سابق یوسی ناظم ہتک عزت کا دعویٰ کرسکتے ہیںہائیکورٹ

جرائم میں ملوث نہیں رہا،بھتہ خوروں کی فہرست میں نام شامل کردیا گیا،سابق یوسی ناظم فضل الرحمن۔

فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے بھتہ خوروں کی فہرست میں جماعت اسلامی کے سابق یوسی ناظم کا نام شامل کرنے کے خلاف درخواست نمٹاتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ درخواست گزار چاہے تو پولیس کے خلاف ہرجانہ اور ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرسکتا ہے۔

جماعت اسلامی کے اخوت گروپ سے تعلق رکھنے والے لیاری ٹاون کے سابق یوسی ناظم فضل الرحمن نے سید عبدالوحید ایڈوکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں محکمہ داخلہ ،آئی جی سندھ،ڈی آئی جی سائوتھ،ایس ایس پی سائوتھ، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او بغدادی کو فریق بنا تے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ نے کراچی میں بدامنی ، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کا ازخود نوٹس لیا۔




سماعت کے دوران محکمہ پولیس کی جانب سے بھتہ خوری میں ملوث ملزمان کی فہرست پیش کی گئی جس میں ایس ایچ او بغدادی اور اسپیشل برانچ کی جانب سے درخواست گزار کا نام بھی فہرست میں شامل کردیا گیا جو کہ سراسر بے بنیاد اور بہتان ہے، درخواست گزار نے جماعت اسلامی کے نمائندہ اور یوسی ناظم کی حیثیتسے علاقہ مکینوں کی کئی سال تک خدمت کی ہے جس کی وجہ سے اہل علاقہ درخواست گزارکی عزت کرتے ہیں، درخواست گزرا کبھی کسی غیر قانونی سرگرمی اور جرائم میں ملوث نہیں رہا۔

اس ضمن میں اسپیشل برانچ کی جانب سے پیش کی گئی فہرست میں درخواست گزار کا نام شامل کرنا بدنیتی پر مبنی عمل ہے ، اس لیے عدالت عالیہ سے استدعا کی جاتی ہے کہ مدعا علیہان کو درخواست گزار کا نام بھتہ خوروں کی فہرست سے خارج کرنے کا حکم دیا جائے،عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ درخواست گزار غلط نام شامل کرنے پر محکمہ پولیس کے خلاف ہرجانہ اور ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرسکتا ہے۔
Load Next Story