اسٹیٹ بینک کا چیلنجز سے نمٹنے کیلیے روایتی بینکاری بدلنے پر زور
بینکاری کے شعبے کو درپیش خطرات کے ازالے کے لیے اسٹیٹ بینک نے کئی اقدامات کیے ہیں، ڈپٹی گورنر
کلاؤڈ کمپیوٹنگ، بلاک چین ٹیکنالوجی،مصنوعی ذہانت جیسی اختراعات سے بڑی تبدیلیاں آئیں گی،ڈپٹی گورنر فوٹو: فائل
PESHAWAR:
بینک دولت پاکستان کے ڈپٹی گورنر جمیل احمد نے مالیات اور ٹیکنالوجی کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے کے چیلنجوں سے موثر طور پر نمٹنے کے لیے بینکنگ بزنس کے موجودہ ماڈلز پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
وہ سری لنکا کی ایسوسی ایشن آف پروفیشنل بینکرز کے سنامن گرینڈ، کولمبو میں 21 نومبر کو منعقدہ 29 ویں سالانہ کنونشن میں ''تبدیل ہوتی ہوئی حرکیات: مستقبل کا بینک'' کے موضوع پر معروف اسکالرز، بینکاری صنعت کی اہم شخصیات اور صف اول کے پروفیشنلز سے کلیدی خطاب کر رہے تھے۔ اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر نے اپنی تقریر میں بینکاری کے موجودہ طرز پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ضابطہ ساز اداروں کی نگرانی میں آنے والی تبدیلیاں اور 2007-08 کے عالمگیر مالیاتی بحران کے بعد کیے گئے ضوابط و اقدامات کے ساتھ ٹیکنالوجی میں تیزی سے ہونے والی ترقی وہ عوامل ہیں جو بینکاری کے مستقبل کی نئی صورت گری کر رہے ہیں۔
اگرچہ عالمی مالی بحران کے بعد کی گئی اصلاحات جن کا محور مالی استحکام حاصل کرنا تھا اس سے مالی نظام کی مجموعی قوت برداشت بہتر ہوئی ہے تاہم بہت سے پہلوؤں سے ان اصلاحات نے ضوابطی فریم ورک کی پیچیدگی بھی بڑھا دی ہے، اس کے نتیجے میں سرحد پار سے قرض لینے میں کمی آئی ہے، کثیر قومی بینکوں کے آف شور آپریشنز جزوی طور پر کم ہوئے ہیں اور بعد از بحران بینکوں کی نفع یابی میں کمی آئی ہے۔ جمیل احمد نے کہا کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے مقبول ہونے اور سستے موبائل فون و دیگر اسمارٹ آلات دستیاب ہونے کے تناظر میں بینک صارفین اب اضافی اور انفرادی ضروریات کے مطابق سہولتیں طلب کر رہے ہیں، اگر بینک ان کی طلب پوری کرنے میں ناکام رہے تو بینکوں کو غیر بینک اور فن ٹیک اداروں کی طرف سے زبردست مسابقت کا سامنا ہو سکتا ہے جو مالی وساطت کے شعبے میں تیزی سے اپنا اثرورسوخ بڑھا رہے ہیں۔
ڈپٹی گورنر نے بینکاری کے شعبے کی حالت بدلنے کے لیے اسٹیٹ بینک کے کردار اور منصوبوں پر مختصراً بات چیت بھی کی۔ انہوں نے بتایا کہ بینکاری شعبے کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کے ازالے کے لیے اسٹیٹ بینک نے متعدد اقدامات کیے ہیں جن میں ضوابطی فریم ورک میں مسلسل بہتری لانا، مالی استحکام کے ڈھانچے کی تعمیر اور نظمی خطرات کے بارے میں لاحق خدشات دور کرنا شامل ہیں جس کے لیے بڑے ایکسپوزرز، نظمی لحاظ سے اہم ملکی بینکوں (ڈی ایس آئی بیز) اور جامع نگرانی جیسے فریم ورک کی تیاری کے میکرو پروڈنشیل اقدامات کیے گئے۔ جمیل احمد نے خصوصاً ادائیگیاں ڈیجیٹل بنانے کے شعبے میں اسٹیٹ بینک کے بطور سہولت کار اور جدت طراز محرک کردار سے حاضرین کو آگاہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے ملک میں ادائیگی کے نظاموں کے انفرا اسٹرکچر کی تشکیل اور اسے مضبوط بنانے کے حوالے سے متعدد رہنما خطوط اور ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے صارفین خاص طور پر بینکاری سہولتوں سے محروم آبادی کی براڈننگ۔آن ڈیجیٹل ممکن بنانے کے لیے نادرا کا قومی شناختی نظام استعمال کرنے کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کے فعال طرز فکر سے اور منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق خطرات پر قابو پانے سے بھی آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ کلاوڈ کمپیوٹنگ، بلاک چین ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور بگ ڈیٹا اینالیٹکس جیسی اختراعات کی مدد سے صارفین سے روابط کا انتظام کرنے کے ذہین نظاموں سے لے کر خطرے کے سرگرم انتظام، دھوکا دہی کی شناخت و روک تھام جیسے متنوع شعبے آگے چل کر مالی صنعت میں بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ انہوں نے مالی صنعت کو سائبر سیکیورٹی سے متعلق سنگین خطرات سے محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے سائبر حملوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے سرگرم اور اشتراک پر مبنی طرز فکر اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بینک دولت پاکستان کے ڈپٹی گورنر جمیل احمد نے مالیات اور ٹیکنالوجی کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے کے چیلنجوں سے موثر طور پر نمٹنے کے لیے بینکنگ بزنس کے موجودہ ماڈلز پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
وہ سری لنکا کی ایسوسی ایشن آف پروفیشنل بینکرز کے سنامن گرینڈ، کولمبو میں 21 نومبر کو منعقدہ 29 ویں سالانہ کنونشن میں ''تبدیل ہوتی ہوئی حرکیات: مستقبل کا بینک'' کے موضوع پر معروف اسکالرز، بینکاری صنعت کی اہم شخصیات اور صف اول کے پروفیشنلز سے کلیدی خطاب کر رہے تھے۔ اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر نے اپنی تقریر میں بینکاری کے موجودہ طرز پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ضابطہ ساز اداروں کی نگرانی میں آنے والی تبدیلیاں اور 2007-08 کے عالمگیر مالیاتی بحران کے بعد کیے گئے ضوابط و اقدامات کے ساتھ ٹیکنالوجی میں تیزی سے ہونے والی ترقی وہ عوامل ہیں جو بینکاری کے مستقبل کی نئی صورت گری کر رہے ہیں۔
اگرچہ عالمی مالی بحران کے بعد کی گئی اصلاحات جن کا محور مالی استحکام حاصل کرنا تھا اس سے مالی نظام کی مجموعی قوت برداشت بہتر ہوئی ہے تاہم بہت سے پہلوؤں سے ان اصلاحات نے ضوابطی فریم ورک کی پیچیدگی بھی بڑھا دی ہے، اس کے نتیجے میں سرحد پار سے قرض لینے میں کمی آئی ہے، کثیر قومی بینکوں کے آف شور آپریشنز جزوی طور پر کم ہوئے ہیں اور بعد از بحران بینکوں کی نفع یابی میں کمی آئی ہے۔ جمیل احمد نے کہا کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے مقبول ہونے اور سستے موبائل فون و دیگر اسمارٹ آلات دستیاب ہونے کے تناظر میں بینک صارفین اب اضافی اور انفرادی ضروریات کے مطابق سہولتیں طلب کر رہے ہیں، اگر بینک ان کی طلب پوری کرنے میں ناکام رہے تو بینکوں کو غیر بینک اور فن ٹیک اداروں کی طرف سے زبردست مسابقت کا سامنا ہو سکتا ہے جو مالی وساطت کے شعبے میں تیزی سے اپنا اثرورسوخ بڑھا رہے ہیں۔
ڈپٹی گورنر نے بینکاری کے شعبے کی حالت بدلنے کے لیے اسٹیٹ بینک کے کردار اور منصوبوں پر مختصراً بات چیت بھی کی۔ انہوں نے بتایا کہ بینکاری شعبے کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کے ازالے کے لیے اسٹیٹ بینک نے متعدد اقدامات کیے ہیں جن میں ضوابطی فریم ورک میں مسلسل بہتری لانا، مالی استحکام کے ڈھانچے کی تعمیر اور نظمی خطرات کے بارے میں لاحق خدشات دور کرنا شامل ہیں جس کے لیے بڑے ایکسپوزرز، نظمی لحاظ سے اہم ملکی بینکوں (ڈی ایس آئی بیز) اور جامع نگرانی جیسے فریم ورک کی تیاری کے میکرو پروڈنشیل اقدامات کیے گئے۔ جمیل احمد نے خصوصاً ادائیگیاں ڈیجیٹل بنانے کے شعبے میں اسٹیٹ بینک کے بطور سہولت کار اور جدت طراز محرک کردار سے حاضرین کو آگاہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے ملک میں ادائیگی کے نظاموں کے انفرا اسٹرکچر کی تشکیل اور اسے مضبوط بنانے کے حوالے سے متعدد رہنما خطوط اور ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے صارفین خاص طور پر بینکاری سہولتوں سے محروم آبادی کی براڈننگ۔آن ڈیجیٹل ممکن بنانے کے لیے نادرا کا قومی شناختی نظام استعمال کرنے کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کے فعال طرز فکر سے اور منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق خطرات پر قابو پانے سے بھی آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ کلاوڈ کمپیوٹنگ، بلاک چین ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور بگ ڈیٹا اینالیٹکس جیسی اختراعات کی مدد سے صارفین سے روابط کا انتظام کرنے کے ذہین نظاموں سے لے کر خطرے کے سرگرم انتظام، دھوکا دہی کی شناخت و روک تھام جیسے متنوع شعبے آگے چل کر مالی صنعت میں بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ انہوں نے مالی صنعت کو سائبر سیکیورٹی سے متعلق سنگین خطرات سے محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے سائبر حملوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے سرگرم اور اشتراک پر مبنی طرز فکر اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔