کراچی میں شوہر نے بیوی اور بیٹی کو قتل کر کے خودکشی کرلی
جاں بحق 18سالہ عائشہ اور فائرنگ سے زخمی ہونے والی 8سالہ ردا ملزم کی سوتیلی بیٹیاں ہیں
ثریا نے احمد علی سے دوسری شادی کی تھی،پہلی بیوی نے اسے گھرسے نکال دیا تھا، فوٹو: فائل
KARACHI:
کورنگی میں شوہر نے مکان فروخت نہ کرنے پر بیوی اور بیٹی کو قتل کرکے خودکشی کرلی، فائرنگ سے چھوٹی بیٹی زخمی ہوگئی، مقتولہ نے5 ماہ قبل احمد علی سے خلع کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کورنگی الیاس گوٹھ سے متصل احسن علی جت گوٹھ کے مکان سے 2خواتین اور ایک مرد کی لاش ملی جبکہ ایک بچی زخمی حالت میں تھی، علاقہ مکینوں کی اطلاع پرپولیس نے ایک گھٹنے بعد پہنچ کرلاشوں اورزخمی بچی کوجناح اسپتال منتقل کیا، ہلاک ہونے والوں کی شناخت 45 سالہ احمد علی ، اس کی اہلیہ 45 سالہ ثریا بیگم اور بیٹی 19 سالہ عائشہ کے نام سے کر لی گئی جبکہ زخمی ہونے والی بچی کی شناخت8 سالہ ردا کے نام سے کی گئی، ثریا کے پڑوسی عبد الرشید نے بتایا کہ ثریا احمد علی کی پہلی بیوی تھی جبکہ اس کی دوسری بیوی صفورا گوٹھ میں رہتی ہے جس نے اسے گھرسے نکال دیا تھا،ثریا کی احمدعلی سے دوسری شادی تھی ،پہلے شوہر سے دو لڑکیاں عائشہ اوردوسری ردا ہیں،ثریا نے گھر میں چھوٹی سے دکان کھولی ہوئی تھی جس سے وہ اپنا اور اپنی بچیوں کا گزر بسر کرتی تھی۔
پڑوسی نے بتایا کہ 2012 میں ثریا نے کچھ رقم جمع کر کے سیلانی ویلفیئرسے اپنے شوہر احمد علی کو رکشا دلایا تھا جس کی قسطیں وہ خود ادا کرتی تھی،6 ماہ قبل شوہر نے رکشا فروخت کردیا تھا اور کسی بنگلے میں ڈرائیوری کرنے لگا جس کی وجہ سے ثریا کا اس سے اکثر جھگڑا رہتا تھا، احمد علی یہ چاہتا تھا کہ ثریا جس گھر میں رہتی ہے وہ اسے فروخت کرکے رقم اسے کاروبار کے لیے دے جبکہ ثریا نے اپنا مکان فروخت کرنے سے انکار کردیا تھا، علاقہ مکینوں کے مطابق ملزم نے گھر کے احاطے میں گھس کر پہلے گھر کے پینے کے پانی میں زہر ملا دیا تھا کیوں کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والی ردا کو جب پانی پلایا گیا تو اس کی حالت مزید بگڑ گئی۔
جناح اسپتال کے ڈاکٹروں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ بچی کو زہریلی چیز پلائی گئی ہے، مقتولہ ثریا کے بھائی نے بتایا کہ علاقہ مکینوں نے صبح ساڑھے 5بجے فون کر کے اسے اطلاع دی کہ احمد علی دیوار پھلانگ کر ثریا کے گھر میں داخل ہواہے گھرکے اندرسے چیخ وپکارکی آوازیں آرہی ہیں،یہ سن کروہ جلدی سے اپنے گھر ملیر سے ثریا کے گھر کے لیے روانہ ہوگیا اور جب گھر پہنچا تو احمد علی ، ثریا اور عائشہ کی لاشیں پڑی تھیں، علاقہ مکینوں نے بتایا کہ جب احمد گھر میں داخل ہوا تو ثریا نے کمرے کا دورازہ اندر سے بند کرلیا تھا جس پر اس نے فائرنگ کردی جس کے بعد دروازہ کھل گیا اور احمد علی نے ثریا سے جھگڑا شروع کردیا۔
چیخ وپکارسن کرعلاقہ مکین جمع ہوگئے اور انھوں نے گھر کا دروازہ توڑ ڈالا تاہم وہ جیسے ہی اندر داخل ہوئے تو احمد علی نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ثریا اور عائشہ موقع پر ہلاک جبکہ راد زخمی ہوگئی، ملزم نے بعد میں اپنے سر میں بھی گولی مار کر خودکشی کرلی، مقتولہ نے روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آکر ملزم سے خلع کے لیے 5 ماہ قبل عدالت میں درخواست دائر کردی تھی جبکہ اس کی دوسری بیوی نے اسے گھرسے ہی نکال دیا تھا۔
کورنگی میں شوہر نے مکان فروخت نہ کرنے پر بیوی اور بیٹی کو قتل کرکے خودکشی کرلی، فائرنگ سے چھوٹی بیٹی زخمی ہوگئی، مقتولہ نے5 ماہ قبل احمد علی سے خلع کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کورنگی الیاس گوٹھ سے متصل احسن علی جت گوٹھ کے مکان سے 2خواتین اور ایک مرد کی لاش ملی جبکہ ایک بچی زخمی حالت میں تھی، علاقہ مکینوں کی اطلاع پرپولیس نے ایک گھٹنے بعد پہنچ کرلاشوں اورزخمی بچی کوجناح اسپتال منتقل کیا، ہلاک ہونے والوں کی شناخت 45 سالہ احمد علی ، اس کی اہلیہ 45 سالہ ثریا بیگم اور بیٹی 19 سالہ عائشہ کے نام سے کر لی گئی جبکہ زخمی ہونے والی بچی کی شناخت8 سالہ ردا کے نام سے کی گئی، ثریا کے پڑوسی عبد الرشید نے بتایا کہ ثریا احمد علی کی پہلی بیوی تھی جبکہ اس کی دوسری بیوی صفورا گوٹھ میں رہتی ہے جس نے اسے گھرسے نکال دیا تھا،ثریا کی احمدعلی سے دوسری شادی تھی ،پہلے شوہر سے دو لڑکیاں عائشہ اوردوسری ردا ہیں،ثریا نے گھر میں چھوٹی سے دکان کھولی ہوئی تھی جس سے وہ اپنا اور اپنی بچیوں کا گزر بسر کرتی تھی۔
پڑوسی نے بتایا کہ 2012 میں ثریا نے کچھ رقم جمع کر کے سیلانی ویلفیئرسے اپنے شوہر احمد علی کو رکشا دلایا تھا جس کی قسطیں وہ خود ادا کرتی تھی،6 ماہ قبل شوہر نے رکشا فروخت کردیا تھا اور کسی بنگلے میں ڈرائیوری کرنے لگا جس کی وجہ سے ثریا کا اس سے اکثر جھگڑا رہتا تھا، احمد علی یہ چاہتا تھا کہ ثریا جس گھر میں رہتی ہے وہ اسے فروخت کرکے رقم اسے کاروبار کے لیے دے جبکہ ثریا نے اپنا مکان فروخت کرنے سے انکار کردیا تھا، علاقہ مکینوں کے مطابق ملزم نے گھر کے احاطے میں گھس کر پہلے گھر کے پینے کے پانی میں زہر ملا دیا تھا کیوں کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والی ردا کو جب پانی پلایا گیا تو اس کی حالت مزید بگڑ گئی۔
جناح اسپتال کے ڈاکٹروں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ بچی کو زہریلی چیز پلائی گئی ہے، مقتولہ ثریا کے بھائی نے بتایا کہ علاقہ مکینوں نے صبح ساڑھے 5بجے فون کر کے اسے اطلاع دی کہ احمد علی دیوار پھلانگ کر ثریا کے گھر میں داخل ہواہے گھرکے اندرسے چیخ وپکارکی آوازیں آرہی ہیں،یہ سن کروہ جلدی سے اپنے گھر ملیر سے ثریا کے گھر کے لیے روانہ ہوگیا اور جب گھر پہنچا تو احمد علی ، ثریا اور عائشہ کی لاشیں پڑی تھیں، علاقہ مکینوں نے بتایا کہ جب احمد گھر میں داخل ہوا تو ثریا نے کمرے کا دورازہ اندر سے بند کرلیا تھا جس پر اس نے فائرنگ کردی جس کے بعد دروازہ کھل گیا اور احمد علی نے ثریا سے جھگڑا شروع کردیا۔
چیخ وپکارسن کرعلاقہ مکین جمع ہوگئے اور انھوں نے گھر کا دروازہ توڑ ڈالا تاہم وہ جیسے ہی اندر داخل ہوئے تو احمد علی نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ثریا اور عائشہ موقع پر ہلاک جبکہ راد زخمی ہوگئی، ملزم نے بعد میں اپنے سر میں بھی گولی مار کر خودکشی کرلی، مقتولہ نے روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آکر ملزم سے خلع کے لیے 5 ماہ قبل عدالت میں درخواست دائر کردی تھی جبکہ اس کی دوسری بیوی نے اسے گھرسے ہی نکال دیا تھا۔