کارکردگی رپورٹ پیش نہ کرنے پر اسپیکرزاور وفاق کونوٹس جاری
لاہور ہائی کورٹ نے معاونت کیلیے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو طلب کرلیا.
لاہور ہائی کورٹ نے معاونت کیلیے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو طلب کرلیا. فوٹو: فائل
لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس ناصر سعید شیخ نے صدراور گورنرزکی جانب سے اسمبلی میں سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش نہ کرنے کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت قراردیتے ہوئے اسپیکرقومی اور صوبائی اسمبلی سمیت وفاقی حکومت کونوٹس جاری کردیے ہیں۔
جبکہ اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کوآئندہ سماعت پر معاونت کیلیے طلب کرلیا۔ درخواستگزار کے وکیل اظہر صدیق نے عدالت کو بتایاکہ آئین اورقانون کے تحت صدر اورگورنر اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اسمبلی کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی میں پیش کریں تاہم گزشتہ 5سال سے صدر اور گورنر کی جانب سے یہ رپورٹ پیش نہیں کی گئی، درخواست گزار کے وکیل نے بتایاکہ آئین کے آرٹیکل29 کے تحت صدر قومی اسمبلی میں پرنسپل آف پالیسی کی سالانہ رپورٹ پیش کرنے کے پابند ہیں۔
صدر اپنی آیئنی ذمے داریاںپوری کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں اور گزشتہ4 سال میں پرنسپل آف پالیسی کی رپورٹیں پیش نہیں کی گئیں۔عدالت نے قرار دیا کہ عدالت صدر مملکت سے ان کی کارکردگی اور فرائض کے حوالے سے کس طرح پوچھ سکتی ہے۔ یہ بہت حساس معاملہ ہے عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ صدر کو نوٹس جاری کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔ عدالت نے صدرکونوٹس جاری کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے معاونت کیلیے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو طلب کرلیا۔
جبکہ اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کوآئندہ سماعت پر معاونت کیلیے طلب کرلیا۔ درخواستگزار کے وکیل اظہر صدیق نے عدالت کو بتایاکہ آئین اورقانون کے تحت صدر اورگورنر اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اسمبلی کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی میں پیش کریں تاہم گزشتہ 5سال سے صدر اور گورنر کی جانب سے یہ رپورٹ پیش نہیں کی گئی، درخواست گزار کے وکیل نے بتایاکہ آئین کے آرٹیکل29 کے تحت صدر قومی اسمبلی میں پرنسپل آف پالیسی کی سالانہ رپورٹ پیش کرنے کے پابند ہیں۔
صدر اپنی آیئنی ذمے داریاںپوری کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں اور گزشتہ4 سال میں پرنسپل آف پالیسی کی رپورٹیں پیش نہیں کی گئیں۔عدالت نے قرار دیا کہ عدالت صدر مملکت سے ان کی کارکردگی اور فرائض کے حوالے سے کس طرح پوچھ سکتی ہے۔ یہ بہت حساس معاملہ ہے عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ صدر کو نوٹس جاری کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔ عدالت نے صدرکونوٹس جاری کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے معاونت کیلیے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو طلب کرلیا۔