روہنگیا مسلمانوں کی واپسی… میانمار اور بنگلہ دیش میں معاہدہ
امریکا نے بھی روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو نسل کشی قرار دیدیا
امریکا نے بھی روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو نسل کشی قرار دیدیا۔ فوٹو: فائل
MOSCOW:
لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کو واپس ان کے آبائی ملک بھجوانے کے لیے بنگلہ دیش اور میانمار (برما) حکومت کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ معاہدہ میانمار کے دارالحکومت میں طے پایا ہے تاہم معاہدے کی تفصیلات میڈیا کو جاری نہیں کی گئیں۔ البتہ ان کی واپسی دو ماہ تک ہونا متوقع ہے۔ میانمار، جس کا پرانا نام برما تھا، وہاں صدیوں سے مقیم مسلمانوں کو میانمار کی حکومت نے اپنا شہری تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور ان کی شہریت کے حقوق سلب کر لیے گئے جس کے بعد ملک کی سیکیورٹی فورسز ان پر پل پڑیں اور ان پر حملے شروع ہو گئے حتی کہ ان کی بستیوں کی بستیاں جلانی شروع کر دی گئیں۔
اب مظلوم اور کمزور مسلمانوں کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ رہا کہ اپنی جان اور عزت آبرو بچانے کے لیے ملک سے فرار ہو جائیں اور یوں وہ لاکھوں کی تعداد میں پڑوسی ملک بنگلہ دیش ہجرت کر گئے جہاں انھیں پناہ گزین کیمپوں میں رکھ دیا گیا جب کہ سمندری راستے سے فرار ہونے والوں میں زیادہ تر سمندر کی طوفانی لہروں کی نذر ہو گئے۔ تازہ خبروں کے مطابق بنگلہ دیشی حکام نے کہا ہے کہ یہ مہاجرین کی واپسی کا پہلا مرحلہ ہے جب کہ میانمار حکومت کا کہنا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو جلد از جلد واپس لانے کے لیے تیار ہے۔
تاہم عالمی امدادی اداروں نے روہنگیا مسلمانوں کی اس طرح سے واپسی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ شورش زدہ علاقوں میں ان کے ساتھ دوبارہ ظلم نہیں کیا جائے گا؟ میانمار کی امن کا نوبیل انعام جیتنے والی رہنما آنگ سان سوچی اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ اے ایچ محمود علی کے مابین ہونے والی ملاقات کے دوران روہنگیا مہاجرین کی وطن واپسی کے حوالے سے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ ابھی واضح نہیں ہے کہ میانمار کتنے روہنگیا افراد کو قبول کرے گا۔ ادھر امریکا نے بھی روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو نسل کشی قرار دیدیا۔ برما حکومت اور بنگلہ دیش کے درمیان معاہدہ خوش آیند ہے لیکن امریکا اور عالمی برادری کو یہ امر بھی یقینی بنانا چاہیے کہ واپس جانے والے روہنگیا مسلمانوں پر دوبارہ ظلم نہ ہو اور بے گھر ہونے والوں کی آباد کاری مناسب انداز میں ہو۔
لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کو واپس ان کے آبائی ملک بھجوانے کے لیے بنگلہ دیش اور میانمار (برما) حکومت کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ معاہدہ میانمار کے دارالحکومت میں طے پایا ہے تاہم معاہدے کی تفصیلات میڈیا کو جاری نہیں کی گئیں۔ البتہ ان کی واپسی دو ماہ تک ہونا متوقع ہے۔ میانمار، جس کا پرانا نام برما تھا، وہاں صدیوں سے مقیم مسلمانوں کو میانمار کی حکومت نے اپنا شہری تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور ان کی شہریت کے حقوق سلب کر لیے گئے جس کے بعد ملک کی سیکیورٹی فورسز ان پر پل پڑیں اور ان پر حملے شروع ہو گئے حتی کہ ان کی بستیوں کی بستیاں جلانی شروع کر دی گئیں۔
اب مظلوم اور کمزور مسلمانوں کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ رہا کہ اپنی جان اور عزت آبرو بچانے کے لیے ملک سے فرار ہو جائیں اور یوں وہ لاکھوں کی تعداد میں پڑوسی ملک بنگلہ دیش ہجرت کر گئے جہاں انھیں پناہ گزین کیمپوں میں رکھ دیا گیا جب کہ سمندری راستے سے فرار ہونے والوں میں زیادہ تر سمندر کی طوفانی لہروں کی نذر ہو گئے۔ تازہ خبروں کے مطابق بنگلہ دیشی حکام نے کہا ہے کہ یہ مہاجرین کی واپسی کا پہلا مرحلہ ہے جب کہ میانمار حکومت کا کہنا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو جلد از جلد واپس لانے کے لیے تیار ہے۔
تاہم عالمی امدادی اداروں نے روہنگیا مسلمانوں کی اس طرح سے واپسی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ شورش زدہ علاقوں میں ان کے ساتھ دوبارہ ظلم نہیں کیا جائے گا؟ میانمار کی امن کا نوبیل انعام جیتنے والی رہنما آنگ سان سوچی اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ اے ایچ محمود علی کے مابین ہونے والی ملاقات کے دوران روہنگیا مہاجرین کی وطن واپسی کے حوالے سے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ ابھی واضح نہیں ہے کہ میانمار کتنے روہنگیا افراد کو قبول کرے گا۔ ادھر امریکا نے بھی روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو نسل کشی قرار دیدیا۔ برما حکومت اور بنگلہ دیش کے درمیان معاہدہ خوش آیند ہے لیکن امریکا اور عالمی برادری کو یہ امر بھی یقینی بنانا چاہیے کہ واپس جانے والے روہنگیا مسلمانوں پر دوبارہ ظلم نہ ہو اور بے گھر ہونے والوں کی آباد کاری مناسب انداز میں ہو۔