جب ہجوم زیادہ مشتعل ہوا تو پولیس بے بس ہوگئی اسد اشرف
پولیس کی نفری کم تھی،ملک ریاض،اسلام تمام مذاہب کے احترام کا درس دیتا ہے،مقامی علما.
تباہی کی ذمے دارحکومت ہے، ملزم کو خود پولیس کے حوالے کیا، متاثرین کی تکرار میں گفتگو فوٹو : فائل
مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی ملک ریاض نے کہا ہے کہ سانحہ بادامی باغ بہت افسوسناک ہے۔
مسیحی ہمارے پاکستانی بھائی ہیں، ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ ہفتے کو ایکسپریس نیوزکے پروگرام تکرار میں میزبان عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ پولیس کی نفری کم ہونے کی وجہ سے مشتعل افراد پر قابو نہیں پایا جاسکا، پولیس کو چاہیے تھا کہ وہ صبح سویرے آکر صورتحال پر قابو پالیتی لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔ ایم پی اے ڈاکٹر اسد اشرف نے کہا کہ ہمیں شک تھا کہ یہاں کوئی سنگین واقعہ ہوسکتا ہے، اس لیے پولیس نے متاثرین کو وہاں سے جانے کا کہاتھا۔
اللہ کا شکر ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جب ہجوم بہت زیادہ مشتعل ہوا تو پھر پولیس بے بس ہوگئی تھی۔ مقامی علما نے کہاکہ جب اس طرح کا کوئی معاملہ ہوتا ہے تو بہت سے شرپسند اپنے مقاصد کے لیے آجاتے ہیں، ان کا کام ہی شرپسندی پھیلانا ہوتا ہے۔ اسلام تمام مذاہب کے احترام کا درس دیتا ہے اور تمام انبیا کا احترام ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ یہ واقعہ انتہائی غیر قانونی اور غیر اسلامی ہے جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
ریاست کا فرض ہے کہ ہر شہری کے جان ومال کا تحفظ کرے، اس وقت پاکستان بہت مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ متاثرین نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو میں شکایا ت کے انبار لگا دیے۔ متاثرین نے بتایا کہ ہمیں پولیس نے خود کہا تھا کہ یہاں سے شفٹ ہوجائو کیونکہ جان ومال کو خطرہ ہے ۔اس لیے ہم صرف اپنی جانیں بچاکر ہی جانے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔ ہماری تباہی کی ذمے دارخود حکومت ہے کیونکہ جس وقت ہمارے گھروں کو آگ لگائی گئی اسوقت پولیس کی بھاری نفری موجودتھی جن میں ایس پی تک موجودتھے ۔ مسیحی برادری نے خود ملزم کو پولیس کے حوالے کیا تھا لیکن اس کے باوجود ایس ایچ او بادامی باغ نے کہاکہ میرے بس میں کچھ نہیں، تم لوگ اپنا دفاع کرو کیونکہ حالات بہت خراب ہیں۔
مسیحی ہمارے پاکستانی بھائی ہیں، ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ ہفتے کو ایکسپریس نیوزکے پروگرام تکرار میں میزبان عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ پولیس کی نفری کم ہونے کی وجہ سے مشتعل افراد پر قابو نہیں پایا جاسکا، پولیس کو چاہیے تھا کہ وہ صبح سویرے آکر صورتحال پر قابو پالیتی لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔ ایم پی اے ڈاکٹر اسد اشرف نے کہا کہ ہمیں شک تھا کہ یہاں کوئی سنگین واقعہ ہوسکتا ہے، اس لیے پولیس نے متاثرین کو وہاں سے جانے کا کہاتھا۔
اللہ کا شکر ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جب ہجوم بہت زیادہ مشتعل ہوا تو پھر پولیس بے بس ہوگئی تھی۔ مقامی علما نے کہاکہ جب اس طرح کا کوئی معاملہ ہوتا ہے تو بہت سے شرپسند اپنے مقاصد کے لیے آجاتے ہیں، ان کا کام ہی شرپسندی پھیلانا ہوتا ہے۔ اسلام تمام مذاہب کے احترام کا درس دیتا ہے اور تمام انبیا کا احترام ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ یہ واقعہ انتہائی غیر قانونی اور غیر اسلامی ہے جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
ریاست کا فرض ہے کہ ہر شہری کے جان ومال کا تحفظ کرے، اس وقت پاکستان بہت مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ متاثرین نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو میں شکایا ت کے انبار لگا دیے۔ متاثرین نے بتایا کہ ہمیں پولیس نے خود کہا تھا کہ یہاں سے شفٹ ہوجائو کیونکہ جان ومال کو خطرہ ہے ۔اس لیے ہم صرف اپنی جانیں بچاکر ہی جانے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔ ہماری تباہی کی ذمے دارخود حکومت ہے کیونکہ جس وقت ہمارے گھروں کو آگ لگائی گئی اسوقت پولیس کی بھاری نفری موجودتھی جن میں ایس پی تک موجودتھے ۔ مسیحی برادری نے خود ملزم کو پولیس کے حوالے کیا تھا لیکن اس کے باوجود ایس ایچ او بادامی باغ نے کہاکہ میرے بس میں کچھ نہیں، تم لوگ اپنا دفاع کرو کیونکہ حالات بہت خراب ہیں۔