ججز کو اسکواڈ فراہم نہ کرنے پر ایس ایچ او شرافی گوٹھ زیر حراست

اسسٹنٹ سب انسپکٹر حسین غوری کو بھی سزا، 8 گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد تحریری معافی پر رہا کیا گیا۔

عدالتی حکم عدولی پر ایس ایچ او تھانہ سکھن کو شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا، پیر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم۔ فوٹو: فائل

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر منور سلطانہ نے عدالتی حکم عدولی پر ایس ایچ او شرافی گوٹھ اخلاق احمد اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد حسین غوری کو حراست میں لینے کا حکم دیا۔

8 گھنٹے تک حراست میں رکھنے کے بعد تحریری اور وکیل سرکار کی استدعا پر معاف کردیا ہے، آئندہ عدالتی حکم پر سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے، عدالتی حکم پر ایس ایچ او شرافی گوٹھ اخلاق احمد اور اسسٹنٹ سب انسپکٹرمحمد حسین غوری ہفتے کو فاضل عدالت کے روبرو پیش ہوئے تھے۔


واضح رہے کہ فاضل عدالت نے شرافی گوٹھ کے علاقے میں قائم سرکاری اسکولوں کے دورے کیلیے مذکورہ ایس ایچ او سے اسکواڈ طلب کیا تھا تاہم پولیس افسر نے ٹال مٹول سے کام لیا اور فاضل ججز کو اسکواڈ فراہم نہیں کیا تھا۔



دوسری جانب ہفتے کو دوبارہ سکھن کے علاقے میں قائم سرکاری اسکولوں کے دورے کے لیے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج منورسلطانہ نے تھانہ سکھن کے ایس ایچ او سے اسکواڈ طلب کیا تھا لیکن انھوں نے بھی اسکواڈ فراہم کرنے سے انکار کردیا تھاجس پر فاضل عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور ایس ایچ او تھانہ سکھن کو عدالتی حکم عدولی پر شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے پیر کو عدالت میں ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا،بعدازاں تھانہ ملیر سٹی کے ایس ایچ او کو اسکواڈ فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔
Load Next Story