پشاور میں اعلیٰ پولیس افسر کی خود کش حملے میں شہادت

کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور ملا فضل اللہ افغانستان سے دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں

کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور ملا فضل اللہ افغانستان سے دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ فوٹو: فائل

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور شہر کے پولیس ایریا حیات آباد میں ایڈیشنل آئی جی ہیڈ کوارٹر محمد اشرف نور اپنے محافظ سمیت خود کش حملے میں شہید ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایڈیشنل آئی جی اشرف نور جمعے کو صبح اپنے گھر سے دفتر جا رہے تھے کہ راستے میں زرغونی مسجد کے سامنے موٹر سائیکل سوار خود کش حملہ آور نے ان کی گاڑی کے قریب آ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا' اس حملے میں6پولیس اہلکار بھی زخمی ہو گئے۔ معلوم ہوا ہے کہ اشرف نور روزانہ روٹ تبدیل کر کے آفس جاتے تھے آج وہ جس راستے سے آفس جا رہے تھے وہاں خود کش بمبار پہلے سے موجود تھا' اس سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ دہشت گرد ایک عرصہ سے اشرف نور کی ریکی کر رہے تھے اور انھوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت حملہ کیا۔


پورا ملک بالخصوص صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان دہشت گردوں کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ دہشت گردوں کی جانب سے پولیس افسران اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا مقصد خوف و ہراس پیدا کرنا اور دہشت گردی کے خلاف اداروں کی مہم کو ناکام بنانا ہے مگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکار اس عزم کا تہیہ کیے ہوئے ہیں کہ تمام تر مشکلات کے باوجود وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے خواہ اس کے لیے انھیں کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینا پڑیں۔ ادھر ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ افغانستان میں افیون کی کاشت اور پیداوار افغانستان سمیت پورے خطے کی سماجی، اقتصادی ترقی اور امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے.

داعش، ٹی ٹی پی اور بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' سمیت دہشتگرد تنظیمیں پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہی ہیں، کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور ملا فضل اللہ افغانستان سے دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں اور اس وقت 43 فیصد افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں' افغانستان سے دہشت گردوں کی آمدورفت روکنے کے لیے پاکستان کو ڈیورنڈ لائن پر مزید سخت حفاظتی اقدامات کرنا ہوں گے' پشاور میں اعلیٰ پولیس افسر کی شہادت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پشاور شہر اور اس کے گردونواح میں دہشت گرد اور ان کے سہولت کار موجود ہیں' ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔
Load Next Story