انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں تعیناتی کیلئے 15نام حکومت کو ارسال

نسیم منصور،شازیہ لطیف انڑ،راشدہ صدیقی،شاہدچانڈیو,عبدالنعیم میمن ودیگرکے نام شامل ہیں

ازخود نوٹس کے بعد ڈیڑھ سال میں 5ہزارشہری ٹارگٹ کلنگ ودہشتگردی کانشانہ بنے، ملزمان کیخلاف موثرکارروائی نہیں ہوئی، سپریم کورٹ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ نے کراچی میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 15جوڈیشل افسران کے نام حکومت کو بھیج دیے جن میں اکثریت خواتین کی ہے۔

کراچی بدامنی کیس کے دوران اکتوبر 2011کے بعدڈیڑھ سال کی مدت میں 5 ہزار کے قریب شہری دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کانشانہ بن چکے ہیں تاہم ملزمان کے خلاف کوئی موثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔چیف جسٹس افتخارچوہدری نے آبزروکیاہے کہ جب تک دہشت گردوں کے خلاف قانونی سطح پر موثرکارروائی نہیں ہوگی جرائم پیشہ عناصر کو ریاست کی جانب سے سخت پیغام نہیں ملے گا اور وہ اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے ،اس لیے قانون کودہشت گردی کیخلاف مزاحمت ( ڈیٹرنس)کرناچاہیے ۔

ان کی ہدایت پرعملی اقدام کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم نے دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کے خصوصی اختیارات دینے کیلیے حکومت سندھ کو15ایڈیشنل سیشن ججز کے نام بھیج دیے ہیں،سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق صوبہ سندھ کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں سب سے زیادہ 631 مقدمات زیر التواہیں۔


ان مقدمات میں عباس ٹاون کے قریب مولاحسن ترابی پر خود کش حملے ، سانحہ نشترپارک جیسے سالوں پرانے مقدمات زیر التواء ہیں اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سندھ ہائیکورٹ نے صوبے کی تاریخ کے سب سے زیادہ ججوں کو انسداد دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے اختیارات دیدیے ہیں ،رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کے مطابق ضلع وسطی سے ایڈیشنل سیشن ججز نسیم منصور،شازیہ لطیف انڑاور راشدہ صدیقی ،ضلع جنوبی سے ایڈیشنل سیشن ججز شاہد حسین چانڈیو،اکرام رحمانی،جلال الدین احمد اور طارق محمود کھوسو ،ضلع غربی سے ایڈیشنل سیشن ججز عرفان احمد میو،عبدالنعیم میمن اور مسز زاہدہ سکندر،ضلع ملیر سے ایڈیشنل سیشن ججز مسز صدف یوسف اور مسز منور سلطانہ ،ضلع شرقی سے ایڈیشنل سیشن جج مس آمنہ نذیر لغاری ،ندیم احمد خان اور مسز ثریا محبوب کے نام شامل ہیں۔



واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی کراچی میں ضیاء الحق دور میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے خصوصی عدالتیں( ایس ٹی اے ) 1975کے قانون کے تحت عدالتیں قائم کی تھیں جن کی تعداد تین تھی ، ان عدالتوںمیں الذوالفقار کے دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کی سماعت ہوئی ،بعدازاں نواز شریف دور میں فوجی عدالتیں قائم کی گئیں لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے انہیں غیر آئینی قرادیئے جانے کے بعد انسداد دہشت گردی ایکٹ مجریہ 1997کے تحت عدالتیں قائم کی گئیں ،اس قانون کے تحت کراچی میں 5عدالتیں قائم کی گئی تھیں، جن میں سے اس وقت صرف تین فعال ہیں ۔

دریں اثناء ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ وسیم احمد نے سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم سے ہفتہ کو ملاقات کی اور انہیں آگاہ کیا کہ انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے قیام کیلئے سندھ ہائیکورٹ سے ملحقہ بیرکس سندھ ہائی کورٹ کے حوالے کی جارہی ہیں جہاں 6نئی عدالتوں کے قیام کی گنجائش ہے، واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجربنچ نے جمعہ کو کراچی بد امنی (سانحہ عباس ٹائون)ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے موقع پر ہدایت کی تھی کراچی میں 15سے20نئی خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں اور روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کی جائے۔

Recommended Stories

Load Next Story