دھرنے کا پرامن اختتام ایک پیش رفت
اب یہ راستہ کھل گیا ہے کہ آیندہ کوئی بھی گروہ مطالبات کے لیے نکلے گا اور اسٹیک ہولڈر کچھ نہیں کرپائیں گے
وزیر قانون کے استعفے پر ہی دھرنا ختم ہونا تھا تو یہ مطالبہ ابتدا میں ہی مان لینا چاہیے تھا،فوٹو: فائل
فیض آباد دھرنے کا اختتام جس افہام وتفہیم، خیرسگالی اور خوش اسلوبی سے ہوا ہے اس میں ارباب اختیار اور دھرنے کی قیادت سمیت وہ تمام عوامل اور دھرنے میں شریک ہزاروں مظاہرین توصیف کے لائق ہیں جن کی بروقت صلح جوئی پر اتفاق ایک خوش آیند پیش رفت سے بھی بڑھ کر ہے۔
حکومت اور دھرنا منتظمین کی قیادت نے سیاسی اصطلاح میں ناممکنات کو ممکن کر دکھایا، ملکی سلامتی، داخلی امن و استحکام، جمہوری عمل اور مذہبی اقدار واسلامی تعلیمات کے تناظر میں ایسا معاہدہ کیا جس کی ملک کو اشد ضرورت تھی،اس عمل کی صداقت اور عملیت پسندی کے حوالے سے بادی النظر میں بے شمار سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں جس میں حکومت کے ابتدائی سست اقدامات اور محتاط و نیم دلانہ طرزعمل کے باعث صورتحال گنجلک ہوتی چلی گئی، ورنہ مسئلہ کی ڈور کا سرا اولین مرحلہ میں پکڑا جاتا تو راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت ملک کے عوام اس اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہرگز نہ ہوتے۔
تاہم سیاسی و عسکری قیادت کے اس فیصلہ نے کہ فوج دارالحکومت میں سرکاری تنصیبات کی حفاظت پر مامور رہے گی، دھرنے کے خلاف آپریشن میں حصہ نہیں لے گی، بات چیت کے حتمی نتائج کا راستہ کھول دیا، جب کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ فوج اپنے ہی عوام کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرسکتی، ان کا کہنا تھا کہ ختم نبوتؐ ترمیم کے ذمے دار افراد کی نشاندہی کر کے انھیں سزا دی جانی چاہیے۔
ادھر وزیراعظم ہاؤس میں مشاورتی اجلاس میں وزیرداخلہ احسن اقبال، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیرداخلہ احسن اقبال نے ملکی داخلی صورتحال، دھرنا مظاہرین کے خلاف کارروائی اور گرفتاریوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔
اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کی ذمے داری پولیس اور سول سیکیورٹی اداروں کی ہے، انتظامیہ اور ضلعی پولیس کا کام ہے کہ وہ دھرنے والوں سے مذاکرات کریں اور مظاہرین کو پرامن طریقے سے منتشر کیا جائے۔
آرمی چیف نے کہا کہ بدامنی اور انتشار کی صورتحال ٹھیک نہیں، دنیا میں پاکستان کی ساکھ متاثر ہوگی، ہمیں متحد رہنا ہے۔ آرمی چیف نے یہ بھی تجویز دی کہ الیکٹرانک میڈیا پر پابندی ختم کی جائے اور صرف مخصوص حالات میں مختصر مدت کے لیے پابندی لگائی جائے۔ اس حقیقت سے بلاشبہ انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نیوز چینلز پر پابندی کا فیصلہ مناسب نہیں تھا، آج کوئی حقیقت چھپائی نہیں جاسکتی جب کہ میڈیا اپنے ذمے دارانہ کردار سے کبھی غافل نہیں رہا، شکر ہے چینلز بحال ہوئے۔
تاہم اہم پیش رفت یہ سامنے آئی کہ وزارت داخلہ نے ڈی جی رینجرز پنجاب کو فیض آباد دھرنا ختم کرانے کا ٹاسک دے کر تین دسمبر تک کی ڈیڈ لائن دی، جس کے مطابق ڈی جی رینجرز پنجاب میجر جنرل اظہر نوید حیات خان کو دھرنا کے خلاف آپریشن کا انچارج بنایا گیا۔ تحریک لبیک اور سنی تحریک سمیت 30 سے زائد اہلسنت تنظیموں نے پیر کو ملک گیرشٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی تھی جس سے ملک میں معمولات زندگی متاثر ہوئے، وکلاء نے بھی عدالتوںکے بائیکاٹ کا اعلان کیا جب کہ تعلیمی ادارے بھی بند رہے۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد استعفیٰ دے چکے ہیں۔
بہرکیف دھرنا منتظمین اور ان کی قیادت بھی پوائنٹ آف نو ریٹرن سے پہلے ممکنہ تشویش ناک اور اندوہ ناک حالات کا قدرے تحمل سے ادراک کرلیتی تو تاخیر سے افہام وتفہیم اور معاہدہ کی نوبت نہ آتی، تاہم انتظامی سطح پر جو بھی اعلانات ہوئے، اس میں پرامن رہنے اور مذاکرات میں خیر کا عنصر دیکھتے ہوئے دوطرفہ مفاہمت کی جیت ہوئی اور انتہائی دھماکا خیز صورتحال میں فریقین نے کمال تدبر ، دانشمندی، دور اندیشی کا مظاہرہ کیا۔
نیز ہمہ جہتی اور نتیجہ خیز مکالمہ کے ذریعہ حکومت پہلے سے کچھ سوچ بچار کرلیتی، باہمی مشاورت کا دائرہ کار مزید موثر بنالیا جاتا، بات اگر ختم نبوت ترمیم کے حساس معاملہ کی تھی اور ڈرافٹنگ میں سقم، دانستہ و شعوری لغزش یا مطالبات کا جلد تصفیہ ہوتا اور کسی ٹکراؤ کشیدگی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے دست وگریبان ہوئے بغیر مسئلہ کا حل ڈھونڈا جاتا تو اس سے بہتر متبادل اور کیا ہوسکتا تھا، لیکن اس کے باجود ایک ہیجانی صورتحال میں ایشو کی خاص حساسیت کے پیش نظر تنازع کا حل تلاش کیا جانا ایک غیر معمولی بریک تھرو تھا، اور اسے دیر آید درست آید کے مصداق اختیار کردہ دو طرفہ طرز عمل کے سیاق وسباق میں دانشمندانہ اقدام سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔
بہرحال وفاقی وزیر قانون کے استعفے پر ہی دھرنا ختم ہونا تھا تو یہ مطالبہ ابتدا میں ہی مان لینا چاہیے تھا۔ اب معاہدے کے تحت دھرنا ختم ہوا ہے تو پھر یہ راستہ کھول دیا گیا ہے کہ آیندہ کوئی بھی گروہ دھرنے یا احتجاج کی صورت میں اپنے مطالبات منوانے کے لیے نکلے گا اور اسٹیک ہولڈرز کچھ نہیں کرپائیں گے۔
حکومت اور دھرنا منتظمین کی قیادت نے سیاسی اصطلاح میں ناممکنات کو ممکن کر دکھایا، ملکی سلامتی، داخلی امن و استحکام، جمہوری عمل اور مذہبی اقدار واسلامی تعلیمات کے تناظر میں ایسا معاہدہ کیا جس کی ملک کو اشد ضرورت تھی،اس عمل کی صداقت اور عملیت پسندی کے حوالے سے بادی النظر میں بے شمار سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں جس میں حکومت کے ابتدائی سست اقدامات اور محتاط و نیم دلانہ طرزعمل کے باعث صورتحال گنجلک ہوتی چلی گئی، ورنہ مسئلہ کی ڈور کا سرا اولین مرحلہ میں پکڑا جاتا تو راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت ملک کے عوام اس اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہرگز نہ ہوتے۔
تاہم سیاسی و عسکری قیادت کے اس فیصلہ نے کہ فوج دارالحکومت میں سرکاری تنصیبات کی حفاظت پر مامور رہے گی، دھرنے کے خلاف آپریشن میں حصہ نہیں لے گی، بات چیت کے حتمی نتائج کا راستہ کھول دیا، جب کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ فوج اپنے ہی عوام کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرسکتی، ان کا کہنا تھا کہ ختم نبوتؐ ترمیم کے ذمے دار افراد کی نشاندہی کر کے انھیں سزا دی جانی چاہیے۔
ادھر وزیراعظم ہاؤس میں مشاورتی اجلاس میں وزیرداخلہ احسن اقبال، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیرداخلہ احسن اقبال نے ملکی داخلی صورتحال، دھرنا مظاہرین کے خلاف کارروائی اور گرفتاریوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔
اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کی ذمے داری پولیس اور سول سیکیورٹی اداروں کی ہے، انتظامیہ اور ضلعی پولیس کا کام ہے کہ وہ دھرنے والوں سے مذاکرات کریں اور مظاہرین کو پرامن طریقے سے منتشر کیا جائے۔
آرمی چیف نے کہا کہ بدامنی اور انتشار کی صورتحال ٹھیک نہیں، دنیا میں پاکستان کی ساکھ متاثر ہوگی، ہمیں متحد رہنا ہے۔ آرمی چیف نے یہ بھی تجویز دی کہ الیکٹرانک میڈیا پر پابندی ختم کی جائے اور صرف مخصوص حالات میں مختصر مدت کے لیے پابندی لگائی جائے۔ اس حقیقت سے بلاشبہ انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نیوز چینلز پر پابندی کا فیصلہ مناسب نہیں تھا، آج کوئی حقیقت چھپائی نہیں جاسکتی جب کہ میڈیا اپنے ذمے دارانہ کردار سے کبھی غافل نہیں رہا، شکر ہے چینلز بحال ہوئے۔
تاہم اہم پیش رفت یہ سامنے آئی کہ وزارت داخلہ نے ڈی جی رینجرز پنجاب کو فیض آباد دھرنا ختم کرانے کا ٹاسک دے کر تین دسمبر تک کی ڈیڈ لائن دی، جس کے مطابق ڈی جی رینجرز پنجاب میجر جنرل اظہر نوید حیات خان کو دھرنا کے خلاف آپریشن کا انچارج بنایا گیا۔ تحریک لبیک اور سنی تحریک سمیت 30 سے زائد اہلسنت تنظیموں نے پیر کو ملک گیرشٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی تھی جس سے ملک میں معمولات زندگی متاثر ہوئے، وکلاء نے بھی عدالتوںکے بائیکاٹ کا اعلان کیا جب کہ تعلیمی ادارے بھی بند رہے۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد استعفیٰ دے چکے ہیں۔
بہرکیف دھرنا منتظمین اور ان کی قیادت بھی پوائنٹ آف نو ریٹرن سے پہلے ممکنہ تشویش ناک اور اندوہ ناک حالات کا قدرے تحمل سے ادراک کرلیتی تو تاخیر سے افہام وتفہیم اور معاہدہ کی نوبت نہ آتی، تاہم انتظامی سطح پر جو بھی اعلانات ہوئے، اس میں پرامن رہنے اور مذاکرات میں خیر کا عنصر دیکھتے ہوئے دوطرفہ مفاہمت کی جیت ہوئی اور انتہائی دھماکا خیز صورتحال میں فریقین نے کمال تدبر ، دانشمندی، دور اندیشی کا مظاہرہ کیا۔
نیز ہمہ جہتی اور نتیجہ خیز مکالمہ کے ذریعہ حکومت پہلے سے کچھ سوچ بچار کرلیتی، باہمی مشاورت کا دائرہ کار مزید موثر بنالیا جاتا، بات اگر ختم نبوت ترمیم کے حساس معاملہ کی تھی اور ڈرافٹنگ میں سقم، دانستہ و شعوری لغزش یا مطالبات کا جلد تصفیہ ہوتا اور کسی ٹکراؤ کشیدگی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے دست وگریبان ہوئے بغیر مسئلہ کا حل ڈھونڈا جاتا تو اس سے بہتر متبادل اور کیا ہوسکتا تھا، لیکن اس کے باجود ایک ہیجانی صورتحال میں ایشو کی خاص حساسیت کے پیش نظر تنازع کا حل تلاش کیا جانا ایک غیر معمولی بریک تھرو تھا، اور اسے دیر آید درست آید کے مصداق اختیار کردہ دو طرفہ طرز عمل کے سیاق وسباق میں دانشمندانہ اقدام سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔
بہرحال وفاقی وزیر قانون کے استعفے پر ہی دھرنا ختم ہونا تھا تو یہ مطالبہ ابتدا میں ہی مان لینا چاہیے تھا۔ اب معاہدے کے تحت دھرنا ختم ہوا ہے تو پھر یہ راستہ کھول دیا گیا ہے کہ آیندہ کوئی بھی گروہ دھرنے یا احتجاج کی صورت میں اپنے مطالبات منوانے کے لیے نکلے گا اور اسٹیک ہولڈرز کچھ نہیں کرپائیں گے۔