دہشت گردوں کی کوئی منزل نہیں

بلاشبہ سیکیورٹی حکام نے دہشتگردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں

بلاشبہ سیکیورٹی حکام نے دہشتگردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں ۔ فوٹو : فائل

بلوچستان میں دہشت گردی تشویش کی ایک نئی لہر کے ساتھ نمودار ہوئی ہے جس میں بلاجواز ہلاکتوں کا مقصد صرف خوف و ہراس پھیلانا ہے ورنہ مزاحمتی تحریکوں میں کہاں بیگناہ شہریوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانا سیاسی کاز کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

جمعہ کو سریاب روڈ پر سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو اسی جنونی رد عمل کے تحت دھماکے سے اڑا دیا گیا جس کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد شہید اور زخمی ہوئے، شہید ہونیوالوں میں بچے بھی شامل تھے، سریاب روڈ کو قوم پرست بلوچ تنظیموں نے کلنگ ہب بنا لیا ہے، دہشت گرد عناصر اب تک سینکروں شہریوں کو ہلاک کر چکے ہیں، ہزارہ کمیونٹی بار بار نشانہ بنتی رہی، گزشتہ دنوں پنجاب سے تلاش روزگار کے لیے مزدور تربت میں روکے گئے۔

پہلے پندرہ بعد ازاں پانچ مزدوروں کی مزید لاشیں ملیں، ان بد قسمت محنت کشوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا لہٰذا بلوچستان کو ٹارگٹ کرنے کے داخلی و عالمی کنکشنز بہر حال نظر انداز نہیں کیے جا سکتے، سی پیک سے دشمن قوتیں حسد کی آگ میں جل رہی، پاکستان کے بدخواہ بدامنی، دہشتگردی، تخریب کاری اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعہ بلوچستان میں ترقی و خوشحالی، سیاسی رواداری، روزگار کی فراہمی، تعلیمی سرگرمیوں اور امن و امان کی بحالی کے جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں تاہم بلوچستان میں دہشتگردوں کے کامیاب سرچ آپریشن جاری ہیں۔


سیکیورٹی فورسز ذرائع کے مطابق خضدار کے علاقے کنڈ ہو اڈے کے قریب نصب طاقتور بم ناکارہ بنا دیا گیا، ڈیرہ بگٹی کے علاقے لوٹی میں شرپسندوں نے گیس پلانٹ کو جانیوالی 12انچ قطر کی گیس پائپ لائن کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا جس سے گیس پلانٹ کو گیس کی سپلائی بند ہو گئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے جمعہ کو ڈیرہ بگٹی اور سوئی کا دورہ کیا جہاں انھیں علاقے میں امن و امان او ر استحکام کے بارے میں بریفننگ دی گئی۔

اس موقع پر آئی جی ایف سی میجر جنرل ندیم انجم بھی موجود تھے۔ادھر پشاورکے پوش علاقہ حیات آباد میں الزرغونی مسجد اور اسپورٹس کمپلیکس کے درمیان روڈ پر خودکش دھماکا کے نتیجے میں ایڈیشنل آئی جی ہیڈکوارٹرز محمد اشرف نور جاں بحق جبکہ3 اہلکاروں سمیت7 افراد زخمی ہو گئے۔ محمد اشرف نور اس ماہ کے تیسرے پولیس آفیسر ہیں جنھیں دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا۔ ان سے قبل اسی ماہ کوئٹہ میں 2 پولیس آفیسرز کو شہیدکیا گیا۔

بلاشبہ سیکیورٹی حکام نے دہشتگردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں مگر یہ جنگ ابھی جیتنا باقی ہے، امن دشمنوں نے صوبائی حکومتوں کے عزم کو للکارا ہے لیکن ارباب اختیار کے لیے رہنما اصول یہی ہونا چاہیے کہ شورش پسندوں، کالعدم تنظیوں اور قوم پرست مزاحمت کاروں کی کوئی منزل نہیں، ان کے لیے ماسوائے بلاجواز قتل و غارت کے اور کوئی نظریہ نہیں جبکہ بلوچستان اور پختونخوا حکومتوں کے لیے دہشتگردوں کو کیفرکردار تک پہنچانا بنیادی قومی مشن ہونا چاہیے جس کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔

 
Load Next Story