آزاد نہیں چھوڑا جانا چاہیے کہ وہ ملک کی باقاعدہ مسلح افواج پر بھی فوقیت حاصل کر لیں کیونکہ پھر اس کا نتیجہ انتشار کی صورت میں نکلے گا۔


سعد حریری نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ جیسے آپ جانتے ہیں کہ میں نے استعفیٰ دیدیا ہے تاہم اب اپنے اگلے اقدام کے بارے میں لبنانی صدر سے مشورہ کروں گا اور میں یوم آزادی کی تقریب کو کبھی فراموش نہیں کرتاجس کی صدارت صدر مملکت' وزیراعظم اور اسپیکر پارلیمنٹ تینوں مشترکہ طور پر کرتے ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ لبنانی صدر نے وزیراعظم سعد حریری کا استعفیٰ ابھی منظور نہیں کیا اور ان کی طرف سے حریری پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ استعفیٰ واپس لے لیں کیونکہ لبنانی صدر نے الزام لگایا تھا کہ سعودی عرب میں حریری کو ان کی مرضی کے خلاف رکھا جا رہا ہے لیکن سعد حریری نے اس بات کی تردید کی کہ انھیں سعودی عرب میں ان کی مرضی کے خلاف جبراً رکھا گیا تھا البتہ ملکی ترقی پر اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے ایران اور حزب اللہ تنظیم پر الزام لگایا کہ عرب مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ لبنان کے بحران کے حوالے سے عرب لیگ بھی مصری دارالحکومت قاہرہ میں ایک اہم اجلاس منعقد کر رہی ہے۔

 
Load Next Story