چینی صدر کے مشورے

سوشلسٹ بلاک کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد ماضی کے سوشلسٹ ملکوں نے منڈی کی معیشت کو اپنالیا ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

ویت نام کے شہر ڈانانگ میں منعقدہ ایپک اور آسیان کے رہنماؤں سے بات چیت کے دوران چین کے صدر شی چن پنگ نے کہا کہ ترقیاتی فرق کو ختم کرنے کے لیے پسماندہ ممالک کی مدد کی جائے، ایشیا بحرالکاہل میں کھلی معیشت کی تشکیل اور آزاد تجارتی علاقے کی تعمیرکو مشترکہ طور پر فروغ دیا جائے۔ انھوں نے فرمایا کہ ایپک ایشیا اور بحرالکاہل کے علاقے میں اقتصادی تعاون کا سب سے بڑا اور با اثر پلیٹ فارم ہے جب کہ آسیان ایشیا میں سب سے لچکدار علاقائی یکجہتی کی تنظیم ہے، دونوں نظاموں کے درمیان تعاون کا بڑا رجحان ہے۔ شی چی نے روسی صدر پوتن سے ملاقات کے دوران اس خواہش کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیاں تک لے جانا چاہیے تاکہ ایک دوسرے کی سلامتی اور ترقی کو فروغ دیا جاسکے۔

سوشلسٹ بلاک کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد ماضی کے سوشلسٹ ملکوں نے منڈی کی معیشت کو اپنالیا ہے اور وہ ساری خرابیاں جو سرمایہ دارانہ نظام کا لازمی حصہ ہیں، ماضی کے سوشلسٹ ملکوں کا حصہ بن گئی ہیں جن میں کرپشن سرفہرست ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اختیار کرنے کے بعد چین میں کرپشن اس تیزی سے پھیلی کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کی اعلیٰ قیادت بھی کرپشن میں ملوث ہوگئی۔ کرپشن نے چینی معیشت کی چولیں ہلاکر رکھ دیں اور سارا چین نچلی سطح سے اعلیٰ سطح تک کرپشن کی اس خوفناک وبا میں گھرگیا۔ اس بلائے بے درماں کو روکنے کے لیے چینی حکومت نے کرپشن کے مرتکب چار سو سے زیادہ افراد کو سزائے موت دے دی، جن میں کمیونسٹ پارٹی کے کئی اعلیٰ رہنما بھی شامل تھے۔

اس سخت اقدام کی وجہ سے شاید اعلیٰ سطح کرپٹ افراد میں خوف وہراس پایا جاتا ہو اورکرپٹ افراد محتاط ہوگئے ہوں، لیکن سرمایہ دارانہ نظام بنیادی طور پرکرپشن کا گہوارہ ہے اورکرپشن سمیت ہر برائی اس نظام کے جسم میں خون بن کر دوڑتی ہے۔ کرپٹ افراد برے سے برے اور سخت سے سخت حالات میں کرپشن کے نئے نئے اور محفوظ راستے تلاش کرلیتے ہیں۔ پاناما لیکس اور پیراڈائز لیکس کے حوالے سے جو بدترین انکشافات ہوئے ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس سسٹم میں کرپشن کی کیسی کیسی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں۔ جن میں آف شورکمپنیاں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔

آف شورکمپنیاں دراصل ٹیکس بچانے اور منی لانڈرنگ کا سب سے بڑا ذریعہ بنی ہوئی ہیں، ان اسکینڈلز میں ترقی یافتہ مغربی ملکوں کے رہنما بھی ملوث رہے ہیں اور کئی ایک کو اپنے عہدوں سے مستعفی بھی ہونا پڑا ہے۔ پاکستان میں پاناما لیکس کے حوالے سے حکمران خاندان کرپشن کے بڑے بڑے الزامات کا سامنا کر رہا ہے اور عدالتوں میں یہ کیس زیر سماعت ہے۔ اس حوالے سے شریف فیملی کو جس ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے پاکستان کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔


کرپشن سرمایہ دارانہ نظام کی وہ خطرناک ترغیب ہے جس سے دنیا کی بڑی باعزت شخصیات بھی نہ بچ سکیں۔ سعودی عرب میں بڑے سخت قوانین موجود ہیں لیکن دولت جمع کرنے کی ہوس اس قدر اندھی اور منہ زور ہوتی ہے کہ عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کی تمام تر سہولیات حاصل ہونے کے باوجود دولت کے حصول کی اندھی خواہش بڑے بڑے نیک نام لوگوں کو رسوا کردیتی ہے۔ سعودی حکمران خاندان کے شہزادوں نے اربوں ڈالرکی کرپشن کا ارتکاب کیا اور آج کل یہ محترم لوگ گرفتار ہیں، اور تو اور برطانیہ کی محترم ملکہ کوئن الزبتھ دوم بھی کرپشن کے الزام سے نہ بچ سکیں۔ معلوم ہوا کہ محترمہ نے آف شور کمپنی کے ذریعے ایک کروڑ پونڈ کی کرپشن کا ارتکاب کیا ہے۔ پاناما لیکس کے انکشاف کے بعد پیراڈائز لیکس کرپشن کا دوسرا بڑا انکشاف ہے جس میں پاکستان سمیت دنیا کے کئی ملکوں کی اشرافیہ ملوث پائی جاتی ہے۔

چین کے وزیر اعظم کے فرمودات اور نیک خواہشات کے ذکرکے بعد ہم نے پاناما اور پیراڈائز لیکس کا حوالہ اس لیے دیا کہ دنیا میں کرپشن کے پھیلاؤ، گہرائی اورگیرائی کا اندازہ ہوسکے۔ چینی وزیر اعظم نے ہوسکتا ہے بڑی نیک نیتی سے ''ترقیاتی فرق'' کو ختم کرنے کی بات کی ہو چنانچہ کہا کہ ترقیاتی فرق کو ختم کرنے کے لیے پسماندہ ملکوں کی مدد کی جائے، لیکن چینی رہنما کو شاید اس حقیقت کا علم نہ ہو کہ پسماندہ ممالک میں ترقیاتی فرق اور غربت دورکرنے کے نام پر جو اربوں ڈالر کی مدد اور قرضے ملتے ہیں اس کا بہت بڑا حصہ اشرافیہ اوپر ہی اوپر ہڑپ کر لیتی ہے۔کرپشن کی گہرائی اور وسعت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں سی پیک کے حوالے سے کام کرنے والی چینی کمپنیوں پر بھی کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

چینی صدر نے جس ترقیاتی فرق کا ذکر کیا ہے وہ غالباً ملکوں کے درمیان پایا جانے والا ترقیاتی فرق ہے۔ ہو سکتا ہے بھاری امداد کے ذریعے اس فرق میں کسی حد تک کمی لائی جا سکے لیکن اصل مسئلہ دنیا بھر میں ''طبقاتی فرق'' کا ہے جس میں 90 فیصد عوام دو وقت کی روٹی سے محتاج ہیں۔کیونکہ دو فیصد ایلیٹ ملکوں کی 80 فیصد دولت پر قبضہ جمائے بیٹھی ہے۔ اس فرق کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ چین میں سخت سزاؤں کے ذریعے کرپشن کو روکنے کی کوششیں ہو سکتا ہے مخلصانہ ہوں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب تک سرمایہ دارانہ نظام میں دی جانے والی لامحدود نجی ملکیت کی آزادی موجود ہے کوئی مائی کا لعل کرپشن کو روک نہیں سکتا۔ اس آزادی کو قانونی اور آئینی تحفظ بھی فراہم کردیا گیا ہے جس کے نتیجے میں دنیا میں بل گیٹس، لکشمی متل، ٹاٹا، برلا پیدا ہوتے ہیں اور ہر سال دنیا کے امیر ترین لوگوں کی جو فہرست شایع ہوتی ہے اس میں سرفہرست رہتے ہیں۔

مارکس اور اینجلز نے برسوں کی تحقیق اور مطالعے کے بعد سرمائے کے ارتکاز کو روکنے کے لیے سوشلسٹ معیشت کو متعارف کرایا تھا۔ کیا ہم اس حقیقت کو بھول سکتے ہیں کہ سوشلزم نے کرپشن اور چند ہاتھوں میں ارتکاز دولت کو روک دیا تھا اور روس اس نظام کے تحت ہی 50 سال سے کم عرصے کے اندر سپرپاور بن گیا تھا۔ کسی بھی نظام میں خامیاں ہو سکتی ہیں۔ سوشلسٹ معیشت میں بھی خامیاں ہو سکتی تھیں۔ لیکن کیا ان خامیوں کو دور نہیں کیا جا سکتا تھا؟ چینی رہنما نے کہا ہے کہ ایشیا اور بحرالکاہل میں کھلی معیشت کو فروغ دیا جائے۔

یہی وہ کھلی معیشت ہے جو کرپشن کے دروازے کھول دیتی ہے۔ چین کا اپنا سیاسی نظام ہے جس میں کرپشن کے مرتکب چار سو افراد کو سزائے موت دی گئی اول تو اس قسم کی سزاؤں سے کرپشن کی جڑوں کو نہیں کاٹا جا سکتا۔ دوم مغربی ملکوں کی آزادی اور انسانی حقوق اس قسم کی سزاؤں کی اجازت نہیں دیتے نہ نجی ملکیت کے لامحدود حق کو ختم کر سکتے ہیں۔ کرپشن ختم کرنے کے لیے ارتکاز زر کو روکنا ضروری ہے اور اس کے لیے نجی ملکیت کے لامحدود حق پر پابندی ضروری ہے،کیا چینی رہنما اس حقیقت سے ناواقف ہیں؟
Load Next Story