خلاف قانون تعینات افسران کو فارغ کرنیکی سفارش
سپریم کورٹ کی آبزرویشن پرایڈووکیٹ جنرل سندھ کاچیف سیکریٹری کو مکتوب
سپریم کورٹ کی آبزرویشن پرایڈووکیٹ جنرل سندھ کاچیف سیکریٹری کو مکتوب فوٹو: فائل
سندھ کے پرنسپل لا افسر ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتاح ملک نےسفارش کی ہے کہ صوبے میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر تعینات افسران وملازمین کی تقرری کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور جس کی تقرری بھی خلاف قانون ہواسے فوری فارغ کردیا جائے۔
یہ رائے انھوں نے چیف سیکریٹری سندھ راجہ عباس کو بھجوادی ہے۔ عبدالفتاح ملک نے یہ قانونی رائے 8مارچ کو کراچی بدامنی کیس اور سانحہ عباس ٹاؤن کے حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں5رکنی بینچ کی جانب سے دی گئی آبزرویشن کی روشنی میں پیش کی ہے۔ سپریم کورٹ نے 8مارچ کے فیصلے میں کہا ہے کہ پولیس کو سیاست میں ملوث کرنے اور حکومت میں من پسند بنیاد پر بھرتی کیے گئے افسران بھی بدامنی کی وجوہات میں سے ایک ہیں۔
دوران سماعت سپریم کورٹ کی جانب سے کہاگیا تھاکہ قانون میں کنٹریکٹ پرتعینات کرنے کی گنجائش نہیں تاہم اگر کوئی افسرانتہائی ناگزیر ہے تو اس کی خدمات کنٹریکٹ پر حاصل کی جاسکتی ہیں لیکن اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ اس کی تقرری سے کسی اور افسر کی ترقی متاثر نہ ہو اور یہ مفاد عامہ کے لیے بھی ضروری ہو، سپریم کورٹ نے قراردیاہے کہ جن افسران کو مفاد عامہ کی آڑ میں کنٹریکٹ پر ملازمت دی گئی ہے ۔
ان کی افادیت کے سلسلے میں سمریاں عدالت کے روبرو پیش کی جائیں تاکہ مفاد عامہ کے معیارکی جانچ کی جاسکے۔ واضح رہے کہ صدرمملکت آصف علی زرداری کے دورہ حیدرآباد کے باعث چیف سیکریٹری کراچی میں دستیاب نہیں تھے تاہم ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے اپنی رائے ان کے دفتر کو ارسال کردی ہے۔
یہ رائے انھوں نے چیف سیکریٹری سندھ راجہ عباس کو بھجوادی ہے۔ عبدالفتاح ملک نے یہ قانونی رائے 8مارچ کو کراچی بدامنی کیس اور سانحہ عباس ٹاؤن کے حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں5رکنی بینچ کی جانب سے دی گئی آبزرویشن کی روشنی میں پیش کی ہے۔ سپریم کورٹ نے 8مارچ کے فیصلے میں کہا ہے کہ پولیس کو سیاست میں ملوث کرنے اور حکومت میں من پسند بنیاد پر بھرتی کیے گئے افسران بھی بدامنی کی وجوہات میں سے ایک ہیں۔
دوران سماعت سپریم کورٹ کی جانب سے کہاگیا تھاکہ قانون میں کنٹریکٹ پرتعینات کرنے کی گنجائش نہیں تاہم اگر کوئی افسرانتہائی ناگزیر ہے تو اس کی خدمات کنٹریکٹ پر حاصل کی جاسکتی ہیں لیکن اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ اس کی تقرری سے کسی اور افسر کی ترقی متاثر نہ ہو اور یہ مفاد عامہ کے لیے بھی ضروری ہو، سپریم کورٹ نے قراردیاہے کہ جن افسران کو مفاد عامہ کی آڑ میں کنٹریکٹ پر ملازمت دی گئی ہے ۔
ان کی افادیت کے سلسلے میں سمریاں عدالت کے روبرو پیش کی جائیں تاکہ مفاد عامہ کے معیارکی جانچ کی جاسکے۔ واضح رہے کہ صدرمملکت آصف علی زرداری کے دورہ حیدرآباد کے باعث چیف سیکریٹری کراچی میں دستیاب نہیں تھے تاہم ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے اپنی رائے ان کے دفتر کو ارسال کردی ہے۔