سینیٹاپوزیشن کی غیرموجودگی میں ذوالفقاربھٹویونیورسٹی بل منظور
26ارکان موجودتھے،نذر گوندل،5 سال میں 90 ارب کی بجلی چوری یاضائع ہوئی،وقفہ سوالات.
26ارکان موجودتھے،نذر گوندل،5 سال میں 90 ارب کی بجلی چوری یاضائع ہوئی،وقفہ سوالات. فوٹو: فائل
سینیٹ نے اپوزیشن کی غیرموجودگی اور اتحادی جماعتوں کی مخالفت کے باوجود شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی (پمز) کے قیام کا بل منظور کر لیا۔
جمعے کو ایوان بالا کا اجلاس چیئرمین سید نیئر حسین بخاری کی صدارت میں ہوا۔ نمازجمعہ کے وقفے سے قبل وفاقی وزیر نذرمحمد گوندل نے بل ایوان میں پیش کیا تو مسلم لیگ (ن) کے راجہ ظفرالحق نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے بھی کئی یونیورسٹیوں کے بل ایوان میں پیش کیے گئے ہیں ، یونیورسٹیاں بنانا اچھا کام ہے لیکن عجلت میں ایسے کام نہ کیے جائیں۔
ایم کیوایم کے رکن طاہر مشہدی نے کہا کہ قائد اعظم کے نام پر بننے والی یونیورسٹی کی فیکلٹی کو پمز میں منتقل نہ کیا جائے ،بعدازاں اپوزیشن ارکان ایوان سے واک آئوٹ کر گئے۔ وفاقی وزیر نذر محمد گوندل نے کہا کہ ایوان میں 26 ارکان موجود تھے اور کورم پورا تھا۔ دریں اثناء ایوان نے ذاتی اخراجات اور مراعات کے خاتمے کے ترمیمی بل 2013 پر سفارشات کی منظوری دیدی ۔
ایوان میں وفاقی محتسب اداراتی اصلاحات بل پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ قبل ازیں وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت پانی وبجلی تسنیم قریشی نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ 5 سال میں 90 ارب روپے مالیت کی بجلی چوری یا ضائع ہوئی۔مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے بتایا کہ سی این جی سٹیشنز کو لائسنس جاری کرنا غلط فیصلہ تھا، اسے مرحلہ وار ختم کرینگے ۔
جمعے کو ایوان بالا کا اجلاس چیئرمین سید نیئر حسین بخاری کی صدارت میں ہوا۔ نمازجمعہ کے وقفے سے قبل وفاقی وزیر نذرمحمد گوندل نے بل ایوان میں پیش کیا تو مسلم لیگ (ن) کے راجہ ظفرالحق نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے بھی کئی یونیورسٹیوں کے بل ایوان میں پیش کیے گئے ہیں ، یونیورسٹیاں بنانا اچھا کام ہے لیکن عجلت میں ایسے کام نہ کیے جائیں۔
ایم کیوایم کے رکن طاہر مشہدی نے کہا کہ قائد اعظم کے نام پر بننے والی یونیورسٹی کی فیکلٹی کو پمز میں منتقل نہ کیا جائے ،بعدازاں اپوزیشن ارکان ایوان سے واک آئوٹ کر گئے۔ وفاقی وزیر نذر محمد گوندل نے کہا کہ ایوان میں 26 ارکان موجود تھے اور کورم پورا تھا۔ دریں اثناء ایوان نے ذاتی اخراجات اور مراعات کے خاتمے کے ترمیمی بل 2013 پر سفارشات کی منظوری دیدی ۔
ایوان میں وفاقی محتسب اداراتی اصلاحات بل پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ قبل ازیں وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت پانی وبجلی تسنیم قریشی نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ 5 سال میں 90 ارب روپے مالیت کی بجلی چوری یا ضائع ہوئی۔مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے بتایا کہ سی این جی سٹیشنز کو لائسنس جاری کرنا غلط فیصلہ تھا، اسے مرحلہ وار ختم کرینگے ۔