وسیم اکرم کو دریافت کرنے والے حسیب احسن چل بسے
اچھے سپورٹر سے محروم ہوگیا(وسیم) جدائی بڑے صدمے سے کم نہیں، حنیف
سابق کرکٹر حسیب احسن (درمیان) کی ڈاکٹر محمد علی شاہ اور حنیف محمد کے ہمراہ یاد گار تصویر۔ فوٹو: فائل
وسیم اکرم کودریافت کرنے والے سابق چیف سلیکٹر حسیب احسن چل بسے۔
انھیں گذشتہ روز کراچی کے سوسائٹی قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا، گردوں کے مرض میں مبتلا73 سالہ سابق ٹیسٹ کرکٹر طویل علالت کے بعد جمعے کو انتقال کرگئے تھے،مرحوم سابق ٹیسٹ کپتان حنیف خان کے قریبی ساتھی اور ان کے ہمراہ ہی رہائش پزیر تھے،نماز جنازہ الہلال سوسائٹی کی نعمانی مسجد میں بعد نماز جمعہ ادا کی گئی جس میں چیف سلیکٹر اقبال قاسم، سابق ٹیسٹ کپتان وسیم باری، معین خان، حنیف محمد، صادق محمد، شعیب محمد اور وقار حسن سمیت دیگر سابق کرکٹرز اور کھیل سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔
رائٹ آرم آف اسپنرحسیب احسن نے 1958سے 1962کے دوران پاکستان کی جانب سے 12 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 49.25 کی اوسط سے 27 وکٹیں اپنے نام کیں،انھوں نے 1961 میںدورئہ بھارت کے دوران اپنے ٹیسٹ کیریئر کی بہترین بولنگ کر تے ہوئے مدراس ٹیسٹ میں 6 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا تھا، حسیب احسن نے بیٹنگ میں مجموعی طور پر61 رنز اسکور کیے، انھوں نے اپنا آخری ٹیسٹ انگلینڈ کے خلاف کراچی میں کھیلا، سابق اسپنر نے49 فرسٹ کلاس میچز میں 142 وکٹیں حاصل کیں۔
گذشتہ دو برسوں سے ڈیلائسس کے اعصاب شکن مراحل کا جواں مردی سے مقابلہ کرنے والے حسیب احسن نے1987 میں ہونے والے ورلڈکپ کی آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں بخوبی احسن انجام دیں جسے بے انتہا پذیرائی بھی ملی، اسی برس انھوں نے قومی کرکٹ ٹیم کے دورئہ انگلینڈ میں منیجر کے فرائض بھی انجام دیے، سچ اور صاف بات کرنے کے حوالے سے مشہور حسیب احسن کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف سلیکٹر کی حیثیت سے کئی محاذوں پر لڑنا پڑا۔
ان کے انتقال پر سابق ٹیسٹ کپتان وسیم اکرم نے کہا کہ یہ میرے لیے ذاتی نقصان اور صدمے کا باعث ہے، میں اپنے ایک اچھے سپورٹر سے محروم ہو گیا،1984 میں اپنے انتخاب کا کریڈٹ حسیب احسن کو دیتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ ان کی رحلت پاکستان کرکٹ کا نقصان ہے، وہ ایک طاقتور سلیکٹر تصور کیے جاتے تھے،ان ہی کی بدولت مجھے پاکستان کر کٹ ٹیم کے دورئہ نیوزی لینڈ کے لیے چنا گیا اور میں بھی ان کے اعتماد پر پورا اترا۔ لٹل ماسٹر کے نام سے معروف حنیف محمد نے کہا کہ حسیب احسن سے میرا گہرا تعلق تھا اور ان کی جدائی کسی بڑے صدمے سے کم نہیں، وہ ایک اچھے کرکٹر ہونے کے ساتھ بہترین دوست اور باصلاحیت منتظم بھی تھے۔
انھیں گذشتہ روز کراچی کے سوسائٹی قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا، گردوں کے مرض میں مبتلا73 سالہ سابق ٹیسٹ کرکٹر طویل علالت کے بعد جمعے کو انتقال کرگئے تھے،مرحوم سابق ٹیسٹ کپتان حنیف خان کے قریبی ساتھی اور ان کے ہمراہ ہی رہائش پزیر تھے،نماز جنازہ الہلال سوسائٹی کی نعمانی مسجد میں بعد نماز جمعہ ادا کی گئی جس میں چیف سلیکٹر اقبال قاسم، سابق ٹیسٹ کپتان وسیم باری، معین خان، حنیف محمد، صادق محمد، شعیب محمد اور وقار حسن سمیت دیگر سابق کرکٹرز اور کھیل سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔
رائٹ آرم آف اسپنرحسیب احسن نے 1958سے 1962کے دوران پاکستان کی جانب سے 12 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 49.25 کی اوسط سے 27 وکٹیں اپنے نام کیں،انھوں نے 1961 میںدورئہ بھارت کے دوران اپنے ٹیسٹ کیریئر کی بہترین بولنگ کر تے ہوئے مدراس ٹیسٹ میں 6 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا تھا، حسیب احسن نے بیٹنگ میں مجموعی طور پر61 رنز اسکور کیے، انھوں نے اپنا آخری ٹیسٹ انگلینڈ کے خلاف کراچی میں کھیلا، سابق اسپنر نے49 فرسٹ کلاس میچز میں 142 وکٹیں حاصل کیں۔
گذشتہ دو برسوں سے ڈیلائسس کے اعصاب شکن مراحل کا جواں مردی سے مقابلہ کرنے والے حسیب احسن نے1987 میں ہونے والے ورلڈکپ کی آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں بخوبی احسن انجام دیں جسے بے انتہا پذیرائی بھی ملی، اسی برس انھوں نے قومی کرکٹ ٹیم کے دورئہ انگلینڈ میں منیجر کے فرائض بھی انجام دیے، سچ اور صاف بات کرنے کے حوالے سے مشہور حسیب احسن کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف سلیکٹر کی حیثیت سے کئی محاذوں پر لڑنا پڑا۔
ان کے انتقال پر سابق ٹیسٹ کپتان وسیم اکرم نے کہا کہ یہ میرے لیے ذاتی نقصان اور صدمے کا باعث ہے، میں اپنے ایک اچھے سپورٹر سے محروم ہو گیا،1984 میں اپنے انتخاب کا کریڈٹ حسیب احسن کو دیتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ ان کی رحلت پاکستان کرکٹ کا نقصان ہے، وہ ایک طاقتور سلیکٹر تصور کیے جاتے تھے،ان ہی کی بدولت مجھے پاکستان کر کٹ ٹیم کے دورئہ نیوزی لینڈ کے لیے چنا گیا اور میں بھی ان کے اعتماد پر پورا اترا۔ لٹل ماسٹر کے نام سے معروف حنیف محمد نے کہا کہ حسیب احسن سے میرا گہرا تعلق تھا اور ان کی جدائی کسی بڑے صدمے سے کم نہیں، وہ ایک اچھے کرکٹر ہونے کے ساتھ بہترین دوست اور باصلاحیت منتظم بھی تھے۔